فساق، فجار اور اہلِ بدعت سے براءت اور ان کی مجالس سے اجتناب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔

حـــکم البــراء عن الفســـاق و الفـــجــــــار

فاسق اورفاجر لوگوں سے براء ت کا حکم

اہل ایمان کو فساق و فجار سے براء ت کا حکم ہے۔

[وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنۡسٰہُمۡ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ]
(اے لوگو، جو ایمان لائے ہو!) ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے خود انہیں ان کا اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔ (سورۃ الحشر:19)

اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدعتی سے بیزاری اور اظہار نفرت۔

[عن علي بن أبي طالب رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، لعن الله من ذبح لغير الله، ولعن الله من سرق منار الأرض، ولعن الله من لعن والده، ولعن الله من آوى محدثا]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اس شخص پر جو غیراللہ کے نام پر جانور ذبح کرے، جو زمین کی حدیں تبدیل کرے، جو اپنے والد پر لعنت کرے اور جو بدعتی کو پناہ دے۔ [صحیح المسلم:1978]
[عن إبراهيم بن ميسرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من وقر صاحب بدعةٍ فقد أعان على هدم الإسلام]
حضرت ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بدعتی کی عزت کی اس نے اسلام کو گرانے میں مدد کی۔ [شعب الإيمان:9018]

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بدعتیوں سے بیزاری اور نفرت۔

[عن نافع، أن ابن عمر جاءه رجل، فقال: إن فلانا يقرأ عليك السلام ، فقال له: إنه بلغني أنه قد أحدث، فإن كان قد أحدث، فلا تقرئه مني السلام]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: فلاں آدمی نے آپ کو سلام کہا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے سنا ہے کہ اس نے بدعت ایجاد کی ہے، اگر یہ صحیح ہے تو اسے میری طرف سے سلام مت پہنچانا۔ [سنن الترمذی:2152]

اہل ایمان کو فاسق اور فاجر لوگوں کی مجالس سے دور رہنا چاہئے اور ان کی دعوت وغیرہ قبول نہیں کرنی چاہئے۔

[أن عمر بن الخطاب، قال: يا أيها الناس، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فلا يقعدن على مائدة يدار عليها بالخمر]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی ایسے دستر خوان پر مت بیٹھے جہاں شراب پیش کی جاتی ہو۔ [مسنداحمد:125]
[عن ابن عباس، يقول: إن النبي صلى الله عليه وسلم، نهى عن طعام المتباريين أن يؤكل]
سیدنا عبداللہ بن عباس رَضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہم فخر جتلانے والوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابی داؤد:3754]