جن جانوروں کی قربانی جائز نہیں
قربانی میں ممنوع جانور:
قربانی کے جانوروں کا مندرجہ ذیل عیوب سے پاک ہونا لازم ہے اور ان عیوب میں سے کسی عیب میں مبتلا جانور کی قربانی جائز نہیں:
① ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو۔
② بیمار جس کا مرض واضح ہو۔
③ لنگڑا جس کا لنگڑا پن عیاں ہو۔
④ ایسا لاغر جانور جس کی ہڈیوں کا گودا ختم ہو چکا ہو۔
⑤ قربانی کے جانور کے کان میں کٹنا، پھٹنا اور سوراخ ہونا۔
⑥ آدھے سے زیادہ کان کٹا اور آدھے سے زیادہ سینگ ٹوٹنا یا کٹنا۔
عبید بن فیروز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے؟ اس پر انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ کے لیے) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، حالانکہ میری انگلیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے اور میری انگلیوں کے پورے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے پوروں سے چھوٹے ہیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے اشارہ کر کے) بتایا:
أربع لا تجوز فى الأضاحي، العوراء بين عورها، والمريضة بين مرضها، والعرجاء بين ظلعها، والكسير التى لا تنقي
”چار قسم کے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے: ① کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ ② بیمار جس کی بیماری واضح ہو۔ ③ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔ ④ اور انتہائی کمزور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔“
صحيح: سنن أبي داود، كتاب الضحايا، باب ما يكره من الضحايا: 2802۔ جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما لا يجوز من الأضاحي: 1497۔ سنن نسائی، كتاب الضحايا، باب ما نهى عنه من الأضاحي: 4374۔ سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، باب ما يكره أن يضحى به: 3144۔ مسند أحمد: 289/4۔ صحیح ابن خزیمہ: 2912۔ صحیح ابن حبان: 5919
فوائد:
امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
وأجمعوا على أن العيوب المذكورة فى حديث البراء وهو المرض والعجف، والعور، والعرج البين لا تجزئ التضحية بها، وكذا ما كان فى معناه أو أقبح كالعمى وقطع الرجل وشبهه
”علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ مذکورہ عیوب یعنی واضح بیماری، انتہائی لاغری، ظاہر کانا پن اور ظاہر لنگڑا پن میں مبتلا جانوروں کی قربانی درست نہیں، اسی طرح مذکورہ عیوب اور ان سے قبیح ترین عیوب میں مبتلا مثلاً اندھے اور ٹانگ کٹے جانور وغیرہ کی قربانی بھی ناجائز ہے۔“
شرح النووی: 12/13۔ سبل السلام: 1356/4
معمولی عیوب درخور اعتناء نہیں:
قربانی کے جانوروں میں مذکورہ عیوب سے کم تر عیوب صحتِ قربانی میں قادح نہیں اور معمولی اور غیر ظاہر عیوب میں مبتلا جانوروں کی قربانی جائز ہے۔
① امیر صنعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
والحديث دليل على أن هذه العيوب مانعة من صحة التضحية، وسكت عن غيرها من العيوب، فذهب أهل الظاهر إلى أنه لا عيب غير هذه الأربعة وذهب الجمهور إلى أنه يقاس عليها غيرها مما كان أشد منها أو مساويا لها كالعمياء ومقطوعة الساق
”یہ حدیث دلیل ہے کہ مذکورہ عیوب قربانی سے مانع ہیں اور ان عیوب کے علاوہ دیگر عیوب سے سکوت اختیار کیا گیا، چنانچہ اہل ظاہر کا مذہب ہے کہ ان چار عیوب کے سوا کوئی بھی عیب قربانی کے جواز سے مانع نہیں، لیکن جمہور علماء کا مذہب ہے کہ مذکورہ عیوب سے شدید تر عیوب اور ان جیسے دیگر عیوب مثلاً قربانی کے جانور کا اندھا ہونا اور ٹانگ کا کٹا ہونا جیسے عیوب وغیرہ کا بھی مذکورہ عیوب پر قیاس کیا جائے گا۔“
سبل السلام: 1356/4
② خطابی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
في الحديث دليل على أن العيب الخفيف فى الضحايا معفو عنه ألا تراه يقول بين عورها بين مرضها، بين ظلعها، فالقليل منه غير بين، فكان معفوا عنه
”حدیث الباب دلیل ہے کہ قربانی کے جانوروں میں معمولی عیب معاف ہے اور تم دیکھتے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے عیوب کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اس کا کانا پن ظاہر ہو، اس کی بیماری واضح ہو، اس کا لنگڑا پن عیاں ہو، سو (مذکورہ عیوب سے) کم تر عیوب غیر واضح ہیں اور ان کی معافی ہے۔“
عون المعبود: 18/8