مضمون کے اہم نکات
مقدمہ
إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾
(3-آل عمران:102)
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾
(4-النساء:1)
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا. يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾
(33-الأحزاب:70،71)
أما بعد: فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدى محمد ﷺ وشر الأمور محدثاتها فإن كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة والضلالة فى النار. وبعد !
دین اسلام بہت سے عقائد اعمال اور اخلاق کا مجموعہ ہے ان تمام امور کا اثبات کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محکم ادلہ پر موقوف ہے جس طرح کسی بھی مسئلہ کے اثبات کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و حدیث سے منصوص ہو اس طرح ہر مسئلہ کی فضیلت اور اجر و ثواب کے تعین کی معرفت بھی قرآن وحدیث کی دلیل پر قائم و دائم ہے۔ فضائل اعمال دین کا ایک انتہائی اہم گوشہ ہے اس کے ساتھ ساتھ بعض اعمال کی ادائیگی کے تعلق سے کچھ علاقوں مثلاً مسجد حرام، مسجد نبوی ، بیت المقدس اور مسجد قباء کچھ زمانوں مثلاً لیلۃ القدر عشر ذی الحجہ دس محرم اور یوم عرفہ وغیرہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
◈مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز کی فضیلت کی دلیل:
صلاة فى مسجدي أفضل من ألف صلاة فيما سواه، إلا المسجد الحرام ، وصلاة فى المسجد الحرام أفضل من مئة ألف صلاة فيما سواه
”میری مسجد میں نماز مسجد حرام کے سوا دوسرے مقامات میں ہزار نماز سے افضل ہے۔ اور مسجد حرام میں نماز دوسرے مقامات میں نماز سے ایک لاکھ درجہ افضل ہے۔“
سنن ابن ماجة أبواب إقامة الصلوات والسنة فيها رقم: 1406۔ علامہ البانی نے اسے صحیح کیا ہے۔
◈بیت المقدس کی فضیلت کی دلیل:
لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجد الحرام ، ومسجد الأقصى، ومسجدي
” تین مساجد مسجد حرام ،مسجد اقصیٰ اور میری مسجد کے علاوہ رخت سفر نہ باندھا جائے۔“
ارواء الغلیل: 146/40 رقم: 1129۔ التعليق الرغيب: 2/136۔
◈مسجد قباء کی زیارت اور اس میں نماز کی فضیلت کی دلیل:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يأتى قباء راكبا وماشيا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم( ہر ہفتے) پیادہ یا سوار مسجد قباء تشریف لایا کرتے تھے۔
صحیح بخاري كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة رقم: 1193۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:
فيصلى فيه ركعتين
”اور اس میں دو رکعت نماز نفل ادا کرتے تھے۔“
صحيح بخاري، كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، رقم: 2326
مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
صلاة فى مسجد قباء كعمرة
”مسجد قباء میں نماز پڑھنا ثواب کے اعتبار سے عمرہ جیسا ہے۔“
سنن ابن ماجة، ابواب إقامة الصلوات والسنة فيه، رقم : 1411 البانی نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
لیلۃ القدر کی فضیلت کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾
”بے شک ہم نے اس (قرآن مقدس) کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا۔“
(97-القدر:1)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
من يقم ليلة القدر ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
”جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کا قیام کیا اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
صحيح البخاري، كتاب الإيمان، رقم : 30.
◈عشرہ ذوالحجہ میں عبادت کی فضیلت کی دلیل:
ما العمل فى أيام العشر أفضل من العمل فى هذه قالوا: ولا الجهاد؟ قال: ولا الجهاد إلا رجل خرج يخاطر بنفسه وماله فلم يرجع بشيء
”کسی اور دن میں عبادت ان دس دنوں میں عبادت کرنے سے افضل نہیں۔“
صحيح بخاري، كتاب العيدين، رقم : 969 .
صحابہ نے عرض کیا: جہاد بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں مگر وہ آدمی جو اپنی جان و مال لے کر اللہ کی راہ میں نکلے اور کسی چیز کے ساتھ واپس نہ آئے۔
◈دس محرم اور یوم عرفہ کے روزے کی فضیلت کی دلیل:
صيام يوم عرفة ، احتسب على الله ان يكفر السنة قبله، والسنة التى بعده، وصيام يوم عاشوراء ، أحتسب على الله ان يكفر السنة التى قبله
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوم عرفہ کے روزہ سے میں اللہ تعالیٰ سے گزشتہ اور آئندہ ایک ایک سال کے گناہوں کے کفارہ کی امید رکھتا ہوں۔ اور یوم عاشوراء کے روزہ سے میں اللہ سے گزشتہ ایک سال کے گناہوں کے کفارہ کی امید رکھتا ہوں۔“
صحيح مسلم، كتاب الصيام، رقم : 2746
لیکن ہر عمل مکان کی یا زمان کی فضیلت کا تعین قرآن وحدیث پر موقوف و منحصر ہے اور حدیث ایسی ہو جو محدثین کے قواعد و مناہج کی روشنی میں درجہ مقبول پر فائز ہو یعنی صحیح یا حسن ہو۔
امام ابو محمد الرامهرمزی نے اپنی کتاب ”المحدث الفاصل بين الراوى والواعي“ ص: 320 میں امام بخاری رحمہ اللہ کے طریق سے ان کے خاص الخاص استاذ علی بن مدینی کا یہ قول نقل فرمایا ہے کہ:
التفقه فى معاد الحديث نصف العلم ، ومعرفة الرجال نصف العلم
”یعنی متن حدیث کو بار بار پڑھ کر اس کی فقہ حاصل کرنا آدھا علم ہے۔ اور اس حدیث کی سند کی معرفت بقیہ آدھا۔“
یہ قول محدثین کا بہترین ترجمان اور عکاس ہے۔ چنانچہ حدیث میں تفقہ کے ساتھ ساتھ رجال حدیث کی معرفت اور صحت مخرج کی پہچان عصابۂ حق و صداقت کا میزہ و خصیصہ ہے۔ بالفاظ دیگر محدثین کرام حدیث کو نقد و تفتیش کے کڑھے مراحل سے گزارنے کے بعد قابل احتجاج و استدلال قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يحل لأحد أن يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ، إلا بعد النبت والعلم به
”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مگر تثبت اور اس کے علم کے بعد۔“
جزء الجويباري ص: 227-228
محدثین کے نزدیک کسی بھی حدیث کے قابل قبول ہونے کے لیے اس کا درج ذیل معیار پر اترنا ضروری ہے۔
● اس کے تمام راوی کمال درجہ کے حافظ ضابط اور متقن ہوں اور اگر کسی راوی کے ضبط و اتقان میں معمولی سا ضعف بھی نقل ہو تو شاہد متابع کے بغیر روایت قبول نہیں کی جائے گی۔
● سند اول تا آخر متصل ہو اور کسی طبقہ میں کسی قسم کا انقطاع نہ پایا جائے۔
● راوی حدیث گو ذاتی طور پر ثقہ یعنی عادل وضابط ہے مگر وہ اس حدیث کی روایت میں اپنے سے اوثق کی مخالفت نہ کر رہا ہو۔
● بعض اوقات ایک حدیث کا ظاہر سند یا متن صحت و سلامتی پر دکھائی دیتا ہے مگر اس میں کوئی مخفی علت پائی جاتی ہے جو ضعف حدیث کا موجب بن جاتی ہے۔ ضروری ہے کہ وہ حدیث ایسی مخفی علت سے بھی پاک ہو۔ (مخفی علل کی اطلاع جہاہذہ محدثین کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔) ان کڑی شرائط سے منہج محدثین کی دقت اور عرق ریزی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن افسوس! آج اس منہج کو باقاعدہ ایک سازش کے تحت پامال کیا جا رہا ہے۔
یونس بن یزید الایلی جو امام زہری کے اثبت تلامذہ میں سے ہیں فرمایا کرتے تھے:
ليس شيء أغرب من سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأغرب منها أهلها
”یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بڑھ کر کوئی چیز اجنبی نہیں ہے اور اس سے زیادہ اجنبی اہل الحدیث ہیں۔“
صحیح مسلم كتاب الإيمان رقم: 372
یہ ایک دوسری صدی ہجری کے عالم کا اپنے دور کا تجزیہ ہے اگر وہ آج کا دور ملاحظہ کر لیتے تو ان کے کیا الفاظ ہوتے؟ سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:
بدأ الإسلام غريبا وسيعود كما بدأ غريبا
”آج بعض جماعتیں فضائل اعمال کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں لیکن ان کے علماء وزعماء اور واعظین کی تقریر و تحریر میں ضعیف بلکہ موضوع جھوٹی اور من گھڑت احادیث کی بھرمار ہوتی ہے۔“ فانا لله وانا اليه راجعون.
فضائل اعمال ص: 876 حکایت نمبر: 43 طبع مکتبہ رحمانیہ لاہور میں یہ واقعہ درج ہے کہ: ”اک سود خور کے مرنے کے بعد اس کا سر (منہ وغیرہ) سور جیسا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علیم کی سفارش سے سر اور منہ درست ہو گیا۔“
حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سود خود اس کے لیے لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پر لعنت فرمائی ہے:
لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه
جبکہ اس خود ساختہ واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سود خود کی سفارش فرمارہے ہیں۔ العياذ بالله
سنن ترمذي كتاب البيوع رقم الحديث: 1206۔ علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔
نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والے کے لیے کیا شرعی وعید ہے؟ غور تو کیجیے؟
كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع
”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ ہر سنی ہوئی بات (بغیر تحقیق کے) بیان کر دے۔“
صحیح مسلم مقدمه رقم: 7۔
مزید فرمایا:
من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا پس وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تكذبوا على فإنه من يكذب على يلج النار
”مجھ پر جھوٹ نہ بولو پس بے شک جس نے مجھ پر جھوٹ بولا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔“
صحيح مسلم مقدمة رقم: 1۔ مسند ابو داؤد طیالسی رقم: 107۔
نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے والی یہ روش دین اسلام کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے۔ خوب خوب سوچئے۔
جماعت اہلحدیث جس کا تا قیام قیامت قائم رہنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ثابت ہے کہ اس کا وجود پوری کائنات کے لیے انتہائی مسعود و مبارک ہے امام ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إنهم خير الناس
”اہل حدیث سب سے اچھے لوگ ہیں۔“
معرفة علوم الحديث للحاكم۔
اور امام حفص بن غیاث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هم خير أهل الدنيا
”اہل حدیث ہی پوری دنیا میں بہترین جماعت ہے۔“
کیونکہ علماء اہل حدیث اس قسم کے فتنوں کی تردید و تنفید کے لیے ہمیشہ مستعد رہتے ہیں نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی حدیث ہے:
لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق ، لا يضرهم من خالفهم
”میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔“
شرف اصحاب الحديث، رقم: 9.
مزید فرمایا:
يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله، ينفون عنه تحريف الغالين ، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين
”اس علم( قرآن و حدیث) کو ہر زمانے کے عادل لوگ حاصل کرتے رہیں گے (پڑھیں گے اور پڑھائیں گے سیکھیں اور سکھائیں گے عمل کریں گے اور کراتے رہیں گے )اس میں زیادتی کرنے والوں کی تحریف و تبدیلی کو اور باطل پسندوں کی صلہ جوئی کو اور جاہلوں کی تاویل کو ختم کرتے رہیں گے۔“
شرف اصحاب الحديث، ص : 40 ، رقم: 10
بحمد للہ! اہل حدیث اسی زمانے سے آج تک یہ فریضہ ادا کرتے رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی انہی پر صادق آتی ہے چنانچہ امام بخاری کے استاذ العلل علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هم أصحاب الحديث
”اس سے مراد اہل حدیث ہیں۔“
الحجة في بيان المحجة : 1/ 98،246.
امام ابو داؤد رحمہ اللہ جماعت اہلحدیث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کرتے تھے:
لولا هذه العصابة لاندرس الإسلام
”یعنی اگر یہ جماعت نہ ہوتی تو اسلام مٹ چکا ہوتا۔“
فتنوں کی تردید و تنفید کے اس عمل کو بہت سے علماء کرام نے جہاد سے افضل قرار دیا ہے۔
بڑی شدت کے ساتھ ایک ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جو اعمال مقامات اور اوقات کے حوالہ سے صرف صحیح اور ثابت احادیث مشتمل ہو۔ چنانچہ ہمارے انتہائی عزیز ساتھی اور دوست ابوحمزہ عبد الخالق صدیقی حفظہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بڑے احسن انداز سے اس ضرورت کو پورا کر دیا۔ چنانچہ ”دعوتِ اسلامی کو عام کرنے کے لیے صحیح فضائل اعمال“ نامی کتاب اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فجزاه الله عني وعن المسلمين خير الجزاء
محترم بھائی ابوحمزہ عبد الخالق صدیقی حفظ اللہ منہج سلف صالحین کے نور سے منور علماء کے محبت اور زمرہ محدثین کے سچے خادم ہیں۔ حدیث کی نشر و اشاعت کے جذبہ سے سرشار ہیں اور چونکہ اخلاص و تقویٰ کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ﴿ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ﴾ (57-الحديد:21)
لہذا ان کے دل سے نکلی ہوئی باتیں سیدھا پڑھنے والوں کے دلوں میں داخل ہو جاتی ہیں۔ اللهم زد فزد!
ہمارے انتہائی قابل احترام ساتھی فضیلۃ الشیخ حافظ حامد محمود الخضری نے اس میں کچھ جاندار اضافے اس کی تحقیق و تخریج اور ترتیب دینے کا ان تھک کام کیا اور کتاب کو تحقیق و تعلیق سے چار چاند لگا دیے۔
محترم حافظ حامد محمود صاحب کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے رسوخ و اتقان سے نوازا ہے بڑی لگن محنت جانفشانی اور عرق ریزی سے علم اور بالخصوص حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مصروف ہیں بہت سی عربی اور اُردو کتب کے مصنف ہیں اور بہت سی کتب زیر طباعت و زیر تالیف ہیں۔ آج کے پرفتن دور میں جنہیں اشتغال بالسنہ اور اہتمام بالعلم النافع کی توفیق مل جائے وہ بڑے برگزیدہ لوگ ہیں اور محترم حافظ صاحب کی جملہ جہود و مساعی کا محور و مدار یہی نکتہ ہے اللہ تعالیٰ ان پر مزید علم نافع اور عمل صالح کے دروازے کھول دے۔ اور دل کو تقوی و اخلاص سے معمور فرما دے۔ وجعله سندا لخدمة الاسلام والمسلمين وحفظه ورعاه وسدد خطاه.
چونکہ فضائل اعمال میں ضعیف اور موضوع روایات کو سنانے اور اپنانے کی وباء پاک و ہند میں بڑی شد و مد سے پھیل چکی ہے تو ان ہمارے انتہائی قابل احترام دوستوں نے اس زیر نظر کتاب میں صرف صحیح و حسن روایات پر اعتماد کیا ہے اور ساتھ ساتھ علمی تشریحات اور اقوال سلف کے بیان سے اس کتاب کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس کے مؤلف مخرج و محقق اور جملہ معاونین و مساہمین کو اجر جزیل نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان حسنات کا ذخیرہ بنادے اور اس کا نفع عام کر دے۔ آمین!
وأصلي وأسلم على نبيه وخليله محمد وعلى آله وصحبه وأهل طاعته أجمعين.
وكتبه
عبد اللہ ناصر رحمانی
تقریظ
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على خير خلقه محمد و على آله وصحبه وبعد
اللہ رب العزت نے اس انسان کو پیدا کر کے مختلف قسم کی رغبتوں اور خواہشوں کو بھی اس کے ساتھ لگا دیا۔
نفع کے حصول کی خواہش نقصان سے بچنے اور دور رہنے کی خواہش نفس انسانی کا بہت اہم جزء ہے۔ نفع کے اسباب کا اختیار کرنا نقصان کے اسباب سے بچنا اس غریزہ کا نتیجہ ہے۔ اس لیے اللہ رب العزت نے آدم وحواء کو زمین پر اتارتے وقت ترغیب و ترہیب سے مخاطب فرمایا:
﴿قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ . وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ.﴾
”اتر جاؤ زمین پر وہاں تمہیں میری ہدایت آئے گی تو جو ہدایت قبول کر کے اس کی پیروی کرے گا تو وہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔ اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا تو اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔“
(20-طه:123،124)
اللہ رب العزت کی ایک یہ بھی بڑی رحمت ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو ہر زمانے میں بشارت و ندامت کے لیے بھیجا تا کہ لوگوں کو دین الہی کی طرف بلائیں سب سے آخر میں خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشیر و نذیر کے لقب سے نواز کر قیامت تک کے لیے آپ کی لائی ہوئی شریعت کو انھیں دونوں معنوں کے ذریعہ قبول کرنے کی دعوت دی۔
جنت و جہنم عذاب و ثواب حسنات الدنیا والآخرة ان سب کا ذکر اسی لیے ہے کہ مسلمان ان پر ایمان لاکر اللہ کی رضامندی اور جنت کے حصول کے اسباب کو برتیں اور عذاب الہی کے اسباب سے دور رہنے کی کوشش کریں۔
قرآن کریم اور سنت نبویہ میں ترغیب و ترہیب کے اسلوب سے مختلف مقامات پر لوگوں کو اصلاح کی دعوت دی گئی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ایک مزدور جب مزدوری کرتا ہے تو اس لیے کہ اس کے پیچھے اسے روزی ملے گی۔ اگر اس کو یقین ہو کہ محنت اور کاوش سے ایسے کوئی فائدہ نہ ملے گا تو وہ اپنے کو کیوں ہلکان کرے گا۔ اللہ کی رضا اور غضب پھر آخرت میں حساب و کتاب و جنت و جہنم پر ایمان یہ ایمان بالغیب ہے یہ ایمان جس قدر پختہ ہو گا اس قدر انسان کے اوپر پہرہ دار بن کر اس کو برائیوں سے دور رکھنے کا سبب بنے گا۔ انسانی پہرہ دار اور پولیس کی اسے ضرورت نہیں۔ اسے یقین ہے کہ اللہ کی آنکھ مجھے دیکھ رہی ہے اللہ کے فرشتے ہمارے تمام اعمال کو لکھ رہے ہیں۔
اس ایمان ہی نے حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ کو مجبور کر دیا کہ تم خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر جرم زنا کا اعتراف کر کے اپنے کو دنیا کے عذاب میں مبتلا کر کے آخرت کے عذاب سے بچ جاؤ انہیں کسی حسب و رقیب نے نہ دیکھا اور نہ اس کے گناہ پر کوئی گواہ تھا لیکن خوف آخرت نے انھیں اس جگہ پہنچا دیا جہاں انہوں نے جان دے دی۔
اسلام میں فضائل اعمال و اقوال کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اللہ کی مرضی کا متلاشی انسان ان پر عمل کر کے زیادہ سے زیادہ ثواب کما کر اللہ کو خوش کرنا چاہتا ہے اور پھر اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کو حاصل کر کے اپنی دنیا و آخرت کو اچھی بنانا چاہتا ہے۔
اس لیے اعمال کی فضیلت اور ان کے اجر و ثواب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک عام کرنے کی کوشش کرتے رہنی چاہیے۔
اسلام ایک حقیقت ہے اس کے تمام اعمال و عقائد مبنی پر حقیقت ہیں اور اس حقیقت کو خیال و خرافات و اوہام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلامی شریعت کے تمام پہلوؤں کو اللہ رب العزت نے قرآن اور سنت صحیحہ کے اندر محصور کر دیا ہے۔ کسی بھی پہلو کو حاصل کرنے کے لیے ایک مسلمان پر واجب ہے کہ قرآن و سنت میں اسے ڈھونڈھے۔ قرآن کریم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ کیا ہوا ہے۔
اگر کوئی شخص کسی قول و عمل کی فضیلت بیان کرنا چاہتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ قرآن کریم اور سنت صحیحہ میں ڈھونڈھے۔ ترغیب و ترہیب کے باب میں لوگوں کو کس قدر جھوٹی احادیث گھڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منسوب کر دی ہیں ان جھوٹوں نے نیک نیتی یا بد نیتی سے سادے مسلمانوں کے جذبات کو متوجہ کرنے کے لیے یہ فعل بد کیا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بیچارا جاہل مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہی پر دھوکا کھا سکتا ہے۔ اور پھر ترغیب و ترہیب سے اس کو خاص دلچسپی ہوگی اس لیے اعمال کی فضیلتوں کو گھڑ کر جھوٹوں نے اسلام کے اندرنی چیز داخل کرنے کی کوشش کی ہے جو چیز دین کی نہ ہو اسے دین بنانا یا لوگوں کو دین کا حصہ بتانا بہت بڑے جرم کی بات ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ڈرایا اور فرمایا ہے:
من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
”جو جان کر قصداً جھوٹی چیز کو میری طرف منسوب کرے گا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنالے۔“
صحیح بخاری کتاب العلم رقم: 110۔
اس لیے ضعیف احادیث کو شریعت میں قبول نہ کیا جائے گا۔ کسی چیز میں فضیلت کا اثبات یا ثواب و عذاب کا اثبات بدشرعی چیز ہے جب اس پر صحیح دلیل نہ ہو۔ اس کا اثبات جائز نہیں جس طرح شریعت کی ثابت شدہ چیز کی نفی و انکار جائز نہیں۔ فضائل اعمال سے متعلق سب مشہور کتاب تبلیغی جماعت کی تبلیغی نصاب کی کتاب ہے لیکن اللہ جانتا ہے اس میں کس قدر آزادی سے ضعیف اور موضوع احادیث کو بھر دیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایسے قصوں اور کہانیوں کو جمع کر دیا گیا ہے جو صحیح عقیدہ کے خلاف ہیں۔ کرامت کے نام پر انہیں قبول کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ان کے جامع اور مؤلف کو نیز ان پر یقین رکھنے والوں کو۔
آج سے تقریباً اٹھارہ انیس سال پہلے کی بات ہوگی۔ حائل میں ایک ٹریننگ کورس تھا جس میں مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ بھی شامل تھے۔ میں بھی ان پروگراموں میں شامل رہا۔ وہاں ہم دونوں نے تہہ بلکہ زبانی معاہدہ کیا تھا کہ دونوں مل کر صحیح فضائل اعمال جمع کریں گے لیکن بات توفیق کی ہے۔ مشغولیات میں ڈوب کر کچھ نہ ہو سکا وہ تمنا تمنا ہی رہی اور اس کے جمع کرنے کی خواہش کی تجدید بھی ہوتی رہی کہ اچانک منظر عام پر ایک کتاب آئی۔ جس کا عنوان ہے صحیح فضائل اعمال جس کے مؤلف ابوحمزہ عبد الخالق صدیقی ہیں ترتیب و اضافہ حافظ حامد محمود سلمہ نے کیا ہے۔
یہ کتاب مجھے مکہ میں مقیم بھائی عبد السلام سلمہ اللہ کے ذریعہ ملی مؤلف فاضل نے بطور ہدیہ مع اپنی دیگر تالیفات کے میرے لیے بھیجی۔ جزاه الله خيرا
ان تالیفات کو پاکر بڑی خوشی ہوئی خصوصاً صحیح فضائل اعمال کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا مؤلف مرتب کے لیے دل سے دعائیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ فراغت بال و حال سے نواز کر مزید دین خالص کی خدمت کی توفیق دے۔ انہوں نے سلفی جماعت کی طرف سے کفارہ ادا کر دیا۔ جزاهما الله خيرا
کتاب میں قرآن و حدیث صحیح کے ذریعہ فضائل اعمال کو جمع کیا گیا ہے مواد کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف مرتب پبلشر سب کو اپنے انعامات سے نوازے محترم مؤلف سے گزارش ہے کہ صحابہ کرام اور اسلاف کے صحیح قصوں کو بھی ان کی مناسب جگہوں میں پرودیں اس سے کتاب مزید مفید ہو جائے گی۔
اہل خیر و طلاب خیر کے لیے اجر و ثواب کا بہت بڑا موقع ہے کہ اس کتاب کو مفت لوگوں میں تقسیم کر کے رضائے الہی کے مستحق ہوں۔ اللہ کے دین کی خدمت کا یہ بھی ایک بڑا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کو مفید عام بنائے گا کیونکہ اللہ کی اور سنت رسول ہی کی باتوں کا مجموعہ ہے۔ عام فروخت کے لیے بھی واجبی قیمت رکھی جائے۔
والسلام
وصی اللہ بن محمد عباس
المدرس بالمسجد الحرام جامعة أم القرى مكة المكرمة