قربانی کے جانور کی عمر صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

قربانی کے جانور کی عمر

قربانی کے جانور کی عمر کے سلسلے میں توفیق الہی سے ذیل میں پانچ باتیں پیش کی جا رہی ہیں:
➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو قربانی کے لیے دو دانتا جانور ذبح کرنے کی تلقین فرمائی۔ امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن“
”دو دانت والے کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی نہ کرو، ہاں اگر دشواری پیش آ جائے تو دو دانت سے کم عمر کا دنبہ بھی ذبح کر لو۔“
صحيح مسلم، كتاب الأضاحي باب من الأضحية، رقم الحديث 13 (1963) 1555/3
➋ مذکورہ بالا حدیث سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ دقت اور دشواری کی حالت میں دو دانت سے کم عمر والا بھیڑ دنبے کا بچہ بطور قربانی ذبح کیا جا سکتا ہے، البتہ سوال یہ ہے کہ آیا عام حالات میں ایسے کم عمر والے جانور کی قربانی جائز ہے؟
اس سوال کا جواب معلوم کرنے کی غرض سے ذیل میں تین احادیث شریفہ درج کی جا رہی ہیں:
⟐ امام نسائی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”ضحينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بجذع من الضأن“
”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو دانتوں سے کم عمر والے دنبہ کی قربانی دی۔“
سنن النسائي، كتاب الضحايا، المسنة والجذعة، 219/7. حافظ ابن حجر نے اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے۔ (فتح الباری 10/10)، شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: سنن النسائي 915/3).
⟐ امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے حضرت کلیب سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے ہمراہ تھے، جو بنو سلیم میں سے تھے اور جنہیں مجاشع رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، بکریوں کی قلت ہوئی ، تو انہوں نے ایک منادی والے کو حکم دیا ، تو اس نے اعلان کیا:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: ”إن الجذع يوفي مما يوفى منه الثني“
”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاں دو دانت والا جانور کافی ہے وہاں دو دانت سے کم عمر والا بھیڑ کا بچہ بھی کافی ہے۔“
سنن أبی داود کتاب الضحايا، باب ما يجوز في الضحايا من السين، رقم الحديث 206/2،2796؛ وسنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، ما تجزىء في الأضاحي، رقم الحديث 306/2،3178 الفاظ حدیث سنن ابی داؤد کے ہیں ۔ شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود 538/2 وصحیح سنن ابن ماجه 202/2).
⟐ امام احمد نے حضرت ام بلال رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”ضحوا بالجذع من الضأن فإنه جائز“
”بھیڑ کے دو دانت سے کم عمر والے بچے [جذع] کی قربانی کرو کیونکہ وہ [یعنی اس کی قربانی] جائز ہے۔“
الفتح الرباني في ترتيب مسند الإمام أحمد، أبواب الأضحية، باب السن الذي يجزىء في الأضحية، 74/13 – حافظ ہیثمی نے تحریر کیا ہے: اسے احمد اور طبرانی نے (المعجم) الکبیر میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں ۔ (مجمع الزوائد 19/4)
مذکورہ بالا تینوں احادیث شریفہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عام حالات میں بھی جب کہ دو دانت والے جانور کا ملنا دشوار یا مشکل نہ ہو، دو دانت سے کم عمر والے بھیڑ کے بچے [جو کہ جذع ہو] کی قربانی کرنا درست ہے۔
➌ مذکورہ بالا احادیث شریفہ کی بنا پر جمہور علمائے امت کی رائے میں نمبر میں بیان کردہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مراد یہ ہے کہ دو دانت والے جانور کی قربانی کرنا افضل ہے۔ حافظ ابن حجر اس بارے میں رقم طراز ہیں:
نقل النووى عن الجمهور أنهم حملوه على الأفضل، والتقدير: يستحب لكم أن لا تذبحوا إلا مسنة، فإن عجزتم فاذبحوا جذعة من الضأن
”نووی نے جمہور علمائے امت سے نقل کیا ہے، کہ انہوں نے اس حدیث کو افضل پر محمول کیا ہے [دو دانت والے جانور کی قربانی کرنا افضل ہے] اور حدیث کا معنی یہ ہوگا: تمہارے لیے مستحب یہ ہے، کہ تم دو دانت والے جانور ہی کی قربانی کرو اور اگر ایسے جانور کی قربانی کرنا تمہارے بس میں نہ ہو، تو بھیٹر کے دو دانت سے کم عمر والے بچے [ جذع ] کی قربانی کرو۔“
فتح الباری 15/10؛ نیز ملاحظہ ہو: کتاب المجموع 294/8 – 295 ، اسی بات کو علامہ شوکانی شیخ عظیم آبادی، شیخ مبارکپوری اور شیخ احمد البنا نے پسند کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: نيل الأوطار 204/5؛ وعون المعبود 3550/7؛ وتحفة الأحوذي 71/5؛ وبلوغ الأماني (72/13)
➍ دو دانت سے کم عمر والے جانور [جذع] کے متعلق ضروری بات یہ ہے کہ یہ اجازت صرف دنبہ اور بھیڑ کے بچوں کے ساتھ مخصوص ہے، دیگر جانوروں، بکری وغیرہ کے اس عمر کے بچوں کی قربانی کرنا درست نہیں۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
”ضحى خال لي يقال له أبو بردة قبل الصلاة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: شاتك شاة لحم.
فقال: يا رسول الله إن عندي داجنا جذعة من المعز.
قال: اذبحها ولا تصلح لغيرك“

”میرے ماموں جنہیں ابو بردہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا نے نماز [عید] سے پہلے قربانی کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہاری بکری تو گوشت کی بکری ہے۔
انہوں نے عرض کیا: میرے پاس بکری کا دو دانت والے سے کم عمر کا پالتو بچہ ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تو اسی کی قربانی کر لو لیکن کسی اور کے لیے ایسا کرنا درست نہیں۔“
متفق علیہ : صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب قول النبي ﷺ لأبي بردة رضی اللہ عنہ : ضح بالجذع من المعز ۔۔۔ جزء من رقم الحديث 82/10،5556؛ وصحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب وقتها، رقم الحديث 4 – (1961)، 1552/3. الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
”وليست فيها رخصة لأحد بعدك“
”تیرے بعد کسی اور کے لیے اس [یعنی بکری کے دو دانت سے کم عمر کے بچے کو بطور قربانی ذبح کرنے] کی رخصت نہیں۔“
منقول از : فتح الباري 14/10 .
➎ بھیڑ کے دو دانت سے کم عمر والے جس بچے [جذع] کو بطور قربانی ذبح کرنے کی اجازت ہے اس کی عمر کتنی ہوگی؟ اس بارے میں مختلف آراء ہیں۔ بعض علماء نے ایک سال مدت بتلائی ہے، بعض نے چھ ماہ، بعض نے سات ماہ اور بعض نے ان سے مختلف دیگر آراء پیش کی ہیں۔ امام نووی فرماتے ہیں:
”ثم الجذع ما استكمل سنة على أصح الأوجه“
”جذع کی عمر کے بارے میں سب سے زیادہ درست بات یہ ہے کہ اس کی عمر ایک سال پوری ہو چکی ہو۔“
كتاب المجموع 293/8.
حافظ ابن حجر [جذع] کی عمر کے بارے میں رقم طراز ہیں:
”فمن الضأن ما أكمل السنة وهو قول الجمهور“
”جمہور کے قول کے مطابق بھیڑ میں سے [جذع] وہ ہے جس نے اپنی عمر کا ایک سال مکمل کر لیا ہو۔“
فتح الباري 5/10.