جھگڑے میں بلاغت کی ممانعت
① سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑا سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو فرمایا:
إنما أنا بشر، وإنه يأتيني الخصم، فلعل بعضهم يكون أبلغ من بعض، فأحسب أنه صدق ، فأقضي له بذلك، فمن قضيت له بحق مسلم فإنما هي قطعة من النار فليحملها أو يذرها
”میں بھی ایک انسان ہوں، میرے پاس تنازعات آتے ہیں، ممکن ہے ان میں سے بعض، بعض سے زیادہ بلیغ انداز میں گفتگو کرتا ہو اور میں اسے سچا سمجھ لوں اور اس کے حق میں فیصلہ دے دوں اگر میں کسی شخص کو کسی مسلمان کا حق دے دوں (جو کہ اس کا نہیں) تو وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے چاہے تو اسے اٹھا لے یا اسے چھوڑ دے۔“
بخارى، كتاب المظالم والغضب 2485۔ مسلم، كتاب الاقضية 1713/5۔
ظالمانہ فیصلہ کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الله مع القاضي ما لم يجر ، فإذا جار تخلى عنه ولزمه الشيطان
”اللہ اس قاضی کے ساتھ ہے جو ظلم نہیں کرتا، پس جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے اور شیطان اس سے چمٹ جاتا ہے۔“
ترمذی، کتاب اللباس 1330 ابن ماجه، کتاب الاحكام 2312۔
② سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
القضاة ثلاثة واحد فى الجنة واثنان فى النار، فأما الذى فى الجنة فرجل عرف الحق وقضى به ورجل عرف الحق فجار فى الحكم فهو فى النار، ورجل قضى للناس على جهل فهو فى النار
”قاضی تین قسم کے ہیں (ان میں سے) ایک جنتی اور دو جہنمی ہیں، پس وہ جو جنتی ہے وہ آدمی ہے جس نے حق کو پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا اور وہ آدمی جس نے حق کو پہچانا اور ظالمانہ فیصلہ کیا تو وہ جہنمی ہے اور وہ آدمی جس نے لاعلمی سے لوگوں کے مابین فیصلہ کیا تو وہ بھی جہنمی ہے“۔
ابوداؤد، کتاب الاقضية 3573۔
رشوت کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن الراشي والمرتشي فى الحكم
”رشوت دیتے اور رشوت لینے والے پر حکم میں لعنت ہے“۔
ترمدى ، الاحكام 1336۔ حدیث حسن صحیح ہے۔ مسند احمد، باقی مسند المكثرين 2/ 513۔
② ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن الراشي والمرتشي فى الحكم
”حکم میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی گئی ہے“۔
ابوداؤد، كتاب الاقضية 3580۔ ترمذى، كتاب الاحکام 1337۔ حدیث حسن صحیح ہے۔