مکہ مکرمہ میں رہائش کی فضیلت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ۖ وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ . وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَىٰ عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ.﴾
”اور جب ہم نے خانہ کعبہ کو بنایا لوگوں کے لیے (بار بار) لوٹنے (اجتماع) کی جگہ اور امن کی جگہ۔ اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔ اور ہم نے حکم دیا ابراہیم اور اسماعیل کو کہ وہ میرا گھر پاک رکھیں طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں کے لیے، اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے۔ اور جب ابراہیم نے کہا، اے میرے پروردگار، تو اس جگہ کو امن والا شہر بنا، اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں۔ پھلوں کی روزیاں دے۔ (اللہ نے) فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائدہ دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے۔“
(2-البقرة:125)
اور ابو مسلم بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کہ آپ مکہ کے بازار حذورہ میں کھڑے تھے، فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کی قسم! بے شک تو (مکہ مکرمہ) اللہ کی تمام زمین سے افضل ہے اور اللہ کی تمام زمین سے اللہ کو زیادہ پیارا ہے۔ اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا۔“
مسند احمد: 305/3۔ شیخ شعیب نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔