صحيح مسلم
كتاب اللقطة— کسی کو ملنے والی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو
باب الضِّيَافَةِ وَنَحْوِهَا: باب: مہمان داری کا بیان۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جميعا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّه سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے، اور جو اللہ اور پچھلے دن پر یقین رکھتا ہے، تو وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے، اور جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموشی اختیار کرے۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ ، قَالُوا : وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " .لیث نے سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کی، تو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کو، جو پیش کرتا ہے، اس کو لائق عزت بنائے۔“ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کو جو پیش کیا جائے، وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے ایک دن اور ایک رات کا اہتمام اور مہمان نوازی تین دن ہے، جو اس سے زائد ہے وہ اس پر صدقہ ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ ؟ ، قَالَ : يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْءَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ " ،وکیع نے کہا: ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے سعید بن ابی سعید مقبری سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہمان نوازی تین دن ہے اور خصوصی اہتمام ایک دن اور ایک رات کا ہے اور کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاں (ہی) ٹھہرا رہے حتی کہ اسے گناہ میں مبتلا کر دے۔“ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے گناہ میں کیسے مبتلا کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”وہ اس کے ہاں ٹھہرا رہے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو جس سے وہ اس کی میزبانی کر سکے (تو وہ غلط کام کے ذریعے سے اس کی میزبانی کا انتظام کرے)۔“
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَبَصُرَ عَيْنِي ، وَوَعَاهُ قَلْبِي حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَذَكَرَ فِيهِ : وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ ، بِمِثْلِ مَا فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ .حضرت ابو شریح خزاعی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو فرمائی، آگے لیث کی حدیث نمبر 1 کی طرح بیان کیا اور اس میں وکیع کی حدیث نمبر 2 کی طرح یہ بیان کیا، ”تم میں سے کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کے ہاں اس قدر ٹھہرے کہ اس کو گناہ گار کر دے۔‘‘