قیامت کی نشانی : زمانہ قریب (مختصر) ہو جائے گا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : زمانہ قریب (مختصر) ہو جائے گا

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال النبى صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى يقبض العلم وتكثر الزلازل ويتقارب الزمان
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ علم قبض کر لیا جائے گا، زلزلے بکثرت ہوں گے اور زمانہ قریب آجائے گا۔“
بخاری : كتاب الاستسقاء : باب ما قيل في الزلازل والآيات (1036) مسلم (2671) احمد (307/2 – 694) ابو داؤد (4255) ابن ماجه (4096)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقوم الساعة حتى يتقارب الزمان فتكون السنة كالشهر ويكون الشهر كالجمعة وتكون الجمعة كاليوم ويكون اليوم كالساعة وتكون الساعة كاحتراق السعفة (الخوصة)
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم ہونے سے پہلے (یہ نشانی ظاہر ہوگی کہ) زمانہ قریب آجائے گا اور سال مہینے کی طرح، مہینہ ہفتہ کی طرح ، ہفتہ ایک دن کی طرح، ایک دن ایک گھنٹے کی طرح اور ایک گھنٹہ آگ کے شعلے کی طرح (تیزی سے گزرنے والا) ہو جائے گا۔“
احمد (711/2)، ابن حبان (256/15)

فوائد :

زمانہ قریب آجائے گا اس علامت قیامت کے کئی ایک معانی اہل علم سے منقول ہیں جو بنیادی طور پر دو قسموں پر مشتمل ہیں :

حقیقی :

یعنی فی الحقیقت زمانہ (وقت) تیزی سے قیامت کی طرف بڑھنا شروع کر دے گا، سال ہفتہ کے برابر، ہفتہ دن کے اور دن ایک گھنٹہ کے برابر ہو کر گزرے گا۔

مجازی :

مجازی معنی میں کئی اقوال منقول ہیں :
➊ زمانہ (وقت) برکت سے خالی ہو جائے گا، سارا سارا دن صرف ایک آدھ کام میں گزر جائے گا جبکہ بہت سے کام ادھورے کے ادھورے رہ جائیں گے۔
➋ لوگ عیش و عشرت میں اس قدر منہمک ہوں گے کہ وقت گزرنے کا اندازہ بھی نہ ہوگا اور ایسی حالت اس وقت ہوگی جب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اور امام مہدی کا خروج ہو جانے کے بعد ہر طرف امن وامان اور مال و دولت کی بہاریں ہوں گی۔ علاوہ ازیں یہ تجربے سے ثابت ہے کہ مشقت و تکلیف میں مختصر وقت بھی خاصا طویل اور گراں ہو کر گزرتا ہے۔
➌ دن اور رات عین برابر ہو جائیں گے۔
➍ عمریں چھوٹی ہو جائیں گی جیسا کہ پہلے وقتوں میں عمریں خاصی لمبی ہوا کرتی تھیں۔
➎ شر اور فساد قریب سے قریب تر ہوتا جائے گا۔
➏ بری بحری راستے قریب تر ہو جائیں گے جنہیں کم سے کم وقت میں بآسانی عبور کیا جاسکے گا جیسا کہ موجودہ دور میں ہوائی جہاز اور جدید بحری جہازوں کی بدولت یہ سہولت میسر ہے کہ مہینوں کا سفر دنوں بلکہ گھنٹوں میں طے کر لیا جاتا ہے۔
مذکورہ دونوں قسموں میں سے اگر دوسری (مجازی) قسم مراد لی جائے تو اس میں موجود تمام پہلو اور نکات و افکار ایک عرصہ سے منظر عام پر آچکے ہیں لیکن اگر اس سے پہلی (حقیقی) قسم مراد لی جائے یعنی فی الحقیقت وقت بڑی سرعت سے گزرنے لگے گا تو یہ علامت قیامت تاحال ظاہر نہیں ہوئی۔

راجح پہلو :

مذکورہ حدیث کو حقیقی معانی پر محمول کرنا ہی راجح معلوم ہوتا ہے کیونکہ (حدیث نمبر : 1) اور اس جیسی دیگر احادیث میں ایک عمومی بات بتائی گئی ہے کہ : يتقارب الزمان یعنی زمانہ قریب آجائے گا۔
مگر کچھ صحیح احادیث میں اس عموم کی تشریح بھی موجود ہے جیسا کہ (حدیث نمبر : 2) سے ظاہر ہے کہ سال ماہ برابر ، ماہ ہفتہ برابر ، ہفتہ گھنٹے برابر اور گھنٹے شعلے برابر ہو کر (بڑی تیزی سے قیامت کی طرف) بڑھے گا۔
علاوہ ازیں صحیح احادیث سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ خروج دجال کے وقت پہلا دن سال برابر، دوسرا ماہ برابر اور تیسرا ہفتہ برابر (بڑا) ہو کر گزرے گا۔
اگر فی الواقع دن بڑا ہو سکتا ہے تو چھوٹا ہونا کیونکر بعید از قیاس قرار دیا جا سکتا ہے۔