قرآن آہستہ پڑھنے، تلاوت، غور سے سننے اور تعلیم دینے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب فضائل القرآن

قرآن مجید آہستہ پڑھنے کے احکامات

① سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
الجاهر بالقرآن كالجاهر بالصدقة، والمسر بالقرآن كالمسر بالصدقة
”اعلانیہ (یعنی اونچی آواز سے) قرآن پڑھنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے، اور آہستہ آواز سے تلاوت کرنے والا چھپ کر صدقہ کرنے والے کی مانند ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الصلاة، حدیث 1333۔ ترمذی، کتاب فضائل القرآن، حدیث 2919۔ اس کی سند حسن ہے۔

قرآن کی تلاوت کرنا اور اس کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما اجتمع قوم فى بيت من بيوت الله يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم إلا نزلت عليهم السكينة، وغشيتهم الرحمة، وحفتهم الملائكة، وذكرهم الله فيمن عنده
”جب کچھ لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں مذاکرہ کرتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔“
مسلم، کتاب الذکر والدعاء، حدیث 2699/38۔ ابو داؤد، کتاب الصلاة، حدیث 1455۔

قرآن مجید کو غور سے سننے کے متعلق احکامات

① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:
اقرأ على القرآن
”مجھے قرآن سناؤ۔“
وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ پر اتارا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني أشتهي أن أسمعه من غيري
”میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں۔“
صحیح البخاری، کتاب التفسیر، سورۃ النساء، باب فكيف إذا جئنا۔
پس میں نے سورۃ النساء پڑھی، حتیٰ کہ میں اس آیت تک پہنچا:
﴿ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا ﴾
”پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواہ ہم لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔“
(النساء:41)
تو میں نے اپنا سر اٹھایا، میرے پاس بیٹھے ہوئے کسی آدمی نے اشارہ کیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بہہ رہے تھے۔
مسلم، صلاة المسافرين، حدیث 800/274۔

قرآن مجید کی تعلیم دینا

① سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خيركم من تعلم القرآن وعلمه
”تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھتا اور سکھاتا ہے۔“
بخاری، کتاب فضائل القرآن 5027۔ ابو داؤد، کتاب الصلاة 1452۔ ترمذی، کتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2907۔
② سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خيركم وأفضلكم من تعلم القرآن وعلمه
”تم میں سے بہتر اور افضل وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔“
ترمذی، کتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2907۔