تلاوت کے ذریعے قرآن مجید کی حفاظت و دیکھ بھال کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعاهدوا هذا القرآن، فوالذي نفس محمد بيده لهو أشد تفلتا من الإبل فى عقلها
”اس قرآن کی حفاظت و دیکھ بھال کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! وہ چھوٹ (بھول) جانے میں اس اونٹ سے بھی زیادہ شدید ہے جو اپنی رسی میں بندھا ہوتا ہے۔“
بخاری، کتاب فضائل القرآن 5033۔ مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 791۔
② سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما مثل صاحب القرآن كمثل الإبل المعقلة، إن عاهد عليها أمسكها، وإن أطلقها ذهبت
”صاحب (حافظ) قرآن بندھے ہوئے اونٹ کی مثل ہے، اگر وہ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرے گا تو اس پر قابو رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو وہ چلا جائے گا۔“
بخاری، کتاب فضائل القرآن 5031۔ مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 789۔
③ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بئس ما لأحدهم أن يقول نسيت آية كيت وكيت، بل هو نسي، استذكروا القرآن، فإنه أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم بعقلها
”اگر کوئی شخص یوں کہتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں آیت بھلا دی تو یہ برا ہے۔ بلکہ وہ اسے بھلا دی گئی ہے۔ قرآن مجید کی حفاظت کرو، وہ آدمیوں کے سینوں سے نکلنے کے بارے میں جانوروں کے اپنی رسیوں سے نکل جانے سے بھی زیادہ شدید ہے۔“
بخاری، کتاب فضائل القرآن 5032۔ مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 790۔
قرآن مجید اچھی آواز کے ساتھ پڑھنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ما أذن الله لشيء ما أذن لنبي حسن الصوت يتغنى بالقرآن يجهر به
”اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے نبی کی تعلیم کو اچھی آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت کان لگا کر سنتا ہے، اس طرح کسی اور چیز کے بارے میں کان نہیں لگاتا۔“
بخاری، کتاب فضائل القرآن 5024۔ مسلم، صلاة المسافرين وقصرها 792۔ ابو داؤد، کتاب الصلاة 1473۔
② سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشاء میں سورۃ والتین والزیتون کی تلاوت فرمائی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کسی کی آواز نہیں سنی۔
بخاری 767, 4952, 769۔ مسلم 177/464۔
③ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقد أوتيت مزمارا من مزامير آل داود
”(اے ابو موسیٰ!) تمہیں آلِ داؤد علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔“
بخاری، کتاب فضائل القرآن 5048۔ مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها 793۔ ترمذی، کتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 3855۔
قرآن پر عمل کرنے کے متعلق احکامات
① سیدنا سہل بن معاذ جہنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قرأ القرآن وعمل بما فيه ألبس والداه تاجا يوم القيامة ضوءه أحسن من ضوء الشمس فى بيوت الدنيا لو كانت فيكم، فما ظنكم بالذي عمل بهذا؟
”جو شخص قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے تو روزِ قیامت اس کے والدین کو تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک دنیا کے گھروں میں موجود سورج کی چمک سے زیادہ اچھی ہوگی اگر وہ (سورج کسی مسافت کے بغیر) تمہارے پاس ہو۔ اب اس شخص کے مقام و مرتبے کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جس نے اس کے مطابق عمل بھی کیا ہو؟“
ابو داؤد، کتاب الصلاة 1453۔ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں زبان بن فائد ضعیف الحدیث ہے۔