مضمون کے اہم نکات
بسم اللہ پڑھ کر جانور ذبح کرنا
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت فقط بسم اللہ پڑھنا جائز و مسنون اور جانور ذبح کرتے وقت کم از کم بسم اللہ کہنا واجب ہے۔
❀ سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من ذبح قبل الصلاة فليذبح شاة مكانها ومن لم يكن ذبح فليذبح على اسم الله
”جس نے نماز عید سے قبل (قربانی) ذبح کیا وہ اس کی جگہ اور بکری ذبح کرے اور جس نے (نماز عید تک جانور) ذبح نہیں کیا وہ بسم اللہ کہہ کر جانور ذبح کرے۔“
صحيح بخارى كتاب الذبائح والصيد، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم، فليذبح على اسم الله: 5500، صحیح مسلم، كتاب الأضاحي، باب وقتها: 1960، سنن نسائی: 4403، سنن ابن ماجه: 3152
فوائد:
فليذبح على اسم الله سے مراد ہم اللہ کہہ کر ذبح کرنا ہے اور اس کا یہی مفہوم رائج ہے۔
شرح النووى : 111/13۔
امر وجوب کے لیے ہے، لہذا جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا واجب ہے۔ نیز ذبح کرتے وقت بسم اللہ کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی فعل بھی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا مینڈھا ذبح کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:
بسم الله، اللهم تقبل من محمد و آل محمد، و من أمة محمد، ثم ضحى
بسم اللہ (اللہ کے نام سے) اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جانور) ذبح کیا۔
صحیح مسلم : 1967۔ سنن أبی داؤد، 2792۔ مسند أحمد : 78/6۔ سنن بیهقی : 267/9۔
بسم اللہ واللہ اکبر پڑھنا
جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ واللہ اکبر پڑھنا مستحب فعل ہے کیونکہ جانور ذبح کرتے وقت ان کلمات کا پڑھنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ ❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحى النبى صلى الله عليه وسلم بكبشين يسمي ويكبر
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے ذبح کیے (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ذبح کرتے وقت) بسم اللہ واللہ اکبر کہتے تھے۔“
صحيح بخاري كتاب التوحيد، باب السؤال بأسماء الله: 7399۔ صحیح مسلم كتاب الأضاحي، باب استحباب استحسان الضحية : 1966۔
امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی اور دیگر جانوروں کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ کہنا ثابت ہے اور یہ اجماعی مسئلہ ہے۔
نیز جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ واللہ اکبر کہنا مستحب فعل ہے۔
شرح النووی: 121/13۔ نیل الاوطار، 129/5۔
قربانی ذبح کرتے وقت صاحبِ قربانی کا نام لینا
قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت صاحبِ قربانی کا نام لینا اور مذکورہ کلمات کہنا مستحب ہیں یا مکروہ، اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
جمہور علماء قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت ”بسم اللہ واللہ اکبر“ کے ساتھ اللهم تقبل مني (اے اللہ! یہ قربانی میری طرف سے قبول فرما) اور اللهم منك و لك عن فلان (یہ قربانی تیری طرف سے اور تیرے لیے ہے فلاں شخص کی طرف سے) کہنا مستحب عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ﴾
جس جانور پہ غیر اللہ کا نام پکارا جائے وہ حرام ہے.
البقرة:173
امام مالک بیان کرتے ہیں کہ قربانی کرتے وقت اللهم منك ولك كہنا مکروہ فعل اور بدعت ہے۔
شرح النووى : 122/13۔ المغنى مع الشرح الكبير : 118/11۔
رائح مذہب :
اس مسئلہ میں جمہور علماء کا مذہب رائج ہے اور اس کے اقرب الی الصواب ہونے کے دلائل حسب ذیل ہیں:
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مینڈھا ذبح کرتے وقت یہ کلمات کہے:
اللهم تقبل من محمد و آل محمد و من أمة محمد
اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما!
صحیح مسلم : 1967۔ سنن أبی داود، 2792، مسند أحمد، 78/6- سنن بيهقي : 267/9۔
فوائد:
① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
فيه دليل لاستحباب قول المضحى حال الذبح مع التسمية والتكبير اللهم تقبل مني، قال أصحابنا : ويستحب معه اللهم منك وإليك تقبل مني
یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی کرنے والے کا جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ والله اکبر، کے ساتھ اللهم تقبل منى کہنا مستحب فعل ہے اور ہمارے اصحاب (شافعیہ ) کہتے ہیں کہ بسم اللہ واللہ اکبر کے ساتھ اللهم منك و إليك اللهم تقبل مني کہنا بھی مستحب ہے۔
شرح النووى : 122/13۔
② سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید قربان کے دن دو چتکبرے سینگوں والے دو خصی مینڈھے ذبح کیے اور جب انھیں قبلہ رخ کیا تو یہ کلمات کہے:
إنى وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض على ملة إبراهيم حنيفا وما أنا من المشركين، إن صلاتي ونسكي و محياي ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له وبذلك أمرت و أنا من المسلمين، اللهم منك ولك عن محمد و أمته بسم الله والله أكبر
حسن : سنن أبي داود : 2795۔ سنن ابن ماجه : 3121۔ مستدرك حاكم : 1/ 167۔ صحيح ابن خزیمه : 2899۔
فوائد:
قربانی ذبح کرنے سے قبل مذکورہ کلمات پڑھنا اور اللهم منك ولك عن فلان کہنا مشروع و مستحب ہے اور امام نووی رحمہ اللہ اور ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ نے بھی جمہور علماء کے موقف کو راجح قرار دیا ہے۔
شرح النووى، 122/13 ، المغنى مع الشرح الكبير : 1128/11۔
نیز ابن قدامه حنبلی رحمہ اللہ مذکورہ احادیث کو نقل کرنے کے بعد بیان کرتے ہیں کہ احادیث الباب مذکورہ عمل کے استحباب کی ایسی واضح نص ہیں جس میں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں۔
المغنى مع الشرح الكبير : 118/11۔