مدینہ منورہ میں رہائش کا ثواب
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! لوگوں کو معلوم ہو کہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے (اگر) کوئی شخص اسے بے رغبت ہو کر چھوڑ دے گا، اللہ تعالیٰ اس میں اس سے بہتر آدمی بسا دے گا، اور جو شخص اس کی تنگی اور مشقت پر ثابت قدم رہے گا، قیامت کے روز میں اس کا سفارشی اور گواہ ہوں گا۔“
ایک اور روایت میں ہے ”جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، تو اللہ اس کو سیسے کے پگھلنے کی طرح یا نمک کے حل ہو جانے کی طرح آگ میں پگھلائے گا۔“
صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل المدينة، رقم: 1363/459.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف و شدت پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کا سفارشی اور گواہ ہوں گا۔“
صحیح مسلم، کتاب الحج، رقم: 1378/484.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان مدینہ منورہ میں ایسے سمٹ جائے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ جاتا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب فضائل المدينة، رقم: 1876.
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اللهم اجعل بالمدينة ضعفي ما جعلت بمكة من البركة.
”اے اللہ! جتنی مکہ میں برکت عطا فرمائی ہے مدینہ میں اس سے دوگنی برکت عطا کر۔“
صحیح بخاری، کتاب فضائل المدينه، رقم: 1885.
اور زید بن اسلم اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی:
اللهم ارزقني شهادة فى سبيلك، واجعل موتي فى بلد رسولك.
”اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب فرما۔ اور میری موت اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر میں مقدر کر دے۔“
صحیح بخاری، کتاب فضائل المدينة، رقم: 1890.
فائدہ:
”اللہ عظیم و برتر نے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں کہ ان کو موت بھی شہادت کی ملی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرہ مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دفن ہوئے، اس طرح آپ کی دوسری خواہش بھی پوری ہو گئی۔“