مضمون کے اہم نکات
ایک باطل عقیدے کی تردید:
اس میں شک نہیں کہ تمام مسلمانوں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی جان اپنے ماں باپ، اپنے بیوی بچوں، اپنے اعزہ و اقارب اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرنے کا حکم ہے۔ لیکن کتاب و سنت کی تعلیم کے مطابق اہل ایمان کی سب سے پہلی اور سب سے زیادہ محبت اللہ تعالیٰ کے لئے اور پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اور اس کے بعد دوسرے اہل ایمان کے لئے ہونی چاہئے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ] ترجمہ: جو شخص اللہ کو، اس کے رسول کو اور اہل ایمان کو دوست بنا لے اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کی جماعت ہی غالب ہونے والی ہے۔ (سورۃ المائدۃ:56) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ولاء (محبت) کی ترتیب واضح فرما دی ہے۔ پہلے نمبر پر محبت اللہ تعالیٰ کے لئے، دوسرے نمبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اور تیسرے نمبر پر اہل ایمان کے لئے۔ لیکن بعض لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اس قدر غلو سے کام لیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور مرتبہ اللہ تعالیٰ کے برابر کردیتے ہیں جو کہ جائز نہیں۔ اس سے خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
❀ ارشاد نبوی ہے: [لا تطرونی کما اطرت النصارٰی ابن مریم فانما انا عبدہٗ فقولوا عبداللٰہ و رسولہٗ] ترجمہ: میری تعریف میں مبالغہ نہ کرنا جس طرح نصاریٰ نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی تعریف میں مبالغہ کیا (اور اسے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا ڈالا)، بے شک میں ایک بندہ ہوں، لہٰذا مجھے اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔ (بخاری:3445)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اگر کسی نے آپ کی تعریف میں غلو سے کام لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فوراً ٹوک دیا۔ایک صحابی نے دوران گفتگو یہ الفاظ کہے ’’جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فوراً روک دیا اور فرمایا ’’کیا تو نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک سمجھا ہے۔ (مسند احمد:1839)
❀ ایک صحابی نے بارش کے لئے دعا کروانی چاہی اور یوں کہا ’’ہم اللہ کو آپ کے ہاں اور آپ کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتے ہیں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدلنے لگااور فرمایا ’’افسوس! تجھے معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کی شان کتنی بلند ہے۔ اسے کسی کے حضور سفارشی نہیں بنایا جا سکتا۔ (ابوداؤد:4726)
افسوس! آج مسلمانوں نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں غلو کا وہی راستہ اختیار کر لیا ہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا۔ عام شعراء کے نعتیہ کلام کا تو کہنا ہی کیا، اچھے بھلے اہل علم شعراء بھی اس معاملے میں کتاب و سنت کی تعلیمات کی پابندی نہیں کر سکے۔
چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
یہ شعر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں پڑھاجاتا ہے:
ادب گا ہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
ترجمہ: آسمان کے نیچے ادب کی ایک ایسی جگہ ہے جو عرش سے بھی نازک ہے جہاں جنید بغدادی اور بایزید بسطامی جیسے بزرگ بھی سانس روک کر حاضر ہوتے ہیں۔
اس شعر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کو عرش الٰہی سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات تو مسلمہ ہے کہ مکان کی فضیلت مکین کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک عرش الٰہی سے افضل ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود اللہ تعالیٰ سے افضل ہیں، معاذ اللہ! جو کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں شدید گستاخی ہے۔
ایسا ہی ایک شعر آج کل زبان زد عام ہے
کعبے کی عظمتوں کا منکر نہیں ہوں میں
کعبے کا بھی کعبہ پیارے نبی کا روضہ
اس شعر میں بھی ویسا ہی غلو اور شرک ہے جیسا کہ پہلے شعر میں ہے۔
مولانا رومی کا ایک شعرملاحظہ ہو:
اول و آخر توئی، ظاہر و باطن توئی
مفخر عالم توئی شاہ سلام علیک
قرآن مجید میں واضح طور پر اول و آخر اور ظاہر و باطن کی صفت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لئے بیان ہوئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [ہُوَ الۡاَوَّلُ وَ الۡاٰخِرُ وَ الظَّاہِرُ وَ الۡبَاطِنُ] ترجمہ: وہ اول بھی ہے آخر بھی، ظاہر بھی ہے باطن بھی۔ (سورۃ الحدید:3)
اللہ تعالیٰ کی اس صفت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شریک کرنا سراسر غلو اور شرک ہے۔ یہی لغزش علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ہوئی ہے۔ ان کا شعر ہے۔
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقاں وہی یٰسین وہی طٰہ
مولانا احمد رضا خان نے اپنے قصیدے میں نبی اکرم ﷺ کی شان بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
قادرِ کل کے نائب اکبر
کن کا رنگ دکھاتے یہ ہیں
ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے
مالکِ کل کہلاتے یہ ہیں
حرف ’’کُنْ‘‘ سے تمام امور سر انجام دینا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جبکہ اس شعر میں اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بتایا گیا ہے۔ اسی طرح کل کائنات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے جبکہ اس شعر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’مالکِ کُل‘‘ کہا گیا ہے۔ دونوں باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو ہیں اور ایسا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔
❀ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’نشر الطیب فی ذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں اس طرح کے اشعار لکھے ہیں:
لیس لی سواک اغثنی
مسنی الضر سیدی و سندی
ترجمہ: اے میرے سردار اور سہارے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ میرا کوئی نہیں، مجھ پر تکلیف آئی ہے میری مدد فرمائیں۔
تکلیف اورمصیبت میں مدد کرنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ] ترجمہ: اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کسی تکلیف میں مبتلا کردے تو اس کے علاوہ کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۃ الانعام:17) پس مصیبت اور تکلیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد مانگنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو اور شرک ہے۔ شانِ رسالت مآب میں
ایسے ہی دو اشعار حاجی امداد اللہ صاحب کے ہیں، ملاحظہ ہوں:
یا محمد مصطفی فریاد ہے
اے حبیب کبریا فریاد ہے
سخت مشکل میں پھنسا ہوں آج کل
اے مرے مشکل کشا فریاد ہے
ان اشعار میں بھی ویسا ہی غلو ہے جو پہلے شعر میں ہے۔
غلو پر مبنی پنجابی کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
محمد دے پکڑے چھڑا کوئی نئیں سکدا
خدا دے پکڑے چھڑا لے محمد
ترجمہ: اگر کسی کو محمد ﷺ پکڑ لیں تو اسے کوئی چھڑا نے والا نہیں اور اگر کسی کو اللہ تعالیٰ پکڑلے تو اسے محمد ﷺ چھڑا سکتے ہیں۔
❀ اس شعر میں واضح طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ سے بڑھایا گیا ہے جو شدید غلو اور شرک ہے۔
مولانا ظفر علی خان رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شعر ہے:
نہ ڈر خدا سے اور اس کے عذاب سے لیکن
نبی کی غصہ میں ڈوبی ہوئی نگاہ سے ڈر
خوف (ماورائے اسباب) اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شامل ہے جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے انہوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی حکم دیا: [فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ] ترجمہ: اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (سورۃ الشعراء:126)
❀ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا ارشاد مبارک ہے: [و اللٰہ انی لاخشاکم للٰہ] ترجمہ: اللہ کی قسم!میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ (بخاری:5063)
پس اللہ تعالیٰ کے خوف سے بے نیاز ہونا اور اس کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ سے ڈرنے کا عقیدہ رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں غلو ہے۔
ان عقائد میں جہاں ایک طرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں غلو پایا جاتا ہے وہاں دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی اور بے ادبی بھی پائی جاتی ہے، جو عقیدہ الولاء کے سراسر خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بے مثال اور یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عقیدت میں غلوکرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے برابر مقام دینا یا اللہ تعالیٰ کی صفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شریک کرنا شرک اکبر ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے۔ [فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ] اللہ تعالیٰ کی ذات بالا تر ہے اس شرک سے جو لوگ کرتے ہیں۔ (سورۃ الاعراف:190) جس طرح بعض لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں غلوسے کام لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور مرتبہ اللہ تعالیٰ کے برابر کردیتے ہیں اسی طرح بعض لوگ اپنی اپنی پسندیدہ شخصیات مثلاً ائمہ کرام و اولیاء عظام وغیرہ کی محبت میں غلو سے کام لیتے ہوئے ان کا مقام اور مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ کردیتے ہیں۔ یہ غلو بھی اسی طرح ناجائز ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں غلو ناجائز ہے۔ جس طرح شرک انسان کے سارے اعمال برباد کردیتا ہے اسی طرح کسی امتی کی محبت اور عقیدت میں ایسا غلو جس میں امتی کا مقام اور مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہوجائے یا بڑھ جائے، بھی انسان کے اعمال کو ضائع کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے: [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ]،[ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ]
ترجمہ: اے لوگو،جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند کرو نہ ہی اس کے سامنے اس طرح اونچی آواز سے بولو جس طرح تم ایک دوسرے کے سامنے بولتے ہو ایسا نہ ہو کہ اس سے تمہارے (نیک) اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں اس کی خبر ہی نہ ہو۔ (سورۃ الحجرات:1-2)
آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر کسی امتی کا مقام اور مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھانے پر تمام نیک اعمال برباد ہونے کی وعید سنائی ہے۔
❀ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث شریف میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر آج موسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئیں اور تم لوگ میری بجائے ان کی اتباع شروع کر دو تو سیدھی راہ سے گمراہ ہو جاؤ گے۔ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو وہ بھی میری ہی اتباع کرتے۔ (دارمی:449)
لیکن یہ بات قابل افسوس ہے کہ بعض لوگ اپنی اپنی پسندیدہ شخصیات کی محبت اور عقیدت میں اس قدر غلو سے کام لیتے ہیں کہ ان کا مقام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور مرتبہ کے برابر کر دیتے ہیں یا اس سے بھی بڑھا دیتے ہیں۔
چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
فقہ حنفی کی معروف کتاب’’دُرِّ مختار‘‘ میں تحریر ہے ’’اس شخص پر ہمارے رب کی ریت کے ذروں کے برابر لعنت ہو جو ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ردکرے۔ [در مختار: جلد1، ص26]
اس دعویٰ میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی محبت میں شدید غلو پایا جاتا ہے۔ یہ مقام اور مرتبہ صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کو رد کرنے والے پر لعنت ڈالی جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبۡہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا] اور جو شخص (اللہ اور اس کے رسول) کی بات کورد کرے گا اللہ اسے دردناک عذاب دے گا۔ (سورۃ الفتح:17)
بابا فرید گنج شکر کے کسی عقیدت مند نے ان کی محبت میں غلو کرتے ہوئے یہ شعر لکھا ہے:
چاچڑ وانگ مدینہ دسے تے کوٹ مٹھن بیت اللہ
ظاہر دے وچ پیر فریدن باطن دے وچ اللہ
اس شعر میں چاچڑ شہر کو مدینہ کے برابر کہہ کرنہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی گئی ہے بلکہ کوٹ مٹھن کو بیت اللہ کہہ کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جناب میں بھی گستاخی کی گئی ہے اور پیر فرید کو اللہ کے برابر درجہ دے کر شرک اکبر کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ [نعوذ باللٰہ من ذٰلک]
اسی طرح پیر جماعت علی شاہ کے کسی عقیدت مند نے اپنے پیر صاحب کی محبت میں غلو سے کام لیتے ہوئے یہ شعر لکھا ہے۔
مدینہ بھی مطہر ہے
مقدس ہے علی پور بھی
ادھر جائیں تو اچھا ہے
ادھر جائیں تو اچھا ہے
غور فرمائیے! اگر مدینہ اور علی پور کے فضائل ایک جیسے ہیں تو مدینہ والے اور علی پور والے کے فضائل بھی ایک جیسے ہیں جو کہ سراسر غلو اور گمراہی ہے۔
مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے ایک مرید نے مولانا موصوف کے سامنے اپنے خواب کا واقعہ بیان کیا کہ میں خواب میں کلمہ تشہد صحیح صحیح اد اکرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ہر بار [لا الٰہ الا اللٰہ اشرف علی رسول اللٰہ] ہی زبان سے نکلتا ہے۔ب یدار ہونے کے بعد کلمہ طیبہ کی غلطی کے تدارک کے لئے دورد شریف پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں تب بھی [اللہم سیدنا و نبینا و مولانا اشرف علی] کے الفاظ زبان سے نکلتے ہیں۔ مولانا اشرف علی نے اپنے مرید کا یہ خواب سن کر فرمایا: اس واقعہ میں تسلی تھی کہ جس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ بعونہٖ تعالیٰ متبع سنت ہے۔ [رسالہ الامداد:ص35]
اس واقعہ میں اپنے مرشد سے محبت میں شدید غلو کی تعلیم دی گئی ہے جو کہ سراسر گمراہی ہے۔
مولانا احمد رضا خان کے ایک عقیدت مند کا اظہار عقیدت ملاحظہ ہو:
چار جانب مشکلیں ہیں ایک میں
اے مرے مشکل کشا احمد رضا
لاج رکھ لے میرے پھیلے ہاتھ کی
اے مرے حاجت روا احمد رضا
[نعمۃ الروح: از اسماعیل رضوی: ص44، بحوالہ:بریلویت: ص138]
اس شعر میں اپنے مرشد کو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے ہی نہیں بڑھایا گیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے برابر درجہ دے دیا گیا ہے جو کہ سراسر شرک اکبر ہے۔ کسی امام یا عالم، ولی یا مرشد کی عقیدت میں اس قدر غلو کہ اس کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے زیادہ محبت ظاہر ہو، اپنا ایمان اور اعمال برباد کرنے کے برابر ہے جس سے ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بعد تیسرے نمبر پر تمام اہل ایمان کے ساتھ درجہ بدرجہ محبت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ مہاجرین، انصار، عشرہ مبشرہ، اصحاب بدر، اصحاب شجر، تابعین، تبع تابعین اور پھر امت کے دیگر تمام علماء، فضلاء صلحاء، فقہا اور شہداء وغیرہ۔ جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں غلو کرنا منع ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی امتی کی محبت میں غلو کرنا منع ہے اسی طرح ایک کلمہ گو مومن پر کسی کافر کو ترجیح دینا یا کلمہ گو مسلمان کو حقیر سمجھنا اور کافر کو عزت والا سمجھنا بھی گمراہی ہے۔
❀ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَ لِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ لٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ] ترجمہ: عزت اللہ کے لئے اس کے رسول کے لئے اور مومنوں کے لئے ہے لیکن منافق نہیں جانتے۔ (سورۃ المنافقون:8)
❀ اور کافروں کے بارے میں ارشاد ہے: [اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اُولٰٓئِکَ فِی الۡاَذَلِّیۡنَ] جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ ذلیل لوگ ہیں۔ (سورۃ المجادلہ:20)
دنیا میں کفار کو حاصل ہونے والی عزت بظاہر کتنی ہی زیادہ ہو وہ سب غیر حقیقی اور عارضی ہے جبکہ اہل ایمان کو حاصل ہونے والی عزت حقیقی اور دائمی ہے۔ لہٰذا ’’عقیدہ الولاء والبراء‘‘ کے تحت ایک عام مسلمان بڑے سے بڑے معزز کافر کے مقابلہ میں کہیں زیادہ محترم اور عزت والا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے ساتھ دوستی اور محبت بالترتیب ان کے اس مقام اور مرتبہ کے مطابق ہونی چاہئے جس کی وضاحت کتاب و سنت میں کی گئی ہے۔