دوسروں کا مذاق نہ اڑایا جائے
سورہ حجرات کی مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالٰی نے ان تمام باتوں کو حرام قرار دیا ہے جو برادرانہ تعلقات اور انسانی حرمت پر اثر انداز ہوتی ہیں :
اس سلسلہ کی پہلی بات لوگوں کا مذاق اڑانا ہے۔ کسی مؤمن کے لیے جو اللہ اور آخرت کا امیدوار ہو، یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کا مذاق اڑائے یا اس کی تضحیک کرے یا اسے ہدف ملامت بنا لے۔ کیونکہ اس انداز میں خفیہ تکبر غرور اور لوگوں کی تحقیر کا جذبہ شامل ہوتا ہے اور یہ حرکت اس معیار سے جو اللہ کے پاس ہے، جہالت برتنے کے مترادف ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ
”نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔
“(سورۃ الحجرات : 11)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی خوبی ایمان و اخلاص اور تعلق باللہ میں ہے، نہ کہ شکل و صورت اور جاہ و مال میں۔ حدیث میں آیا ہے :
إن الله لا ينظر إلى صوركم ولا إلى أموالكم ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم
”اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔“
مسلم كتاب البر والصلة باب تحريم الظلم المسلم ح : 2564/34
لہذا کسی مرد یا عورت کا اس بنا پر مذاق اڑانا کس طرح جائز ہو سکتا ہے کہ وہ جسم یا خلقت کی کسی خرابی میں یا مالی افلاس میں مبتلا ہے؟ روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی پنڈلی کھل گئی۔ ان کی پنڈلیاں بہت دبلی پتلی تھیں۔ بعض لوگ دیکھ کر ہنس پڑے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أتضحكون من دقة ساقيه؟ والذي نفسي بيده لهما أثقل فى الميزان من جبل أحد
”کیا تم ان کی پنڈلیوں کے دبلا ہونے پر ہنستے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ میزان میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔“
مسند احمد : 1 / 420 – 421 – مسند الطیالسی : 355
قرآن نے بیان کیا ہے کہ کس طرح مجرم مشرکین صالح مؤمنین کا اور خاص طور سے کمزور مسلمانوں مثلاً بلال رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ وغیرہ کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور قرآن نے یہ واضح کیا ہے کہ کس طرح حساب و کتاب کے دن معیار بدل جائیں گے۔ جو لوگ مذاق اڑاتے ہیں ان ہی کا مذاق اڑایا جائے گا۔ آیت میں صراحت کے ساتھ عورتوں کو ایک دوسرے کا مذاق اڑانے کی ممانعت کی گئی ہے کیونکہ عام طور سے عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑانے کی عادی ہوتی ہیں۔
طعن و تشنیع کرنا
اس سلسلہ کی دوسری حرام بات طعن و تشنیع ہے۔ جو شخص لوگوں میں عیب نکالتا ہے وہ گویا نیزہ سے انہیں زخمی کرتا ہے بلکہ کبھی تو طعن و تشنیع نیزہ کے طعن (زخمی کرنے) سے بھی زیادہ شدید ہوتی ہے۔ کیونکہ نیزہ کے زخم تو مندمل ہو جاتے ہیں، لیکن زبان کے زخم مندمل نہیں ہوتے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے :
وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ
”یعنی ایک دوسرے کو طعن نہ دو۔“
(سورۃ الحجرات : 11)
لیکن قرآن نے أَنْفُسَكُمْ کہہ کر مؤمنوں کی جماعت کو نفس واحد سے تعبیر کیا ہے کیونکہ سب ایک دوسرے کے کفیل اور معاون ہیں لہذا جس نے اپنے بھائی کو طعن کیا اس نے درحقیقت اپنے ہی نفس کو طعن کیا۔
برے لقب سے پکارنا
برے لقب سے پکارنا بھی طعن و تشنیع ہی کی ایک قسم ہے جو کہ حرام ہے۔ یعنی کسی شخص کو ایسے نام سے پکارنا جو اسے ناپسند ہو اور جس کے ذریعہ اس کا مذاق اڑایا جائے اور اس پر طعن کیا جائے۔ انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے کسی بھائی کو ایسے لقب سے پکارے جو اس کے لیے باعث اذیت ہو۔ یہ سراسر زیادتی اور آداب اور ذوق سلیم کے خلاف ہے۔
بدگمانی
اسلام چاہتا ہے کہ معاشرہ کے اندر قلوب کی صفائی اور باہمی اعتماد ہو۔ شکوک وشبہات اور وہم و گمان کی فضا ہرگز نہ ہو۔ اسی لیے مذکورہ آیت میں جو چوتھی حرام بات بیان کی گئی ہے وہ بد گمانی ہے، چنانچہ فرمایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ
”اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔“
(سورۃ الحجرات : 12)
لیکن جو باعث گناہ ہے بد گمانی ہے۔ اور مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے کسی وجہ جواز اور کسی واضح دلیل کے بغیر بدگمان ہو جائے۔ لوگوں کو اصلاً بے قصور سمجھنا چاہیے اور بدگمانی کے وسوسوں میں پڑ کر ان پر تہمت لگانے کا موقع نہیں پیدا کرنا چاہیے۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
اياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث
”بدگمانی سے بچو کہ بد گمانی بد ترین جھوٹ ہے۔“
بخاری کتاب الادب باب يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ ح : 6066 ، مسلم كتاب البر والصلة باب تحريم الظن والتجس ح : 2563
انسان، بشری کمزوری کے باعث لوگوں کے سلسلہ میں شک و گمان سے اپنے کو بالکل بچا نہیں سکتا، خاص طور سے ان لوگوں کے بارے میں جن سے تعلقات کشیدہ ہوں، لیکن اسے ان خیالات کے آگے سر نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ ان کے پیچھے چلنا چاہیے۔ یہی مطلب اس حدیث کا ہے :
إذا ظننت فلا تحقق
”جب بدگمانی پیدا ہو تو اسے صحیح خیال نہ کرو۔“
طبراني في الكبير : 3/ 258 فتح البارى : 10/213
تجسس
دوسروں کے بارے میں بد اعتمادی کے نتیجہ میں باطنی طور پر آدمی بدگمانی میں مبتلا ہو جاتا ہے اور باطنی طور پر تجسس کرنے لگتا ہے۔ لیکن اسلام معاشرہ کے ظاہر اور باطن دونوں کو پاک صاف رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے بدگمانی کی ممانعت کے ساتھ تجسس کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے۔ کیونکہ اکثر ایک بات دیگر بات کا سبب بنتی ہے۔ لوگوں کی حرمت کو تجسس کے ذریعہ زائل کرنا اور ان کی مخفی باتوں کے پیچھے پڑنا، ہرگز جائز نہیں اگر چہ وہ ذاتی طور پر گناہ کے مرتکب ہو رہے ہوں، جب تک کہ وہ اسے چھپاتے رہیں اور کھلے بندوں گناہ کا ارتکاب نہ کریں۔
ابو ہیثم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کہا : ہمارے پڑوسی شراب پیتے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ پولیس کو بلا کر انہیں گرفتار کراؤں۔ انہوں نے کہا، ایسا نہ کرو بلکہ انہیں نصیحت اور تنبیہ کرو۔ ابو ہیثم رحمہ اللہ نے کہا : میں نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہیں آتے، اس لیے میں انہیں پولیس کے حوالہ کرنا چاہتا ہوں۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ایسا نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
من ستر عورة فكأنما استحيا موءودة فى قبرها
”جس نے کسی کی عیب پوشی کی اس نے گویا زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو زندگی بخشی۔“
مسند احمد : 4/158 ابو داود کتاب الادب باب في الستر على المسلم ح : 4891 ، 4892 صحیح ابن حبان : 1/ 367 مستدرك حاكم : 4/384 واسناده ضعيف
نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے عیوب ٹولنے کو منافقین کی علامت و امتیاز قرار دیا ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر جلوہ افروز ہو کر بآواز بلند فرمایا :
يا معشر من أسلم بلسانه ولم يفض الإيمان إلى قلبه لا توذوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتهم فإنه من يتبع عورة أخيه المسلم يتبع الله عورته ومن يتبع الله عورته يفضحه ولو فى جوف رحله
”اے لوگو! جو زبان سے اسلام لائے ہو اور جن کے دلوں میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا مسلمانوں کو اذیت نہ دو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب کے در پے ہو گا اللہ اس کے عیب کے درپے ہوگا۔ اور اللہ جس کسی کے عیب کے در پے ہو تو اسے رسوا کر کے رہے گا اگر چہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو۔“
ترمذی کتاب البر والصلة باب ما جاء في تعظيم المؤمن ح : 2032
لوگوں کی حرمتوں کے تحفظ ہی کی غرض و غایت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر جھانکنے سے شدت کے ساتھ ممانعت فرمائی ہے۔ فرمایا :
من اطلع فى بيت قوم بغير إذنهم فقد حل لهم أن يفقووا عينه
”جس نے کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر جھانکا اس کے گھر والوں کے لیے جائز ہے کہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔“
بخاري كتاب الديات باب من اطلع في بيت قوم ح : 6902 ، مسلم كتاب الآداب باب تحريم النظر في بيت غيره ح : 2158
اسی طرح لوگوں کی باتیں ان کی مرضی کے بغیر اور ان سے چھپ چھپا کر سننا بھی حرام قرار دیا۔ فرمایا :
من استمع إلى حديث قوم وهم كارهون صب فى أذنيه الآنك يوم القيٰمة
”جس نے لوگوں کی باتیں کان لگا کر سنیں درآنحالیکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں تو اس کے کانوں میں قیامت کے دن سیسہ انڈیل دیا جائے گا۔“
بخاری كتاب التعبير : باب من كذب في حلمه ح : 7042
قرآن نے لازمی قرار دیا ہے کہ جو شخص کسی سے ملنا چاہتا ہو وہ اس کے گھر میں داخل نہ ہو جب تک کہ اس سے اجازت نہ لے اور سلام نہ کرے۔
تجسس کرنے اور پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑنے کی ممانعت کا حکم عام ہے جو حکام اور رعایا دونوں کو شامل ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنك إن اتبعت عورات الناس أفسدتهم أو كدت تفسدهم
”اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے تو ان میں بگاڑ پیدا کرو گے۔“
ابو داود کتاب الادب باب في التجسس ح : 4888 ابن حبان : 1495
اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الأمير إذا ابتغى الريبة فى الناس أفسدهم
”بے شک امیر جب لوگوں میں شک و شبہ کی باتیں تلاش کرنے لگتا ہے تو ان کے اندر بگاڑ پیدا کر دیتا ہے۔“
مسند احمد : 4/6 ابو داود حوالہ سابق ح : 4889