شہادت کے شوق میں مجاہد نے کھجوریں پھینک دیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن أنس بن مالك قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بسيسة عينا ينظر ما صنعت عير أبى سفيان فجاء وما فى البيت غيري وغير رسول الله صلى الله عليه وسلم (قال ما أدري ما استثنى بعض نسائه) قال فحدث الحديث قال فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فتكلم فقال إن لنا طلبة فمن كان ظهره حاضرا فليركب معنا فجعل الرجال يستأذنونه فى ظهرانيهم فى علو المدينة فقال لا إلا من كان ظهره حاضرا فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه حتى سبقوا المشركين إلى بدر وجاء المشركون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يقدمن أحد منكم إلى شيء حتى أكون أنا دونه فدنا المشركون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم قوموا إلى جنة عرضها السموات والأرض قال يقول عمير بن الحمام الأنصاري يا رسول الله جنة عرضها السموات والأرض قال نعم، قال بخ بخ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يحملك على قولك بخ بخ قال لا والله يا رسول الله إلا رجاءة أن أكون من أهلها قال فإنك من أهلها فأخرج تمرات من قرنه فجعل يأكل منهن ثم قال لئن حييت حتى آكل تمراتي هذه إنها لحياة طويلة قال فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل.
”انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ (ایک صحابی کا نام ہے) کو جاسوس بنا کر بھیجا وہ ابوسفیان کے قافلے کی خبر لائے، جب وہ آیا تو (انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) اس وقت گھر میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کا ذکر کیا، پھر حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور فرمایا: ”ہمیں کام ہے، جس کی سواری حاضر ہے وہ ہمارے ساتھ (اپنی سواری پر) سوار ہو جائے۔ “ بعض لوگوں نے اجازت چاہی کہ ہماری سواریاں مدینہ کے بلندی والے علاقے میں ہیں، وہاں سے لے آئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں صرف وہی لوگ چلیں جن کی سواریاں (فی الوقت) حاضر ہیں۔ “ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے پہلے بدر پہنچ گئے، پھر مشرکین بھی آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف آگے نہ بڑھے، جنگ میں مجھ سے آگے نہ ہو۔ “ پھر مشرک قریب پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ! اس جنت کی طرف (جانے کے لیے) کھڑے ہو جاؤ جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے۔ “ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمیر بن حمام انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔ “ اس (عمیر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”واہ واہ۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں واہ واہ کہنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”کچھ نہیں یا رسول اللہ! میں نے تو صرف اس امید سے کہا کہ امید ہے میں بھی جنت والوں میں سے ہو جاؤں۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو جنتیوں میں سے ہے۔ “ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر اس (عمیر رضی اللہ عنہ) نے اپنی ترکش میں سے چند کھجوریں نکالیں اور انہیں کھانے لگا، پھر کہا: ”اگر میں اپنی یہ کھجوریں کھانے تک جیوں تو یہ زندگی تو بہت لمبی ہو جائے گی۔ “ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں انہوں نے وہ کھجوریں پھینک دیں پھر مشرکین سے لڑا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔ “
( صحیح بخاری ومسلم) (رواہ مسلم، کتاب الإمارة، باب ثبوت الجنة للشہید، الرقم: 1901)

فوائد مستنبطہ

➊ دشمن کے حالات پر نظر رکھنے کے لیے جاسوسی کرنا جائز ہے۔
➋ امیر اگر لڑائی کے معاملے کو چھپاتا ہے تاکہ لڑائی کی خبر فاش نہ ہو اور نقصان نہ پہنچے تو یہ بھی جائز بلکہ افضل و بہتر ہے۔
➌ لڑائی کے وقت شہادت کے لیے دشمن کی صفوں میں گھس جانا بھی جائز ہے۔
➍ جنگ میں امیر جو حکم دیتا ہے اس کی بجا آوری کرنی چاہیے۔
➎ شہادت کا شوق دلانے کا جواز: حدیث مذکور سے امیر لشکر کے اپنے ساتھیوں کو شہادت کا شوق دلانے کا جواز ملتا ہے۔