کیا قیام تعظیم کا جائز طریقہ ہے؟
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہر مؤمن کے ایمان کا جزو لازم ہے، لیکن اس تعظیم کی حدود کون متعین کرے گا؟ یقیناً یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی حق ہے۔
◈ علامہ بشیر احمد سہسوانی رحمہ اللہ (م: 1326ھ) فرماتے ہیں:
نحن معاشر أهل الحديث نعظم رسول الله صلى الله عليه وسلم بكل تعظيم جاء فى الكتاب والسنة الثابتة، سواء كان ذلك التعظيم فعليا أو قوليا أو اعتقاديا، والوارد فى الكتاب العزيز والسنة المطهرة من ذلك الباب فى غاية الكثرة ، وأهل البدع؛ فمعظم تعظيمهم تعظيم محدث كشد الرحال إلى قبر الرسول، والفرح بليلة ولادته، وقراءة المولد، والقيام عند ذكر ولادته صلى الله عليه وسلم، وتقبيل الإبهام عند قول المؤذن: أشهد أن محمدا رسول الله، والتمثل بين يديه قياما، وطلب الحاجات منه صلى الله عليه وسلم، والنذر له، وما ضاهاها، وأما التعظيمات الثابتة، فهم عنها بمراحل .
”ہم تمام اہل حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر وہ تعظیم بجالاتے ہیں، جو قرآنِ کریم اور سنت ثابتہ میں وارد ہے، خواہ وہ تعظیم فعلی ہو، قولی ہو یا اعتقادی۔ قرآن عزیز اور سنت مطہرہ میں اس طرح کی بہت زیادہ تعظیم موجود ہے۔ لیکن اہل بدعت کی تعظیم کی حد یہ ہے کہ وہ لوگ کوئی بدعت جاری کر لیتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف شد رحال، ولادت رسول کی رات جشن ، مولد کی قرائت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے ذکر کے وقت قیام کرنا، اذان میں موذن کےأشهد أن محمدا رسول الله کہنے کے وقت انگوٹھے چومنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے سامنے بت بن کر کھڑے ہونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاجات طلب کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی نیاز دینا وغیرہ۔ یہ لوگ قرآن وسنت کی ثابت شدہ تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔“
(صيانة الإنسان عن وسوسة دحلان ص: 244)
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ) فرماتے ہیں:
إنما تعظيم الرسل بتصديقهم فيما أخبروا به عن الله، وطاعتهم فيما أمروا به، ومتابعتهم، ومحبتهم ، وموالاتهم .
”انبیا ورسل کی تعظیم کا انحصار ان باتوں ہے کہ انبیا کی لائی ہوئی خبروں کی تصدیق کی جائے ، ان کے احکام کی پیروی کی جائے ، ان سے محبت وموالاۃ رکھی جائے۔“
(کتاب الرد على الأخنائي ص: 24 ، 25)
◈ جب کہ نعیمی صاحب لکھتے ہیں:
تعظیم میں کوئی پابندی نہیں، بلکہ جس زمانہ میں اور جس جگہ جو طریقہ بھی تعظیم کا ہو، اس طرح کرو، بشرطیکہ شریعت نے اس کو حرام نہ کیا ہو، جیسے تعظیمی سجدہ و رکوع۔ اور ہمارے زمانہ میں شاہی احکام کھڑے ہو کر بھی پڑھے جاتے تھے۔ لہذا محبوب کا ذکر بھی کھڑے ہو کر ہونا چاہیے۔ دیکھو﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا﴾ میں مطلقا کھانے پینے کی اجازت ہے کہ ہر حلال غذا کھاؤ پیو، تو بریانی، زردہ ، قورما سب ہی حلال ہوا خواہ خیر القرون میں ہو یا نہ ہو۔
(جاء الحق ، جلد 1 ص: 254)
اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے وقت کھڑا ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام رحمہم اللہ اور تبع تابعین، ائمہ دین اور سلف صالحین اس تعظیم سے محروم کیوں تھے؟ کہاں ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم جو کہ دین وایمان ہے اور کہاں کھانے پینے کے دنیاوی مسائل۔ قرآن وسنت کی روشنی میں مسلم اصول ہے کہ دینی معاملات میں کرنے کی دلیل ضروری ہے، جبکہ دنیاوی معاملات میں منع کی دلیل۔
کسی کی تعظیم میں کھڑا ہونا نا جائز ہے
◈ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ما كان أحد من الناس أحب إليهم شخصا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، كانوا إذا رأوه لا يقوم له أحد منهم، لما يعلمون من كراهيته لذلك .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر محبت کسی نے نہیں کی ، لیکن کوئی صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑا نہیں ہوتا تھا، وہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند نہیں کرتے۔“
(مسند الإمام أحمد : 134/3 ، سنن الترمذي : 2754 وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے۔
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : 728ھ) فرماتے ہیں :
لم تكن عادة السلف على عهد النبى صلى الله عليه وسلم وخلفائه الراشدين أن يعتادوا القيام كلما يرونه صلى الله عليه وسلم، كما يفعله كثير من الناس .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں یہ رواج نہیں رہا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر تعظیما کھڑے ہو جائیں، اب یہ رواج عام ہو چکا ہے۔“
(مجموع الفتاوى : 374/1)
کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں یا آپ کے ذکر کی تعظیم میں کھڑے ہونا قطعاً ثابت نہیں ہے۔
◈ ابو مجلز لاحق بن حمید تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
خرج معاوية على ابن الزبير وابن عامر، فقام ابن عامر وجلس ابن الزبير، فقال معاوية لابن عامر: اجلس، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من أحب أن يتمثل له الرجال قياما فليتبوأ مقعده من النار .
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عامر رحمہ اللہ کے پاس آئے ، تو ابن عامر رحمہ اللہ کھڑے ہو گئے ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے نہیں ہوئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ سے کہا : بیٹھ جائیے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ آدمی اس کے لیے بت بن کر کھڑے ہوں ، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کرلے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : 586/8 ، مسند الإمام أحمد : 91/4، 93، 100، مسند عبد بن حميد : 413 ، الأدب المفرد للبخاري : 977 ، سنن أبي داود : 5229 ، سنن الترمذي : 2755 ، تهذيب الآثار للطبري : 568/2، 569 وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن“ کہا ہے۔
◈ (تهذيب الآثار للطبري 567/2، 568 وسندہ حسن) میں الفاظ ہیں :
خرج معاوية ذات يوم، فوثبوا فى وجهه قياما، فقال: اجلسوا، اجلسوا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من سره أن يستخم بنو آدم قياما؛ دخل النار .
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ایک دن باہر تشریف لائے ، تو لوگ ان کے سامنے جلدی سے کھڑے ہو گئے۔ فرمایا : بیٹھ جاؤ، بیٹھ جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص چاہے کہ لوگ میرے لئے تعظیما اٹھ کھڑے ہوں، وہ آگ میں داخل ہوگا۔“
◈ محدث البانی رحمہ اللہ (م : 1420ھ) فرماتے ہیں :
دلنا هذا الحديث على أمرين الأول تحريم حب الداخل على الناس القيام منهم له، وهو صريح الدلالة بحيث أنه لا يحتاج إلى بيان، والآخر كراهة القيام من الجالسين للداخل، ولو كان لا يحب القيام، وذلك من باب التعاون على الخير، وعدم فتح باب الشر، وهذا معنى دقيق دلنا عليه راوي الحديث معاوية رضي الله عنه، وذلك بإنكاره على عبد الله بن عامر قيامه له، واحتج عليه بالحديث، وذلك من فقهه فى الدين، وعلمه بقواعد الشريعة التى منها سد الذرائع .
”اس حدیث سے ہمیں دو باتوں کا علم ہوتا ہے :
پہلی بات تو صریح ہے کہ آنے والے کے لئے یہ خواہش رکھنا حرام ہے کہ لوگ میری تعظیم میں اٹھ کھڑے ہوں۔
دوسری بات یہ کہ حاضرین مجلس کو خود اس کی تعظیم میں کھڑا نہیں ہونا چاہئے، یہ ایک ناپسندیدہ عمل ہے ، جب یہ لوگ کھڑے نہ ہوں گے اور آنے والا اس کو پسند نہ کرے گا، تو اس سے خیر پر تعاون ہوگا اور شر کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس لطیف معنی کا بیان راوی حدیث سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا ہے، انہوں نے عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ کو اپنے لیے کھڑے ہونے سے منع کیا اور انہیں حدیث سے دلیل دی۔ یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی دینی فقاہت ہے اور اس قواعد شریعت سے ان کی واقفیت کی دلیل ہے، سد ذرائع بھی شریعت کا ایک قاعدہ ہے۔“
(السلسلة الصحيحة : 629/1)
اس وعید کا تعلق قیام تعظیمی سے ہے، استقبال کے لئے کھڑا ہونا جائز ہے۔
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : 728ھ) ان الفاظ کا مطلب بیان کرتے ہیں :
إن ذلك أن يقوموا له وهو قاعد، ليس هو أن يقوموا لمجينه إذا جاء، ولهذا فرقوا بين أن يقال : قمت إليه، وقمت له، والقائم للقادم ساواه فى القيام بخلاف القائم للقاعد .
”اس وعید کا تعلق ایسی صورت سے ہے کہ ایک شخص بیٹھا ہو اور لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوں، کسی کے استقبال کے لئے کھڑا ہونا اس وعید میں نہیں آتا۔ اس لیے علما نے کسی کی طرف کھڑے ہونے اور کسی کے لیے کھڑے ہونے میں فرق کیا ہے۔ قیام استقبال میں، آنے والا اور اس کی طرف لپکنے والا برابر حیثیت میں کھڑے ہوتے ہیں، جب کہ بیٹھے ہوئے شخص کے لئے تعظیما کھڑے ہونے میں یہ برابری کی سطح ختم ہو جاتی ہے۔“
(مجموع الفتاوی : 375/1)
◈ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں :
كانت إذا دخلت عليه قام إليها، فأخذ بيدها، فقبلها، وأجلسها فى مجلسه، وكان إذا دخل عليها؛ قامت إليه، فأخذت بيده فقبلته ، وأجلسته فى مجلسها .
”وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے استقبال میں کھڑے ہو جاتے ، ان کا ہاتھ تھام کر بوسہ دیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ اسی طرح جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جاتے ، تو وہ آپ کے استقبال میں کھڑی ہوتیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اس کو بوسہ دیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔“
(سنن أبي داود : 5217 ، سنن الترمذي : 3872 وسنده صحيح)
اس روایت کو امام ابن حبان (6952) اور امام حاکم (264/4) رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
یعنی استقبال کے لیے قیام جائز ہے، بظاہر یہ روایت ان احادیث کے معارض ہے، جن میں کھڑے ہونے سے منع کیا گیا ہے، لیکن ان کے درمیان جمع وتطبیق ہوسکتی ہے :
◈ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (م : 751ھ) لکھتے ہیں :
المدموم القيام للرجل، وأما القيام إليه للتلقي إذا قدم؛ فلا يأس به، وبهذا تجتمع الأحاديث .
”کسی آدمی کے لیے تعظیما کھڑا ہونا مذموم ہے اور کسی کے استقبال کے لئے کھڑے ہونے میں حرج نہیں۔ اس سے تمام احادیث میں تطبیق ہو جاتی ہے۔“
(شرح ابن القيم لسنن أبي داؤد مع عون المعبود: 127/14)