کتابتِ حدیث کی ممانعت والی روایات کی تحقیق اور درست مفہوم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

منکرین حدیث کے شبہات اور ان کے جوابات

گزشتہ ابواب میں بھی ان کے بعض شبہات کے جوابات دیے گئے ہیں لیکن اس باب میں مفصل جوابات دیے جا رہے ہیں تا کہ قرآن وسنت سے واقفیت نہ رکھنے والے حضرات ان کی تلبیسات و تحریفات سے بچ جائیں۔ منکرین حدیث کے شبہات درج ذیل ہیں:

پہلا شبہ : کتابت حدیث کی ممانعت کے متعلق روایات

منکرینِ حدیث نے اس اعتراض کو بہت اچھالا ہے اور اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے ان احادیث کو بیان نہ کر کے علمی خیانت کی ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ حفاظت حدیث بذریعہ کتابت حدیث کے بارے میں ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ منکرین حدیث کتابت حدیث کی ممانعت کے سلسلے میں درج ذیل حدیث کا سہارا لیتے ہیں کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لا تكتبوا عني، ومن كتب عني غير القرآن فليمحه، وحدثوا عني، ولا حرج، ومن كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار“
”قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ نہ لکھو۔ جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ لکھا ہے تو وہ اسے مٹا دے۔ اور مجھ سے حدیثیں بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ (سن لو) جس نے قصدا مجھ پر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“
صحيح مسلم، الزهد، باب التثبت في الحديث، حديث: 3004
دوسری جگہ یہ حدیث یوں ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بیٹھے رہتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنتے تھے وہ لکھ لیتے تھے۔ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے:
”لما هذا تكتبون؟“ فقلنا : ما نسمع منك، فقال: ”أكتاب مع كتاب الله؟ أمحضوا كتاب الله وأخلصوه“
”تم یہ کیا لکھتے ہو؟ ہم نے عرض کیا: ہم آپ سے جو سنتے ہیں (وہ لکھ لیتے ہیں۔) آپ نے فرمایا: ”کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ کوئی دوسری کتاب؟ صرف اور صرف اللہ کی کتاب ہی کو خالص طور پر لکھو۔“
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے جو کچھ لکھا تھا اسے ایک میدان میں جمع کیا اور پھر اسے جلا دیا۔
مسند أحمد: 12/3 حديث: 11108 ، ومجمع الزوائد العلم، باب كتابة العلم، حديث : 672
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم احادیث لکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا:
”اما هذا الذى تكتبون؟“ قلنا: أحاديث نسمعها منك قال: ”كتاب غير كتاب الله، أتدرون ما ضل أمم قبلكم إلا بما اكتبوا من الكتب مع كتاب الله“
”یہ تم کیا لکھ رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: یہ وہ احادیث ہیں جو ہم آپ سے سنتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب کے علاوہ کوئی اور کتاب؟ کیا تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے لوگ بھی صرف اسی وجہ سے گمراہ ہوئے کہ انھوں نے اللہ کی کتاب کے ساتھ اور کتابیں بھی لکھ لی تھیں۔“
تقييد العلم للخطيب بغدادي: 34,33/1
منکرین حدیث انھی روایات کو بنیاد بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے احادیث لکھنے سے منع کیا اور فرمایا: احادیث محفوظ نہ کی جائیں کہ کہیں لوگ احادیث کو قابل حجت نہ سمجھنے لگیں۔

جوابات

➊ اگر مذکورہ احادیث سے کتابت حدیث کی ممانعت ثابت ہوتی ہے تو پھر ایسی احادیث بھی موجود ہیں جن سے کتابت حدیث کے متعلق اجازت ثابت ہوتی ہے۔ اس طرح کتابت احادیث کی اجازت اور عدم اجازت کے بارے میں اختلاف پیدا ہو گیا، لہذا اب اہل علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تعارض کو ختم کرنے کی کوشش کریں، چنانچہ اہل علم نے ایسا کیا ہے جس کا ذکر آ رہا ہے۔ منکرینِ حدیث صرف پہلی قسم (عدم اجازت) کی احادیث دیکھتے ہیں اور دوسری قسم (اجازت) کی احادیث کا نام تک نہیں لیتے۔ یہ تو سراسر علمی خیانت ہے۔
➋ جب منکرین حدیث احادیث کو حجت نہیں مانتے تو پھر احادیث کی کتابت سے ممانعت ثابت کرنے کے لیے احادیث سے کیوں استدلال کرتے ہیں؟
➌ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے موقوف قرار دیا ہے۔
تاریخ الحدیث و المحدثين، ص : 212
جبکہ احادیث لکھنے کی اجازت والی احادیث مرفوع ہیں تو پھر مرفوع حدیث چھوڑ کر موقوف روایت سے کیوں استدلال کرتے ہیں؟
➍ بالفرض دونوں قسم کی احادیث مساوی حیثیت رکھتی ہیں تو پھر منکرین حدیث کے خیال کے مطابق یہ نتیجہ کیسے مرتب ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت حدیث سے اس لیے منع کیا تھا کہ احادیث غیر محفوظ رہ کر قابل حجت نہ رہیں بلکہ کتابت سے ممانعت کی دوسری حکمتیں مراد تھیں جو بعد میں بیان کی جائیں گی۔
➎ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے آخر میں ہے۔
”حدثوا عني ولا حرج“
”مجھ سے حدیث بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں۔“
صحیح مسلم، الزهد، باب التثبت في الحديث، حدیث : 3004
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی احادیث نقل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا امت کا فریضہ ہے اگر کتابت حدیث کی ممانعت کا وہی مقصد ہوتا جو منکرینِ حدیث پیش کرتے ہیں تو پھر اس حدیث کے اول حصے اور آخری حصے میں تناقض اور تضاد لازم آتا ہے جبکہ تناقض کلام دیوانگی کی علامت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام اس سے مبرا ہے۔
➏ جب کسی روایت میں تعارض ہو تو محدثین کرام ان روایات میں جمع و تطبیق کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کوئی نص مہمل نہ رہے۔ محدثین نے یہاں بھی تین قسم کی توجیہات پیش کی ہیں۔ پہلی توجیہ امام خطابی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے:
”إنه إنما نهى أن يكتب الحديث مع القرآن فى صحيفة واحدة لئلا يختلط به ويشبه على القاري فأما أن يكون نفس الكتاب محظورا وتقييد العلم بالخط منهيا عنه فلا“
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کو قرآن کے ساتھ ایک ہی صفحے پر ایک ساتھ لکھنے سے منع فرمایا تا کہ قاری کسی اختلاط و اشتباہ کا شکار نہ ہو جائے۔ رہا حدیث کو لکھنے اور علم کو تحریر میں لانے کی ممانعت کا تعلق تو ایسی کوئی بات نہیں۔“
معالم السنن للخطابي، العلم، باب كتابة العلم، تحت الحديث: 1450
یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت حدیث سے مطلقاً منع نہیں فرمایا بلکہ قرآن و حدیث کو ایک ساتھ ایک جگہ لکھنے سے منع فرمایا تا کہ یہ دونوں آپس میں خلط ملط نہ ہو جائیں۔ اس توجیہ کی دلیل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”أمحضوا كتاب الله وأخلصوه“
”اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اختلاط سے پاک خالص رکھو۔“
مسند أحمد : 12/3 ، ومجمع الزوائد: 151/1 ، حدیث : 672
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ احادیث کی کتابت سے ممانعت کی وجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بیان فرما دی۔ اس توجیہ کی تردید کرتے ہوئے پرویز صاحب نے لکھا ہے:
اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقصد ہوتا کہ قرآن و حدیث مخلوط نہ ہونے پائیں تو آپ فرما سکتے تھے کہ دونوں کو الگ الگ لکھو، لہذا محدثین کی توجیہ صحیح نہیں۔
مقام حدیث ، ص : 89
پرویز صاحب کا یہ کلام بالکل جہالت پر مبنی ہے۔ محدثین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا صحیح مطلب بیان کیا ہے، اس لیے کہ ”أمحضوا كتاب الله وأخلصوه“ اللہ کی کتاب کو اختلاط سے خالص اور محفوظ رکھنے والا فرمان اس کی واضح دلیل ہے۔
دوسری توجیہ: احادیث لکھنے سے ممانعت کے متعلق احادیث منسوخ ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث قرطاس کے نام سے مشہور حدیث میں مرض الموت کی حالت میں فرمایا تھا: کوئی چیز لاؤ کہ میں تمھارے لیے کچھ لکھ دوں، پھر صحابہ کرام کے اختلاف کی وجہ سے نہ لکھا گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ لکھوانا تھا وہ زبان مبارک سے ارشاد فرما دیا۔
صحيح البخاري العلم، باب كتابة العلم، حديث: 114
تیسری توجیہ: یہ توجیہ بھی دوسری توجیہ کے قریب ہے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کتابت حدیث سے منع فرمایا لیکن بعض صحابہ نے خیال کیا کہ اس وجہ سے منع فرمایا کہ کبھی آپ غصہ وغضب کی حالت میں ہوتے ہیں اور اس حالت کی حدیث شاید آپ کے اسوہ حسنہ میں شامل نہ ہو لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو درج ذیل ارشاد فرما کر اس خیال کا بھی ازالہ فرما دیا:
”اكتب فوالذي نفسي بيده! ما يخرج منه إلا حق“
”لکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس منہ سے صرف حق ہی نکلتا ہے۔“
سنن أبي داود العلم باب كتابة العلم، حدیث: 3646

طلوع اسلام کا کتابت حدیث کے متعلق اعتراف

پرویز صاحب نے لکھا ہے: ”روایات سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ کچھ متفرق چیزیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق قلم بند ہوئی تھیں، مثلاً : وہ تحریری معاہدات، احکام اور فرامین وغیرہ جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل یا اپنے عمال کے نام بھیجے لیکن اس باب میں جو کچھ آج تک معلوم ہو سکا فقط اتنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حسب ذیل تحریری سرمایہ موجود تھا:
➊ پندرہ سو صحابہ کے نام ایک رجسٹر میں (بخاري، الجهاد، باب كتابة الإمام الناس)
➋ مکتوبات گرامی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلاطین اور امراء کے نام لکھے: (مختلف صحاح کتب) کچھ حدیثیں جو عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما ( بخاری، العلم، باب كتابة العلم) یا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے طور پر قلم بند کر رکھی تھیں ۔ (مسند احمد)
مقام حدیث، ص : 10
حافظ اسلم لکھتے ہیں: ”محدثین نے جو از روایت کے لیے بعض روایتوں سے بھی استدلال کیا ہے، مثلاً : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ میں جو کچھ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا تھا لکھ لیا کرتا تھا، نیز عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بھی انجنا کے متعلق بھی ان کا بیان ہے کہ وہ لکھا کرتے تھے۔ اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ یمن کے ایک شخص ابو شاہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ لکھوانے کی درخواست کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا دیا۔ مگر یہ چیزیں مستثنیات میں شمار ہوں گی۔“
مقام حدیث ، ص : 91
دیکھیں استاد نے صرف تین چیزیں مستقل کی ہیں اور یہ تعداد غلط ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت نہیں کہ ”میں سنتا تھا اور لکھتا تھا“ یہ حافظ اسلم کی طرف سے اپنا اضافہ ہے، لہذا دو چیزیں مستقل ہوئیں۔ جبکہ شاگرد (پرویز) نے پندرہ سو صحابہ کا اندراج، تحریری معاہدات اور فرامین وغیرہ، نیز عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، علی رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ بھی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شمار کی ہیں۔ یہاں استاد اور شاگرد کے درمیان بھی اختلاف پیدا ہو گیا۔ یہ ان کی ہٹ دھرمی اور نحوست انکار حدیث کا برا اثر ہے۔