شراب کی تجارت، ہدیہ اور مجلس کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

شراب کی تجارت :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی یا زیادہ مقدار میں شراب پینے کو ہی حرام نہیں ٹھہرایا بلکہ اس کی تجارت کو بھی حرام قرار دیا اگرچہ یہ تجارت غیر مسلموں کے ساتھ کی جائے۔ لہذا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ شراب کی درآمد و برآمد کا کاروبار کرے یا شراب خانہ کھول کر بیٹھ جائے یا اس میں ملازمت کرنے لگ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے سلسلہ میں دس افراد پر لعنت فرمائی ہے :
لعن النبى صلى الله عليه وسلم فى الخمر عشرة : عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له
”شراب نچوڑنے والا، نچڑوا لینے والا، پینے والا، اٹھانے والا، وہ جس کے لیے اٹھا کر لے جائی جائے، پلانے والا، فروخت کرنے والا، اس کی قیمت کھا جانے والا، خریدنے والا اور وہ جس کے لیے خریدی جائے ان سب پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔“
ترمذي، کتاب البيوع، باب النھي أن يتخذ الخمر خلا، ح : 1295۔ ابن ماجہ، کتاب الأشربة، باب لعنت الخمر علی عشرة، ح : 3381
جب سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت جس میں شراب کی حرمت بیان ہوئی ہے نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الله حرم الخمر فمن أدركته هذه الآية وعنده منها شيء فلا يشرب ولا يبع
”اللہ نے شراب حرام کر دی ہے۔ لہذا جس شخص تک یہ حکم پہنچ جائے اور اس کے پاس شراب موجود ہو تو وہ اسے نہ پیے اور نہ فروخت کرے۔“
مسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم بيع الخمر، ح: 1578 باختلاف يسير
راوی کہتے ہیں کہ جن لوگوں کے پاس شراب موجود تھی اس کو انہوں نے مدینہ کے راستوں پر بہا دیا۔ اسلام نے سدِ ذریعہ کے طور پر یہ بات بھی حرام کر دی کہ کوئی مسلمان کسی ایسے شخص کے ہاتھ انگور فروخت کرے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ ان کو نچوڑ کر شراب بنائے گا۔ حدیث میں ہے :
من حبس العنب أيام القطاف حتى يبيعه من يهودي أو نصراني أو ممن يتخذه خمرا فقد تقحم النار على بصيرة
”جس نے انگور کو فصل کٹنے پر روک رکھا تاکہ وہ کسی یہودی یا نصرانی یا کسی ایسے شخص کے ہاتھ بیچ دے جو اس سے شراب بناتا ہو تو وہ جانتے بوجھتے آگ میں گھس پڑا۔“
بيهقي في شعب الإيمان ح : 5618 طبراني في الأوسط، ح: 5352 كما في المجمع (90/4)۔ ابن أبي حاتم في العلل، ح: 1165۔ ابن حبان في

مسلمان، شراب کا ہدیہ نہیں دے سکتا :

شراب کو فروخت کرنا اور اس کی قیمت کھا جانا ہی حرام نہیں ہے، بلکہ کسی مسلم یا غیر مسلم کو شراب کا ہدیہ دینا بھی حرام ہے۔ مسلمان پاک ہوتا ہے اور پاک چیز ہی کا ہدیہ دینا اور لینا پسند کرتا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شراب ہدیۃً پیش کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اللہ نے شراب حرام کر دی ہے۔
اجنبی شخص : پھر اسے فروخت کر دوں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : جس ہستی نے شراب کا پینا حرام کر دیا ہے اس نے اس کا فروخت کرنا بھی حرام کر دیا ہے۔
اجنبی شخص : پھر یہود کی خدمت میں ہدیہ پیش کر دوں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : جس ہستی نے اسے حرام کیا ہے اس نے یہود کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنا بھی حرام کیا ہے۔
اجنبی شخص : پھر میں اسے کیا کروں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اسے بطحاء کے راستوں پر بہا دو۔
ضعیف۔ مسند الحمیدي (447/2) رقم الحديث: 1034۔ مسند أحمد بن حنبل (227/4) رقم الحديث: 17995۔ المطالب العالية لابن حجر العسقلاني (133/5)۔ صحيح ابن حبان (319/11) رقم الحديث: 4944 (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے) بحوالہ مسند حمیدي محقق (مفہوماً)۔ صحيح مسلم، کتاب المساقاة، باب تحريم بيع الخمر، رقم الحديث: 1579 (معناً)

شراب کی مجلسوں کا بائیکاٹ :

اسی طرح مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شراب کی مجلسوں کا بائیکاٹ کرے اور شراب پینے والوں کا ہم نشین نہ بنے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يقعد على مائدة تدار عليها الخمر
”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ کسی ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چل رہا ہو۔“
سنن الكبرى للبيهقي (266/7)۔ مسند أبي يعلى الموصلي (127/1) رقم الحديث : 246۔ مسند أحمد بن حنبل (20/1) رقم الحديث: 125۔ جامع ترمذي، کتاب الأدب، باب ما جاء في دخول الحمام، رقم الحديث: 2801۔ الإرواء الغليل للألباني (6/7) رقم الحديث: 1949
کیونکہ مسلمان اس بات پر مامور ہے کہ جب کسی منکر کو دیکھے تو اسے بدل دے اور اگر اس کا ازالہ نہ کر سکتا ہو تو پھر اس سے دور ہو جانا چاہیے۔ خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ شراب پینے والوں کے ساتھ اس شخص کو بھی کوڑے لگاتے جو ان کی مجلس میں شریک ہوتا گو اس نے شراب نہ پی ہو۔