میت کی طرف سے مستقل قربانی کرنا
میت کی طرف سے مستقل قربانی کرنا جائز نہیں، کیونکہ میت کی طرف سے باقاعدہ قربانی کرنے کی روایات ضعیف ہیں۔
① احنش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
رأيت عليا رضى الله عنه يضحي بكبشين فقلت له: ما هذا؟ فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أوصاني أن أضحي عنه فأنا أضحي عنه.
”میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ (قربانی پر) دو مینڈھے (ایک اپنی طرف سے اور دوسرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) ذبح کرتے تھے۔ میں نے انھیں پوچھا: ”یہ کیوں؟“ اس پر انھوں نے بتایا: ”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں، اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔“
ضعیف: سنن أبي داؤد، کتاب الضحايا، باب الأضحية عن المیت 2790۔ جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما جاء في الأضحية عن المیت 1495۔ مسند أحمد 107/1۔ مسند أبي يعلى 459۔ مستدرک حاکم 255/4۔ شریک بن عبد اللہ قاضی ضعیف مدلس ہے اور ابو الحسناء مجہول راوی ہے۔
② عاصم بن ضمیرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أتي على بن أبى طالب رضى الله عنه بكبش فذبحه و قال: بسم الله، اللهم منك و لك و من محمد لك، ثم أمر به فتصدق به، ثم أتي بكبش آخر فذبحه فقال: بسم الله، اللهم منك و لك و من على لك
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، انھوں نے اسے ذبح کیا (اور ذبح کرتے وقت یہ کلمات) کہے: اللہ کے نام سے، اے اللہ! تیری توفیق سے اور تیرے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تیرے لیے ہے، پھر اس کے بارے میں حکم دیا اور اسے صدقہ کر دیا۔ بعد ازاں دوسرا مینڈھا لایا گیا، انھوں نے اسے ذبح کیا اور یہ کلمات کہے: اللہ کے نام کے ساتھ تیری توفیق سے اور تیرے لیے ہے۔ یہ قربانی علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے تیرے لیے ہے۔“
ضعیف: سنن بیہقی 287/9 ، عاصم بن شریب مجہول راوی ہے۔
عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
لم أجد فى التضحية عن الميت منفردا حديثا صحيحا، وأما حديث على المذكور فى الباب فضعيف كما عرفت
”میت کی طرف سے علیحدہ قربانی کرنے کے بارے میں مجھے ایک بھی صحیح حدیث نہیں ملی اور اس مسئلہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مذکور حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ تمھیں معلوم ہے۔“
تحفة الأحوذي 60/5۔
لہٰذا میت کو قربانی میں شریک کرنا یا میت کی طرف سے علیحدہ قربانی کرنا جائز نہیں۔