قربانی کے لیے ذبح شدہ جانور کے پیٹ کا بچہ
قربانی کی غرض سے ذبح شدہ جانور کے پیٹ سے نکلنے والے بچے کے متعلق چار باتیں ذیل میں ملاحظہ فرمایئے:
➊ سنت مطہرہ سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر قربانی کے ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے مردہ بچہ نکلے تو اس کا کھانا حلال ہے، کیونکہ اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کے ذبح کرنے سے کفایت کرتا ہے۔ امام احمد اور امام ابن حبان نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”ذكاة الجنين ذكاة أمه“
”پیٹ میں موجود بچے کا ذبیح اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے۔“
(المسند، رقم الحدیث 11343، 442/17) (ط: مؤسسة الرسالة)؛ والإحسان في 11343، تقريب صحيح ابن حبان، كتاب الذبائح، رقم الحديث 206/13،5889-207. شیخ شعیب ارناؤوط نے حدیث کے متعدد طرق اور شواہد کی بنا پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: هامش المسند 442/117).
اس حدیث پر امام حبان نے درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:
ذكر البيان بأن الجنين إذا ذكيت أمه حل أكله .
اس بات کا ذکر، کہ جب پیٹ میں موجود بچے کی ماں کو ذبح کیا جائے ، تو اس کا کھانا حلال ہو جاتا ہے۔
الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان 206/13.
➋ بعض لوگوں نے اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ذبح شدہ ماں کے پیٹ سے نکلنے والے بچے کو بھی ماں کی طرح ذبح کیا جائے گا۔ ان کی رائے کے مطابق اگر ایسا بچہ مردہ ہوگا تو اس کا کھانا حرام ہوگا، کیونکہ مردہ ہونے کے سبب اس کا ذبح کرنا ممکن نہیں۔
ان حضرات کی یہ تاویل صحیح نہیں۔ درج ذیل حدیث ان کی غلطی کا آشکارا کر دیتی ہے:
امام ابو داؤد نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا:
”يا رسول الله تنحر الناقة ونذبح البقرة والشاة أو الشاة فنجد فى بطنها الجنين أنلقيه أم نأكله؟
قال: كلوه إن شئتم فإن ذكاته ذكاة أمه“
”یا رسول اللہ! ہم اونٹنی، گائے اور بکری [یا بکری] کو ذبح کرتے ہیں تو اس کے پیٹ میں بچہ پاتے ہیں، کیا ہم اس کو پھینک دیں یا کھالیں؟“
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر پسند کرو تو اس کو کھا لو، کیونکہ اس کا ذبح اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے۔“
سنن أبي داود، كتاب الضحايا، باب ما جاء فى ذكاة الجنين، رقم الحديث 2842، 18/8 – شیخ البانی نے اسے [ صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحيح سنن أبي داود 544/2).
اس حدیث میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے استفسار کی موجودگی کے بعد مذکورہ بالا تاویل کی قطعاً گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ امام خطابی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
فى هذا الحديث بيان جواز أكل الجنين إذا ذكيت أمه ، وإن لم تجدد للجنين ذكاة ، وتأوله بعض من لا يرى أكل الجنين على معنى أن الجنين يذكي كما تذكى أمه ، فكأنه قال: ذكاة الجنين كذكاة أمه“
وهذه القصة تبطل هذا التأويل وتدحضه، لأن قولهﷺ : فإن ذكاته ذكاة أمه. تعليل لإباحته من غير إحداث ذكاة ثانية ، فتبت على أنه على معنى النيابة عنها
اس حدیث میں ماں کے ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے نکلنے والے بچے کو ذبح کیے بغیر کھانے کے جواز کا بیان ہے۔ بعض لوگوں نے ، جو پیٹ کے بچے کے کھانے کو جائز نہیں سمجھتے ، یہ تاویل کی ہے، کہ اس [حدیث] سے مراد یہ ہے، کہ بچے کو اسی طرح ذبح کیا جائے ، جیسا کہ اس کی ماں کو ذبح کیا جاتا ہے۔
[لیکن] یہ واقعہ اس تاویل کی مکمل طور پر نفی کرتا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد گرامی : [ پس یقیناً اس (بچے ) کا ذبح اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے] میں ذبح کیے بغیر بچے کے حلال ہونے کی علت بیان فرمائی ہے، کہ اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کے ذبح کرنے سے کفایت کرتا ہے۔
منقول از عون المعبود 18/8
➌ مذکورہ بالا حدیث سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ذبح شدہ ماں کے پیٹ سے نکلنے والے مردہ بچے کا کھانا ضروری نہیں، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”كلوه إن شئتم“ [اگر چاہو تو اس کو کھا لو]۔
➍ اگر ذبح شدہ ماں کے پیٹ سے نکلنے والا بچہ زندہ ہو تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے، کیونکہ تب وہ ایک مستقل جان ہے۔ اس بارے میں امام احمد نے فرمایا ہے:
إن خرج حيا، فلا بد من ذكاته ، لأنه نفس أخرى
اگر وہ زندہ نکلے، تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے، کیونکہ وہ ایک مستقل جان ہے۔
المغني 310/13.