مضمون کے اہم نکات
غیر مجسم تصویریں :
یہ تو ہوا تماثیل (مجسموں) کے بارے میں اسلام کا موقف۔ اب سوال یہ ہے کہ ان فنی تصویروں کا کیا حکم ہے جو کاغذ، کپڑے، پردہ، دیوار، فرش اور نقدی وغیرہ پر بنائی جاتی ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا حکم معلوم کرنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ تصویر فی نفسہ کس چیز کی ہے؟ اسے کہاں رکھا جائے گا؟ کس طرح استعمال کیا جائے گا؟ اور مصور نے اس کو کس غرض سے بنایا ہے؟
اگر یہ فنی تصویریں معبودانِ غیر اللہ کی ہیں، مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام کی تصویر جن کو نصاریٰ نے معبود بنا لیا ہے یا گائے کی تصویر جس کو ہندو پوجتے ہیں، تو اس قسم کی تصویریں بنانے والا جو اس مقصد سے تصویریں بناتا ہے کافر ہے اور کفر و گمراہی کی اشاعت کرنے والا ہے۔ ایسے ہی مصوروں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید وعید سنائی ہے :
إن أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون
”قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب مصوروں کو ہوگا۔“
بخاری کتاب اللباس : باب عذاب المصورین یوم القیامۃ ح: 5950 – مسلم کتاب اللباس: باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ح: 2109
امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہاں مراد وہ مصور ہے جو کسی ایسی چیز کی تصویر بناتا ہے جس کی پرستش کی جاتی ہے۔ اس کا دانستہ طور پر اسی غرض کے لیے تصویر بنانا کفر کے مترادف ہے، لیکن جو شخص اس مقصد سے نہیں بلکہ کسی اور مقصد سے تصویر بناتا ہے تو وہ صرف گنہگار ہے۔
فتح الباری : 383۔10
اسی طرح اس شخص کا معاملہ جو تصویر کو مقدس سمجھ کر آویزاں کرتا ہے۔ یہ حرکت کسی مسلمان سے صادر نہیں ہو سکتی الا یہ کہ وہ اسلام کو پسِ پشت ڈال دے۔
اس سے مماثلت رکھنے والی شکل یہ ہے کہ تصویر کسی ایسی چیز کی بنائی جائے جس کی زندگی میں پرستش نہیں کی جاتی، لیکن مقصود اللہ کی تخلیق کی مشابہت ہو، یعنی تصویر بنانے والا اس بات کا مدعی ہو کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق و ایجاد کا کام کرتا ہے۔ ایسا شخص اپنے اس قصد و ارادہ کی بنا پر دینِ توحید سے خارج ہو جاتا ہے اور ایسے ہی مصوروں کے بارے میں حدیث میں آیا ہے :
إن أشد الناس عذابا الذين يضاهون بخلق الله
”سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق کی مشابہت کرتے ہیں۔“
بخاری کتاب اللباس : باب ما وطی من التصاویر ح : 5954 – مسلم حوالہ سابق ح : 2109/92
یہ معاملہ صرف مصور کی نیت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور غالباً اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے :
ومن أظلم ممن ذهب يخلق كخلقي فليخلقوا حبة أو ذرة
”اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو میری تخلیق کی طرح تخلیق کرنے لگے۔ یہ لوگ ایک دانہ یا ایک ذرہ ہی پیدا کر دکھائیں۔“
بخاری کتاب اللباس : باب نقض الصور ح : 5953 – مسلم حوالہ سابق ح : 2111
یہ الفاظ مشابہت کا قصد کرنے اور الوہیت کی خصوصیت (یعنی تخلیق و ایجاد) میں ہمسری کرنے پر دلالت کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں چیلنج کیا ہے کہ وہ ایک دانہ یا ایک ذرہ ہی پیدا کر دکھائیں۔ اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ کام اسی قصد کے ساتھ انجام دیا تھا، اسی لیے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو اس کا بدلہ یہ دے گا کہ علی رؤس الاشہاد (تمام لوگوں کے سامنے) ان سے اپنی تخلیقات میں جان ڈالنے کے لیے کہا جائے گا اور وہ ان میں کبھی جان نہیں ڈال سکیں گے۔
من جملہ ان تصاویر کے جن کا بنانا اور رکھنا حرام ہے ان شخصیتوں کی تصویریں بھی ہیں جنہیں مذہبی لحاظ سے مقدس سمجھا جاتا ہے یا دنیوی و سیاسی لحاظ سے جن کو قابلِ تعظیم خیال کیا جاتا ہے۔ پہلی قسم کی تصویروں کی مثال انبیاء، ملائکہ اور صالحین کی تصویریں ہیں، جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا اسحاق علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام، سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی تصویریں۔ ان کا رواج نصاریٰ کے ہاں ہے اور ان کی تقلید بعض مسلمان بدعتیوں نے بھی کی ہے، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تصویریں انہوں نے بنا ڈالی ہیں۔
اور دوسری قسم کی تصویروں کی مثال بادشاہوں، زعماء اور فن کاروں کی تصویریں ہیں۔ ان کا گناہ پہلی قسم کی تصویریں بنانے کی بہ نسبت کم ہے۔ لیکن گناہ کی شدت اس صورت میں بڑھ جاتی ہے جبکہ کافروں، ظالموں اور فاسقوں کی تصویریں بنائی جائیں، مثلاً ان حاکموں کی تصویریں جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے بغیر فیصلے کرتے ہیں، ان زعماء کی تصویریں جو اللہ کے پیغام کو چھوڑ کر کسی اور چیز کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں اور ان فن کاروں کی تصویریں جو باطل کو فروغ دیتے اور لوگوں کے اندر بے حیائی اور بد اخلاقی پھیلاتے ہیں۔
عہدِ رسالت اور بعد کے زمانے میں تصویریں زیادہ تر تقدیس و تعظیم کے لیے ہوتی تھیں، اور یہ اکثر روم اور فارس یعنی نصاریٰ اور مجوس کی بنائی ہوئی ہوتی تھیں، اس لیے وہ مذہبی عقیدت اور حکمرانوں کی تقدیس کے اثرات سے پاک نہیں ہوتی تھیں۔
سیدنا ابو الضحیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
كنت مع مسروق فى بيت فيه تماثيل، فقال لي مسروق: هذه تماثيل كسرى؟ فقلت: لا، هذه تماثيل مريم. ان التصوير كان من المجوس، وكانوا يصورون صور ملوكهم حتى فى الأواني، فظهر ان التصوير كان من نصارى وفي هذه القصة قال مسروق: سمعت عبد الله يقول: إن اشد الناس عذابا عند الله المصورون
میں مسروق رحمہ اللہ کے ساتھ ایک گھر میں تھا جس میں تماثیل تھیں۔ ان کو دیکھ کر مسروق رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا : کیا یہ کسریٰ کی تماثیل ہیں؟ میں نے کہا : نہیں، بلکہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی تماثیل ہیں۔ گویا مسروق رحمہ اللہ کا خیال تھا کہ یہ تصویریں مجوس کی بنائی ہوئی ہوں گی کیونکہ مجوس برتنوں وغیرہ پر اپنے بادشاہوں کی تصویریں بنایا کرتے تھے، لیکن معلوم ہوا کہ یہ تصویریں نصرانیوں کی بنائی ہوئی ہیں۔ اس قصہ میں مسروق رحمہ اللہ نے کہا: میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو تصویریں بناتے ہیں۔“
مسلم کتاب اللباس : باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ح : 2109
ان کے علاوہ جو تصویریں غیر ذی روح کی ہوں، مثلاً نباتات، درخت، دریا، جہاز، پہاڑ، چاند، سورج، ستارے وغیرہ قدرتی مناظر کی، تو ان کے بنانے اور رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے اور اس معاملہ میں کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔
اور اگر تصویر کسی ذی روح کی ہو اور اس سے شرک وغیرہ کے کسی قسم کا اندیشہ نہ ہو جس کا بیان اوپر گزر چکا، یعنی کوئی ایسی تصویر نہ ہو جس کی تقدیس و تعظیم کی جاتی ہے اور نہ اس سے تخلیقِ الٰہی کی مشابہت مقصود ہو، تو راقم السطور کی رائے میں ایسی تصویر حرام نہیں ہے اور اس کی تائید صحاح کی درج ذیل احادیث سے ہوتی ہے :
عن أبى طلحة صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الملئكة لا تدخل بيتا فيه صورة. قال بسر: ثم اشتكى زيد بعد، فعدناه فإذا على بابه ستر فيه صورة، فقلت لعبيد الله الخولانى ربيب ميمونة زوج النبى صلى الله عليه وسلم ألم يخبرنا زيد عن الصور يوم الأول؟ فقال عبيد الله: ألم تسمعه حين قال: إلا رقما فى ثوب
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ملائکہ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔“ بسر کہتے ہیں: بعد میں جب زید رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے اور ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ان کے دروازہ کے پردہ پر تصویر تھی۔ میں نے عبید اللہ خولانی رحمہ اللہ سے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ربیب (زیر کفالت) تھے کہا کہ زید رضی اللہ عنہ نے ہمیں تصویروں کے بارے میں پہلے دن کیا بات بتائی تھی؟ عبید اللہ رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”جس وقت انہوں نے حرمت کی بات کہی تھی اس وقت اس استثناء کا بھی تو ذکر کیا تھا کہ الا یہ کہ کپڑے میں نقش ہو۔“
بخاری کتاب اللباس : باب من کرہ القعود علی الصور ح : 5958 – مسلم حوالہ سابق ح : 2106/85
عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبه أنه دخل على أبى طلحة الأنصاري يعوده فوجد عنده سهل بن حنيف، قال: فدعا أبو طلحة إنسانا ينزع نمطا تحته، فقال له سهل: لم تنزعه؟ قال : لأن فيه تصاوير وقد قال فيه النبى صلى الله عليه وسلم ما قد علمت، قال سهل: أولم يقل إلا ما كان رقما فى ثوب؟ فقال أبو طلحة: بلى، ولكنه أطيب لنفسي
سیدنا عتبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ وہاں انہوں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو موجود پایا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے کہا کہ وہ نیچے سے دری نکال لیں۔ یہ سن کر سہل رضی اللہ عنہ نے کہا اسے کیوں نکالتے ہو؟ انہوں نے کہا : اس لیے کہ اس میں تصویریں بنی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویروں کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے اس سے آپ واقف ہی ہیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تو فرمایا ہے الا یہ کہ کپڑے میں نقش ہو؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا، صحیح ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس کو ہٹا دینا بہتر ہوگا۔
ترمذی کتاب اللباس : باب ما جاء فی الصورۃ ح: 1850 – نسائی کتاب الزینۃ: باب التصاویر ح: 5351
کیا یہ دونوں حدیثیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ حرام تصویروں سے مراد مجسمے ہیں جن کو تماثیل کہتے ہیں!
لیکن جو تصویریں تختیوں پر بنائی جاتی ہیں یا کپڑے، فرش، دیوار وغیرہ پر، جن کو منقش کیا جاتا ہے ان کی حرمت کسی ایسی حدیث سے ثابت نہیں ہے جو صحیح بھی ہو اور صریح بھی، نیز وہ کسی دوسری حدیث سے متعارض بھی نہ ہو۔
البتہ ایسی صحیح حدیثیں موجود ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی تصاویر کے بارے میں ناگواری کا اظہار فرمایا ہے کیونکہ اس میں عیش پسندوں اور دنیوی مفاد کے پرستاروں کے ساتھ مشابہت کا پہلو ہے۔
عن أبى طلحة الأنصاري قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تدخل الملئكة بيتا فيه كلب ولا تماثيل. قال: فأتيت عائشة فقلت: إن هذا يخبرني ان النبى صلى الله عليه وسلم قال: لا تدخل الملئكة بيتا فيه كلب ولا تماثيل، فهل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر ذلك؟ فقالت: لا…. ولكن سأحدثكم ما رأيته فعل، رأيته خرج فى غزاته فأخذت نمطا فسترته على الباب، فلما قدم فرأى النمط عرفت الكراهية فى وجهه فجذبه حتى هتكه أو قطعه وقال: إن الله لم يأمرنا ان نكسو الحجارة والطين. قالت: فقطعنا منه وسادتين وحشوتهما ليفا فلم يعب ذلك على
سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمے ہوں۔ راوی زید بن خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ملائکہ کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمے ہوں۔ کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: نہیں، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ بیان کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ پر تشریف لے گئے تھے، میں نے ایک چادر لی اور دروازے پر پردہ لگا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور چادر کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کو کھینچ کر اسے پھاڑ ڈالا اور فرمایا: ”اللہ نے ہمیں پتھر اور مٹی کو کپڑوں سے آراستہ کرنے کا حکم نہیں دیا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ”ہم نے اس سے دو تکیے بنا لیے اور اس میں کھجور کی چھال بھر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔“
مسلم کتاب اللباس : باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ح : 2106/87
تنبيه :
مصنف كي ذكر كرده سيده عائشه رضي الله عنها والي حديث دو چيزوں پر دلالت كرتي هے :
يه كه تصويريں لٹكانا حرام هيں كيونكه نبي صلى الله عليه وسلم نے اس پرده كو پهاڑ ديا تها. اور يه واضح هے كه كپڑا پهاڑ دينے سے مال تلف هوتا هے اور يه تب هي جائز هو سكتا هے جب كوئي چيز حرام هو اور اس سے زجر و توبيخ اور تاديب كرنا مقصود هو.
يه كه ديواروں كو پردوں سے ڈهانپنا نا پسنديده عمل هے، خواه وه پردے تصوير والے نه بهي هوں. نبي صلى الله عليه وسلم كا فرمان هے كه الله تعالىٰ نے هميں پتهر اور مٹي كو پوشش پهنانے كا حكم نهيں ديا. معمولي غور و فكر سے اس حديث سے يهي معنى ظاهر هوتا هے. اور آداب زفاف ميں اس حديث كي شرح ميں جو هم نے لكها هے علماء نے بهي يهي مفهوم ليا هے. (صفحه نمبر 19، رقم 135)
ليكن مؤلف پر دونوں معاملات گڈمڈ هو گئے هيں. انهوں نے ان دونوں كو ايك هي قرار دے ديا هے اور نبي صلى الله عليه وسلم كا مذكوره فرمان انهوں نے ان پردوں پر قياس كر ليا هے جن پر تصويريں هوں. اس پر يقين ركهتے هوئے تصويريں لٹكانے كو كراهت تنز يهي پر محمول كيا هے. اور اس پردے كو پهاڑنے كا عمل جو نبي صلى الله عليه وسلم نے كيا هے، ادهر توجه مبذول نهيں فرمائي. اور نه هي نبي صلى الله عليه وسلم كے اس قول كي جانب التفات كيا هے كه آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : ”الله تعالىٰ نے هميں پتهروں اور مٹي كو ڈهانپنے كا حكم نهيں ديا.“ يه مطلق حكم هے اور اس كا مطلب هے كه نبي صلى الله عليه وسلم كي مراد يه بهي هے كه تصويروں كے بغير بهي ديواروں پر پردے نه ڈاليں.
پهر مؤلف اس نتيجه پر پهنچے كه اسے بعض ائمه كي جانب منسوب كيا هے جو كه انهوں نے كها نهيں بلكه ان كے قول كے خلاف هے. حديث بيان كرنے كے بعد فرماتے هيں : ”اس حديث سے زياده سے زياده كراهت تنز يهي ثابت هوتي هے كيونكه ان ديواروں كو لباس پهنانے كي ممانعت هے جن پردوں پر تصاوير هوں.“
امام نووي رحمه الله فرماتے هيں : ”الله تعالىٰ نے هميں اس كا حكم نهيں ديا“ يه تقاضا كرتا هے كه يه نه تو واجب هے، نه هي مندوب هے اور نه هي تحريم كا تقاضا كرتا هے.
ميں كهتا هوں امام نووي رحمه الله نے يه كسي اور معامله ميں كها هے كه ديواروں كو پردوں سے ڈهانپنا منع هے. يه تصويروں كے بارے ميں نهيں. اور تصويروں كے بارے ميں آپ كا قول صريح طور پر حرام هونے كا تقاضا كرتا هے. ميں نے ان كي گفتگو حديث نمبر (134) كے تحت نقل كي هے. انهوں نے بهت تاكيد كے ساته اس حديث كي شرح ميں دونوں باتوں كے درميان تفريق كي هے.
كهتے هيں كه سيده عائشه رضي الله عنها كا يه كهنا كه آپ صلى الله عليه وسلم نے پرده پهاڑ ديا اس كا مطلب هے كه اسے كاٹ ديا اور تصويريں تلف كر ديں. يه بعد والي روايات اس كي وضاحت كرتي هيں كه اس پرده ميں پروں والے گهوڑے كي تصويريں تهيں. اس سے برائي كو هاته سے روكنے پر استدلال كيا جاتا هے. اور اس پر بهي كه حرام تصويريں پهاڑ دي جائيں. اور يه بهي دليل هوئي كه برائي پر اظهار غضب و ناراضي درست هے.
ليكن نبي صلى الله عليه وسلم نے جب پرده كهينچا اور اسے دور كيا اور كها كه الله تعالىٰ نے هميں پتهروں اور مٹي كو لباس پهنانے كا حكم نهيں ديا، اس حديث سے علمائے كرام نے استدلال كيا هے كه ديواروں پر پردے ڈالنا اور گهروں كو كپڑوں سے سنوارنا منع هے، يه ممانعت تنز يهي هے، تحريمي نهيں. يهي صحيح بات هے.
همارے اصحاب ميں سے شيخ ابو فتح نصر مقدسي رحمه الله فرماتے هيں كه يه حرام هے. حالانكه حديث ميں ايسي كوئي چيز نهيں جو اس كے حرام هونے كا تقاضا كرتي هے. كيونكه حقيقي الفاظ بتا رهے هيں كه الله نے هميں پتهروں اور مٹي كو ڈهانپنے كا حكم نهيں ديا.
تنبيه نمبر : 1
حديث بيان كرنے كے بعد مؤلف فرماتے هيں كه اس حديث ميں نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے تصويروں والے پردے كاٹنے كا حكم نهيں ديا صرف هٹانے كا حكم ديا هے. اس سے ظاهر هوتا هے كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ايسے پردے كا وجود گهر ميں برقرار ركها هے جس ميں پرندے وغيره كي تصويريں تهيں.
ميں كهتا هوں پرده آپ صلى الله عليه وسلم نے برقرار نه ركها تها بلكه اسے پهاڑ ديا تها، جيسا كه اس سے پهلي حديث ميں گزر چكا هے، ليكن وه پرده جس ميں مورتياں تهيں، يه صحيح هے كه اسے برقرار ركها تها، ليكن يه كب هوا تها اس كے حرام هونے سے پهلے تها يا بعد ميں تها، اگر حرام قرار ديے جانے سے پهلے تها تو اس سے فقط كراهت پر استدلال كرنا درست نهيں. جيسا كه مؤلف كا مذهب هے. كيونكه يه تحريم سے پهلے تها. اگر اس كے بعد كا تها تو پهر كراهت پر استدلال كرنا درست هے. ليكن اسے ثابت كرنا ممكن نهيں.
تو پهر جمع و تطبيق كي صورت هي باقي ره جاتي هے اور وه يه قاعده هے كه تعارض كي صورت ميں يا جهالت تاريخ كي صورت ميں منع والے حكم كو جائز والے حكم پر مقدم ركها جاتا هے. امام نووي رحمه الله نے يهي كيا هے. فرماتے هيں : ”يه حكم هے كه جس پرده ميں تصوير هو اس كي حرمت سے پهلے تها. يهي وجه هے كه اس آخري مرتبه سے پهلے بهي رسول الله صلى الله عليه وسلم اس گهر ميں داخل هوتے اور ديكهتے تهے ليكن اس كا انكار نه كرتے تهے.“
تنبيه نمبر : 2
مؤلف اپنے سابقه كلام كے بعد فرماتے هيں :
اس قسم كي احاديث كي بناء پر بعض سلف كهتے هيں. ”ممانعت ان تصويروں كي هے جن كا سايه هو. اور جن تصويروں كا سايه نهيں، ان ميں كوئي حرج نهيں.“
ميں كهتا هوں : يه قاسم بن محمد رحمه الله كا قول هے اور كسي كا نهيں. امام نووي رحمه الله فرماتے هيں : ”يه باطل مذهب هے.“ جيسا كه حديث نمبر (135) كے تحت گزرا هے. مصنف نے يهاں امام نووي رحمه الله سے اس ليے نقل كيا هے تاكه وضاحت ميں اس كا تعاقب كر سكے. فتح الباري ميں حافظ ابن حجر رحمه الله نے اس كا تعاقب كيا هے. قاسم بن محمد رحمه الله جو مدينه منوره كے فقهاء ميں سے هيں اور اپنے وقت كے سربرآورده عالم دين تهے، يه مذهب صحيح سند سے ان سے منقول هے. ميں كهتا هوں : حافظ ابن حجر رحمه الله كا يه تعاقب ايك صورت ميں هي تعاقب هے، جب اس كي گفتگو ميں غور و فكر كيا جائے تو اس كي تصديق هوتي هے، اس كا خلاصه يهي هے كه وه نووي رحمه الله پر اس وجه سے تنقيد كرتے هيں كه انهوں نے بلا وجه اس مذهب كو باطل قرار دے ديا هے. حافظ ابن حجر رحمه الله نے اپنے تعاقب كے آخر ميں كها هے :
”اس بارے ميں وارد احاديث كو آپس ميں جمع و تطبيق كريں تو پته چلتا هے كه يه مذهب مرجوح هے، كيونكه قاسم رحمه الله نے جن تصويروں ميں رخصت دي هے يه وه هيں جو پامال كي جائيں، ليكن ان كي رخصت نهيں دي جو گاڑي يا گهر ميں آويزاں كي جاتي هيں.“ (ناصر الدين الباني رحمه الله)
اس حدیث سے زیادہ سے زیادہ جو حکم اخذ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ دیواروں وغیرہ کو تصویر والے پردوں سے آراستہ کرنا مکروہِ تنزیہی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حدیث میں ایسی کوئی بات نہیں جو حرمت کی متقاضی ہو کیونکہ حدیث کے الفاظ ”اللہ نے ہمیں اس کا حکم نہیں دیا“ سے واجب ہونا ثابت ہوتا ہے اور نہ مندوب ہونا اور نہ ہی اس کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔
شرح مسلم : 14/86-87
ایسی ہی ایک روایت مسلم کی ہے جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
كان لنا ستر فيه تمثال طائر وكان الداخل إذا دخل استقبله فقال لى رسول الله صلى الله عليه وسلم: حولى هذا فإني كلما دخلت فرأيته ذكرت الدنيا
”ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر پرندہ کی تصویر تھی، جب کوئی شخص داخل ہوتا تو اس کی نظر اس پر پڑتی۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ہٹا دو کیونکہ جب میں اندر داخل ہوتا ہوں تو میری نظر اس پر پڑتی ہے اور دنیا یاد آجاتی ہے۔“
مسلم کتاب اللباس : باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ح : 2107/88
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھاڑنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا کہ اسے ہٹا دو۔ یہ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی چیزوں کو جو عام طور سے دنیا اور سامانِ زینت کو یاد دلاتی ہیں، اپنے سامنے دیکھنا پسند نہیں فرماتے تھے۔
تنبيه :
اس حديث ميں يه ذكر نهيں كه يه تصويريں ذي روح (جاندار) كي تهيں. مصنف كا اس سے استدلال پكڑنا صحيح نهيں، كيونكه نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے اس پردے كا وجود اپنے گهر ميں برقرار ركها، جس ميں تصويريں تهيں. يه تب هي كيا تها جبكه آپ كے سامنے يه ثابت هو چكا تها كه يه جاندار چيزوں كي هيں. اس كا جواب يه هے كه يه حرام قرار دينے سے پهلے كي بات هے، جيسا كه اس سے پهلي والي حديث ميں گزر چكا هے.
تنبيه :
مصنف نے اس حديث كو يهاں دوباره اس ليے بيان كيا هے تاكه اس كے ذريعه اس كے مذهب كي تائيد هو جائے جو مجسم تصويروں كو هي حرام قرار ديتے هيں، غير مجسم كو حرام نهيں كهتے. جس طرح همارا مشاهده هے كه الله تعالىٰ كا مخلوق كو تخليق كرنا، سطح پر تصوير مراد نهيں، بلكه وجود والي مجسم تصويريں هيں، جيسا كه الله تعالىٰ كا فرمان هے :
”وهي هے الله جو تمهاري ماؤں كے رحموں ميں تمهاري تصوير كشي كرتا هے جس طرح چاهتا هے.“
(آل عمران : 6)
ميں كهتا هوں : ”اگر يه منطق صحيح تصور كر لي جائے تو يه مجسم تصوير كے بهي جائز هونے تك پهنچا دے گي.“ اس كي وضاحت يوں هے كه الله تبارك و تعالىٰ كا مخلوق كو پيدا كرنا كوئي پيدا كرنا نهيں، جيسا كه مشاهده سے پته چلتا هے كه اس ميں روح نه هو، بلكه اس كا پيدا كرنا تو زنده و متحرك هے. اس كا دل هے جو دهڑكتا هے اور اس كے جوڑ اور اعضاء هيں.
جبكه مصور اس مخلوق كے ظاهر كي تصوير بناتا هے مگر بناتا هر طرف سے هے. اسي طرح سطح بنانے والا مصور بهي ظاهر هي كي تصوير بناتا هے ليكن يه ايك جانب سے بناتا هے. مجسم تصوير اور غير مجسم تصوير ميں يهي فرق هے. جب يه فرق محض شكلي هے تو اس كے تقاضا كو مدنظر ركهتے هوئے مصنف نے غير مجسم تصوير كي اجازت دي هے، جبكه اس سے لازم آتا هے كه وه مجسم تصوير كو بهي جائز قرار ديں، كيونكه يه الله تعالىٰ كي پيدائش ميں ظاهري مشابهت هے، حقيقي نهيں. اور جس چيز سے ايك باطل لازم آتا هو تو اسے اپنانا بهي باطل هے.
اگر يه كها جائے كه مجسم تصوير اس ظاهري مشابهت هي كي وجه سے حرام قرار دي گئي هے، اس ليے تو مجسم تصوير بنانے والے سے كها جائے گا (توبيخ و ڈانٹ پلاتے هوئے) جو تم نے پيدا كيا هے اسے زنده كرو.
اس كے جواب ميں هم كهيں گے كه يه تو غير مجسم تصوير بهي حرام قرار دينے كے ليے هماري حجت هے، كيونكه اس ميں ظاهري مشابهت پائي جاتي هے. زياده سے زياده اتنا هي فرق هے كه مجسم تصوير ميں مشابهت مكمل پائي جاتي هے اور غير مجسم ميں مكمل نهيں پائي جاتي، يعني كامل مورتيوں اور ناقص مورتيوں ميں هے. اس سے ايك دوسرے كا جواز تو نهيں نكلتا اور نه هي حرام قرار دينے كے حكم ميں كوئي تفريق پيدا هوتي هے. حرام هونے ميں دونوں برابر هيں، جيسا كه مؤلف نے صفحه (90، رقم 89) كے تحت ثابت كيا هے.
هم بهي يهي پسند كرتے هيں كه مجسم اور غير مجسم تصويروں كے درميان تفريق نه كي جائے بلكه دونوں كو حرام قرار دينے ميں جمهور صحابه كرام اور ان كے بعد والے علمائے كرام والا طريقه هي اپنايا جائے كه هر قسم كي تصويروں كو عام حرام قرار ديا جائے. جيسا كه نووي سے پهلے نقل هو چكا هے. خصوصا راوي حديث سيدنا ابو هريره رضي الله عنه نے بهي يهي مفهوم بيان كيا هے.
خاص طور سے اس لیے بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنتیں اور نفل نمازیں گھر ہی میں ادا کرتے تھے۔ اس قسم کی تصاویر و تماثیل والی چادریں اور پردے انسان کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں، جس کے نتیجہ میں خشوع کا اہتمام کرنے اور مناجات کی طرف متوجہ ہونے سے دل غافل ہو جاتا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
كان قرام لعائشة سترت به جانب بيتها، فقال لها النبى صلى الله عليه وسلم: أميطيه عنى فإنه لا تزال تصاويره تعرض لي فى صلاتي
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا، جسے وہ گھر کے ایک جانب لگایا کرتی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اس کو ہٹا دو کیونکہ اس کی تصویریں نماز میں میرے سامنے ہوتی ہیں۔“
بخاری کتاب اللباس : باب کراہیۃ الصلاۃ فی التصاویر ح : 5959
اس سے یہ بات واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے پردہ کے وجود کو جس میں پرندہ کی تصویر تھی اور دوسری تصویروں والے پردے کو بھی برداشت کر لیا۔ یہ اور اس قسم کی دیگر احادیث کے پیش نظر سلف اس بات کے قائل ہیں کہ ممنوع صرف وہ تصویریں ہیں جن کا سایہ پڑتا ہو، یعنی جو مجسم ہوں۔ اور جن کا سایہ نہیں پڑتا ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں اس کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ مسلک باطل ہے۔
(شرح مسلم: 10۔ 82)
لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس پر گرفت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ مسلک قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے جو مدینہ کے ممتاز فقیہ تھے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
فتح الباری : 10/388
اور شیخ بخیت رحمہ اللہ نے خطابی کا یہ قول نقل کیا ہے :
”جو شخص حیوانات کی شکلیں بناتا ہے اور نقاش جو درختوں وغیرہ کے نقوش بناتا ہے، ایسے لوگ میں سمجھتا ہوں کہ اس وعید میں داخل نہیں ہیں، اگرچہ کہ اس بات کی تمام ہی چیزیں مکروہ ہیں اور اس سے انسان کی توجہ لایعنی (بے فائدہ) کاموں کی طرف ہو جاتی ہے۔“
خطابی کے اس قول پر شیخ بخیت رحمہ اللہ نے یہ نوٹ لکھا ہے : اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص جاندار کی شکل بناتا ہے وہ جاندار کی صورت نہیں ایجاد کرتا، بلکہ وہ شکل و صورت کا محض خاکہ بناتا ہے۔ اس طرح جو تصویر بنائی جاتی ہے اس کے بہت سے ایسے اعضاء غائب ہوتے ہیں جن کے بغیر زندہ رہنا ممکن نہیں ہے، بلکہ درحقیقت جسم ہی غائب ہوتا ہے۔ لہذا یہ جاندار کی وہ تصویر نہیں ہے جس کا بنانے والا قیامت کے دن روح پھونکنے کی سزا کا مستحق ہوگا اور وہ اس پر روح پھونک نہیں سکے گا۔ بظاہر ایسی تصویر کا اطلاق جس کے بارے میں وعید آئی ہے، سایہ رکھنے والے مجسمہ پر ہوتا ہے۔ ایسا مجسمہ جس کا کوئی اہم عضو جو زندہ رہنے کے لیے ناگزیر ہے غائب نہ ہو۔ جو مجسمہ اس نوعیت کا ہو اس میں یہ قابلیت ہوتی ہے کہ روح پھونکی جا سکے۔ لیکن اگر مصور اس میں روح پھونکنے سے عاجز ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تصویر (مجسمہ) میں زندگی کو قبول کرنے کی قابلیت نہیں ہے، بلکہ یہ مصور کا نقص ہے، اس لیے اس کے عاجز ہونے کی ذمہ داری خود اسی پر عائد ہوتی ہے۔
غیر مجسم تصویروں کے جواز کی جو رائے ہے اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
ومن أظلم ممن ذهب يخلق كخلقي فليخلقوا ذرة فليخلقوا شعيرة
”اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو میری تخلیق کی طرح تخلیق کرنے لگے!! ایسے لوگوں کو چاہیے کہ ایک ذرہ یا جو کا ایک دانہ ہی پیدا کر دکھائیں۔“
بخاری کتاب اللباس : باب نقض الصور ح : 5953 – مسلم کتاب اللباس : باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان ح : 2111
در حقیقت اللہ تعالیٰ کی تخلیق جیسا کہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں محض خاکہ نہیں ہے جو کسی سطح چیز پر بنایا گیا ہو، بلکہ وہ حجم رکھنے والی مجسم تصویریں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ
”وہی ہے جو رحم مادر میں تمہاری جس طرح چاہتا ہے صورت گری کرتا ہے۔“
(آل عمران : 6)
اس مسلک کے خلاف اگر کوئی دلیل پیش کی جا سکتی ہے تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے جسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے :
إنها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما رآها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب فلم يدخل، فعرفت فى وجهه الكراهية فقالت: يا رسول الله: أتوب إلى الله وإلى رسوله ماذا أذنبت؟ فقال: ما بال هذه النمرقة؟ فقالت: اشتريتها لك تقعد عليها وتتوسدها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أصحاب هذه الصور يعذبون ويقال لهم: أحيوا ما خلقتم. ثم قال: إن البيت الذى فيه الصورة لا تدخله الملائكة
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک تکیہ خریدا جس میں تصویریں بنی تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ دروازہ ہی پر کھڑے ہو گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر ناگواری کے آثار دیکھ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع (توبہ) کرتی ہوں، مجھ سے کون سا گناہ سرزد ہوا ہے؟ فرمایا: ”یہ تکیہ کیسا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے اور ٹیک لگانے کے لیے خریدا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس قسم کی تصاویر بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اب اپنی تخلیق میں جان ڈالو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“
مسلم حوالہ سابق ح : 2107/96
صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں :
فأخذته فجعلته مرفقتين، فكان يرتفق بهما فى البيت
”پھر میں نے اس کے دو چھوٹے تکیے بنائے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگانے کے لیے گھر میں استعمال کرتے رہے۔“
مسلم حوالہ سابق ح : 2107
تنبيه :
مصنف نے يه حديث بيان كي هے جو كه اس مذهب كے خلاف هے كه غير مجسم تصوير جائز هے. حقيقت ميں يه اس مذهب كا ابطال كرتي هے جيسا كه پهلے گزر چكا هے.
مصنف نے اسے اس ليے يهاں وارد كيا هے كه يه كهه سكے كه يه تمام معاملات كے معارض (مخالف) هے. اور چار باتوں كا ذكر كيا هے جو تمام كي تمام كمزور هيں. ان كا ضعف سابقه تعليمات سے واضح هو چكا هے. آخري معامله كے ذكر كيے بغير كوئي چاره كار نهيں اور اس كي خامي بهي مجبورا ذكر كرنا ضروري هے كه يه حديث اس حديث سے ٹكراتي هے جو سيده عائشه رضي الله عنها كے گهر پردے كے متعلق هے اور اس پردے كے هٹانے كا رسول الله صلى الله عليه وسلم نے حكم ديا تها.
حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے هيں : ”اس حديث كے درميان اور سيده عائشه رضي الله عنها والي حديث جو قالين كي تصويروں والي هے، ان كے درميان جمع و تطبيق كرنا بهت مشكل هے. يه حديث دلالت كرتي هے كه آپ صلى الله عليه وسلم نے اس پرده كو برقرار ركها اور نماز پڑهي جبكه وه لٹكا هوا تها اور اسے اتارنے كا حكم اس وجه سے نهيں ديا تها كه اس ميں وه تصويريں آپ كو نظر آئي تهيں جس كي وجه سے توجه نه رهي، اس وجه سے نهيں تها كه اس ميں تصويريں تهيں.“
حافظ ابن حجر رحمه الله نے اس ميں اس طرح تطبيق دي هے كه جسے اتارنے كا حكم ديا تها اس ميں ذي روح (جاندار) كي تصويريں تهيں اور جو نه اتارنے كا حكم ديا تها اس ميں حيوانات كي تصويريں نه تهيں. ليكن اس مطابقت پر بهي مخالفت سامنے آتي هے كه وه پرده جو آپ صلى الله عليه وسلم نے برقرار ركها تها اس ميں پرندوں كي تصويريں تهيں.
ميں كهتا هوں : سيده عائشه رضي الله عنها كے پرده والي حديث (137) جو هے يه اس كے علاوه هے جو اس كے بعد والے پردے كي حديث هے، جيسا كه ان كا سياق و سباق بتاتا هے.
پهلي حديث ميں هے كه جب داخل هونے والا گهر ميں داخل هوتا تو يه پرده سامنے آتا تها. دوسري ميں هے كه سيده عائشه رضي الله عنها نے اپنے گهر كي ايك جانب ڈهانپ ركهي تهي اور اس كے بارے ميں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا : ”اس كي تصاوير ميرے سامنے نماز ميں پيش آتي رهي هيں.“ يه واضح نص هے كه يه ايسا نه تها كه هر داخل هونے والے كا اس سے سامنا هوتا. معلوم هوتا هے كه يه دو مختلف واقعات هيں. ان ميں سے ايك كو دوسرے پر قياس كرنا درست نهيں، يهي وجه هے جس كي بناء پر حافظ ابن حجر رحمه الله نے جو مطابقت دي هے وه هر مخالفت سے صحيح و سلامت رهتي هے. اور سيده عائشه رضي الله عنها والي يه حديث بهي هر ٹكراؤ سے محفوظ رهتي هے اور اس كي دلالت يه ثبوت فراهم كر رهي هے كه غير مجسم تصويروں كو بهي محفوظ ركهنا حرام هے. والله الموفق. (ناصر الدين الباني رحمه الله)
لیکن اس حدیث سے درج ذیل امور متعارض ہیں :
➊ یہ حدیث مختلف طریقوں سے روایت کی گئی ہے جن میں بظاہر تعارض ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ تصویر والے پردہ کو پھاڑ کر جو تکیہ بنا لیا گیا تھا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیا، لیکن دوسری روایتوں میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو استعمال نہیں فرمایا۔
➋ بعض روایتیں محض کراہت پر دلالت کرتی ہیں اور یہ کراہت بھی دیوار کو مصور پردہ سے آراستہ کرنے کے سلسلے میں ہے جو ظاہر ہے کہ ایک قسم کی عیش پسندی ہے، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
إن الله لم يأمرنا أن نكسو الحجارة والطين
”اللہ نے ہمیں پتھر اور مٹی کو پوشاک پہنانے کا حکم نہیں دیا ہے۔“
مسلم : 5520
➌ مسلم کی حدیث جو خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پرندہ کی تصویر والے پردہ کے بارے میں منقول ہے اور جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مذکور ہے کہ : ”اسے ہٹا دو کیونکہ جب میری نظر اس پر پڑتی ہے تو دنیا یاد آجاتی ہے۔“ یہ مطلقا حرمت پر دلالت نہیں کرتی۔
➍ نیز یہ حدیث ”قرام“ والی حدیث سے متعارض ہے، جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جو پردہ تھا اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہٹانے کا حکم دیا کیونکہ اس کی تصویریں نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتی تھیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں :
”اس حدیث میں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نمرقہ (تکیہ) والی حدیث میں تطبیق مشکل ہے کیونکہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پردہ کو ہٹانے کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے دیا تھا کہ تصویر کا رخ نماز کے وقت بالکل سامنے ہوتا تھا، ورنہ خاص طور سے تصویر کی وجہ سے یہ حکم نہیں دیا گیا تھا۔“
فتح الباری : 10/388
اس کے بعد موصوف نے دونوں حدیثوں میں مطابقت اس طرح پیدا کی ہے کہ پہلی حدیث میں جن تصاویر کا ذکر ہے وہ ذی روح (جانداروں) کی تصاویر تھیں، اور اس حدیث میں جن کا ذکر ہے وہ جاندار کی نہیں تھیں۔
یہ تطبیق صحیح نہیں ہے کیونکہ قرام (پردہ) والی حدیث میں پرندہ کی تصویر کا ذکر موجود ہے۔
➎ یہ حدیث ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے متعارض ہے جس میں کپڑے کے نقش کو حرمت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”دونوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو کراہت پر محمول کیا جائے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو مطلق جواز پر محمول کیا جائے، جو کراہت کے منافی نہیں ہے۔“
تفسیر قرطبی : 14/273
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس تطبیق کو مستحسن کہا ہے۔
➏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نمرقہ (تکیہ) والی حدیث کے راوی ان کے بھتیجے قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ ہیں، جن کے نزدیک ایسی تصویریں جائز تھیں، جن کا سایہ نہ پڑتا ہو۔ ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”میں قاسم رحمہ اللہ کے پاس گیا، وہ مکہ کے بالائی حصہ میں اپنے گھر میں مقیم تھے۔ میں نے ان کے گھر میں ایک حجلہ دیکھا جس میں قندس (ایک آبی جانور) اور عنقاء (پرندہ) کی تصویریں تھیں۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں :
”ممکن ہے حدیث إلا رقما فى ثوب (الا یہ کہ کپڑے میں نقش ہو) کو انہوں نے عام جواز پر محمول کیا ہو۔ اور غالباً سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پردہ والی حدیث کی توجیہ ان کے نزدیک یہ رہی ہو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا پردہ مصور (تصویر والا) بھی تھا اور اس سے دیوار کی پوشش کا کام بھی لیا گیا تھا۔ جبکہ حدیث میں آتا ہے: اللہ نے ہمیں مٹی اور پتھر کو پوشاک پہنانے کا حکم نہیں دیا ہے۔“ قاسم بن محمد رحمہ اللہ مدینہ کے سات ممتاز فقہاء میں سے ہیں۔ انہوں نے نمرقہ والی حدیث روایت کی ہے۔ اگر وہ حجلہ جیسی چیزوں میں تصویر کو جائز نہ سمجھتے تو اس کو استعمال نہ کرتے۔“
(تصویر کی بحث کے لیے ملاحظہ ہو فتح الباری، کتاب اللباس، ج 12 13 5 تا 518)
لیکن ان احادیث سے جو تصویروں اور مصورین کے بارے میں وارد ہوئی ہیں یہ احتمال ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مرحلہ میں جبکہ شرک و بت پرستی اور تصاویر کو مقدس سمجھنے کا زمانہ گزرے ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا، کہ تصویر کے معاملہ میں سختی برتی ہو، لیکن جب عقیدہ توحید دل و دماغ میں راسخ ہو گیا تو غیر مجسم تصاویر کی اجازت ہو، جو فی الحقیقت محض نقوش اور خاکے ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اپنے گھر میں کسی تصویر والے پردہ کا وجود برداشت نہ کرتے اور نہ ان تصاویر کو مستثنیٰ قرار دیتے جو کپڑے میں نقش و نگار کے طور پر بنائی جاتی ہیں۔ اس پر کاغذ اور دیوار کی تصاویر کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔
طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”آغاز میں شارع نے ہر قسم کی تصویر سے منع فرمایا تھا، خواہ وہ نقش والی ہی کیوں نہ ہو۔ چونکہ تصویر پرستی کا زمانہ گزرے ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اس لیے ہر قسم کی تصویریں ممنوع قرار دیں۔ پھر جب ممانعت کے حکم پر عمل درآمد ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑوں میں بنے ہوئے نقوش کو عام ضرورت کے پیش نظر مستثنیٰ کر دیا، نیز ایسی تصاویر کو بھی جائز کر دیا جن کی بے وقعتی کی جاتی ہے۔ جس تصویر کی بے وقعتی کی جاتی ہو اس کی تعظیم کا اندیشہ نہیں رہتا۔ البتہ جن تصاویر کی عام طور سے بے وقعتی نہیں کی جاتی ان کی ممانعت برقرار رہی۔“
طحاوي في معاني الآثار – 4 / 283 ، 284