قیامت کی نشانی : رومی کثرت تعداد (مردم شماری) میں بڑھ جائیں گے
عن المستورد الفهري رضى الله عنه أنه قال لعمرو بن العاص رضى الله عنه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : تقوم الساعة والروم أكثر الناس ، فقال له عمرو بن العاص : أبصر ما تقول : قال : أقول ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لئن قلت ذاك إن فيهم لحصالا أربعا : إنهم لأحلم الناس عند فتنة وأسرعهم إفاقة بعد مصيبة وأوشكهم كرة بعد فرة وخيرهم لمسكين ويتيم وضعيف وخامسة حسنة جميلة : وأمنعهم من ظلم الملوك
حضرت مستورد رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ قیامت سے پہلے رومی (عیسائی) سب سے زیادہ تعداد میں ہوں گے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ غور کرو کیا بات کر رہے ہو ؟ مستورد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو وہی کہہ رہا ہوں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو کہتا ہے (تو سچ ہے) کیونکہ عیسائیوں میں چار خصلتیں ہیں :۔
➊ مصیبت کے وقت نہایت بردبار ہیں۔
➋ مصیبت کے بعد سب سے جلدی ہوشیار ہوتے ہیں۔
➌ بھاگنے کے بعد دوبارہ سب سے پہلے حملہ کرتے ہیں۔
➍ مسکین، یتیم اور کمزور کے حق میں بہتر ہیں۔
اور ایک پانچویں خصلت بھی ہے جو بہت ہی اچھی ہے کہ یہ سب لوگوں سے بڑھ کر بادشاہوں کے ظلم سے روکنے والے ہیں۔
مسلم : كتاب الفتن : باب تقوم الساعة و الروم اكثر الناس (2898) احمد (314/4) الكنز (217/14)
فوائد :
➊ رومی یعنی عیسائیوں کا سب لوگوں سے بڑھ جانا قیامت کی ایک نشانی ہے جس کا ظہور ہو چکا ہے۔
➋ موجودہ اعدادو شمار کے مطابق عیسائی پہلے نمبر اور مسلمان دوسرے نمبر پر ہیں۔
➌ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دور میں عیسائیوں میں مذکورہ چار صفات پائی جاتی تھیں مگر لازمی نہیں کہ ان کی یہ صفات تاقیامت زندہ رہیں بلکہ موجودہ دور میں تو عیسائیوں نے مسلمانوں سے بدلے چکانے کے لئے کمر کس لی ہے، گو اپنے قوانین و ضوابط پر مسلمانوں کی بنسبت زیادہ عمل درآمد میں آج بھی شہرت رکھتے ہیں۔