قیامِ میلاد کی شرعی حیثیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔

قیام میلاد کی شرعی حیثیت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سن کر یا میلاد کا ذکر کرتے ہوئے تعظیما کھڑے ہو جانے کا عمل بے ثبوت وبے اصل ہے، اس کی بنیادیں محض نفسانی خواہشات پہ اٹھائی گئی ہیں اور غلو ان کا گلابہ ہے۔ احکامات شرعیہ کا ثبوت قرآن و حدیث، اجماع امت اور فہم سلف سے بیان ہوتا ہے اور ان تمام مصادر میں قیام میلاد کا ذکر کیا اشارہ بھی نہیں ملتا، لیکن:
◈ ایک صاحب کہتے ہیں:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کھڑے ہوکر پڑھنا انبیائے کرام کی سنت ہے۔“
ان کے دلائل پر تبصرہ تو آئندہ سطور میں کیا جائے گا، سر دست اس حوالے سے اہل علم کا بیان ملاحظہ فرما لیں۔
◈ علامہ محمد بن یوسف، صالحی ، شامی رحمہ اللہ (م: 942ھ) لکھتے ہیں:
جرت عادة كثير من المحيين إذا سمعوا بذكر وصفه صلى الله عليه وسلم أن يقوموا تعظيما له صلى الله عليه وسلم، وهذا القيام بدعة، لا أصل له .
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بہت سے دعوے داروں میں یہ عادت رواج پا گئی ہے کہ وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صفت کا ذکر سنتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ قیام ایسی بدعت ہے، جس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں۔“
(سبل الهدى والرشاد: 415/1)
◈ علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ (م: 1304ھ) لکھتے ہیں:
منها أى من القصص المختلقة الموضوعة ما يذكرونه من أن النبى صلى الله عليه وسلم يحضر بنفسه فى مجالس وعظ عند ذكر مولده، بنوا عليه القيام عند ذكر المولد تعظيما وإكراما، وهذا أيضا من الأباطيل، لم يثبت ذلك بدليل، ومجرد الاحتمال والإمكان خارج عن حد البيان .
”اہل بدعت کے بیان کردہ من گھڑت قصوں میں ایک قصہ یہ بھی ہے کہ جن مجالس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان مجالس میں بنفس نفیس تشریف فرما ہوتے ہیں۔ اسی کو بنیاد بنا کر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے ذکر وقت قیام کی طرح ڈالی ہے، یہ جھوٹی باتیں ہیں، کسی دلیل سے ان کا ثبوت نہیں ملتا۔ یہ اعمال احتمالات و امکانات پہ کھڑے کئے گئے ہیں اور ان پر بھی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔“
(الآثار المرفوعة لعبد الحي ص : 46)
◈ علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (م: 974ھ) کہتے ہیں:
نظير ذلك فعل كثير عند ذكر مولده صلى الله عليه وسلم، ووضع أمه له من القيام، وهو أيضا بدعة، لم يرد فيه شيء على أن الناس إنما يفعلون ذلك تعظيما له صلى الله عليه وسلم، فالعوام معدورون لذلك بخلاف الخواص .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے بہت سے لوگوں کا تعظیما کھڑے ہو جانا بھی ایک بدعت ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ملتی۔ لوگ یہ عمل تعظیم رسول کی نیت سے کرتے ہیں، عوام بیچارے ناسمجھ معذور ہیں جب کہ خواص کی پکڑ ضرور ہوگی۔“
(الفتاوى الحديثية ص: 58)
پھر قیام میلاد کے حامیان باہم مختلف ہیں، اس سلسلے میں ان کے بیان نہیں ملتے اور بیان کا تضاد تحقیق کی عدالت میں قابل ملاحظہ وقابل قبول نہیں ہوتا ، مثلا: بعض لوگوں کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس اس محفل میں تشریف فرما ہوتے ہیں، جب کہ بعض کہتے ہیں:
”تاہم یہ بات ممکنات میں سے ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روحانی طور پر محفل میلاد میں تشریف لائیں ہيں۔“
◈ بعض نے کہا ہے:
”ایسا ہونا خوبصورت معجزہ ممکن ہے۔“ وغیرہ
یہ سب ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ قرآن وسنت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔
اسی طرح بعض غالی صوفیا کا دعویٰ ہے کہ وہ حالت بیداری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میلادی محافل میں حاضر ہوتے ہیں وغیرہ، تو یہ بات کتاب و سنت اور اجماع امت کے صریح مخالف ہے، لہذا ان باتوں کا مقام وہی ہے، جو کہ جھوٹ کا ہوا کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں، اللہ کے پاس جاچکے ہیں اور فوت ہو جانے والے روز قیامت ہی اپنی قبروں سے نکالے جائیں گے، اس سے پہلے نہیں۔
◈ فرمانِ باری تعالی ہے:
ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ‎15 ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ
”تم اس کے بعد ضرور مرنے والے ہو اور تم روز قیامت زندہ کیے جاؤ گے۔“
(المؤمنون: 15 – 16)
اللہ کریم بتا رہے ہیں کہ فوت شدگان روز قیامت ہی زندہ ہوں گے، دنیا سے ایک دفعہ چلے جانے کے بعد واپس نہیں آئیں گے۔ جو کہتا ہے کہ انسان فوت ہو جانے کے بعد بھی واپس آسکتے ہیں، تو وہ حق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے، حق جسے سلف صالحین نے پہچانا تھا اور جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ چلتے رہے ہیں۔
بعض دیوبندی اکابر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد از وفات محافل میلاد میں تشریف لانے اور آپ کے ذکر پر قیام کو جائز قرار دیتے ہیں، جیسا کہ:
◈ حاجی امداد اللہ مکی صاحب (م: 1317ھ) کہتے ہیں:
البتہ وقت قیام کے اعتقاد تولد کا نہ کرنا چاہیے۔ اگر احتمال تشریف آوری کا کیا جائے ، تو کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ عالم خلق مقید بزمان و مکان ہے، لیکن عالم امر دونوں سے پاک ہے۔ پس قدم رنجہ فرمانا ذات بابرکات کا بعید نہیں۔
(امداد المشتاق از اشرف علی تھانوی: 56)
◈ جناب اشرف علی تھانوی صاحب کی کتاب میں ہے:
جب مثنوی شریف ختم ہوگئی۔ بعد ختم حکم شربت بنانے کا دیا اور ارشاد ہوا کہ اس پر مولا نا (روم) کی نیاز بھی کی جاوے گی۔ گیارہ گیارہ بارسورت اخلاص پڑھ کر نیاز کی گئی اور شربت بٹنا شروع ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ نیاز کے دو معنی ہیں۔ ایک عجز و بندگی اور وہ سوائے خدا کے دوسرے کے واسطے نہیں ہے، بلکہ ناجائز شرک ہے۔ اور دوسرے خدا کی نذر اور ثواب خدا کے بندوں کو پہنچانا ، یہ جائز ہے۔ لوگ انکار کرتے ہیں۔ اس میں کیا خرابی ہے؟ اگر کسی عمل میں عوارض غیر مشروع لاحق ہوں تو ان عوارض کو دور کرنا چاہیے، نہ یہ کہ اصل عمل سے انکار کر دیا جائے۔ ایسے امور سے انکار کرنا خیر کثیر سے باز رکھنا ہے، جیسے قیام مولد شریف اگر بوجہ آئے نام آنحضرت کے کوئی شخص تعظیماً قیام کرے تو اس میں کیا خرابی ہے؟ جب کوئی آتا ہے تو لوگ اس کی تعظیم کے واسطے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر اس سردار عالم و عالمیان (روحی فداہ) کے اسم گرامی کی تعظیم کی گئی تو کیا گناہ ہوا؟
(امداد المشتاق از تھانوی ص: 88)
یہ قیاس مع الفارق ہے کہ عالم ارواح کو عالم اجساد پر قیاس کیا جائے، جبکہ دونوں کے احکام جدا جدا ہیں۔ سلف میں ان چیزوں کا کوئی بھی قائل نہیں رہا، قرآن وحدیث میں اس کا کہیں تذکرہ نہیں اور متاخر اہل علم نے بھی اسے بدعت قرار دیا ہے۔