عمرہ ادا کرنے کا ثواب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾
”بے شک صفا اور مروہ اللہ کے مقرر کردہ نشانات ہیں، اس لیے جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے، اس کے لیے کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان طواف کرے، اور جو شخص (اپنی خوشی سے) کوئی کارِ خیر کرے گا تو اللہ اس کا اچھا بدلہ دینے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔“
(2-البقرة:158)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حج کے ساتھ عمرہ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ عمرہ حج کی نسبت مختصر ہوتا ہے کہ حالت احرام میں بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد، مقامِ ابراہیم پر دو رکعتیں ادا کر کے، صفا و مروہ کی سعی اور سر منڈوانا یا بال چھوٹے کرانا، یعنی عمرہ کے بنیادی کرنے والے امور یہ ہیں۔ باقی ان کے تحت دیگر امور علاوہ ہیں۔
مزید ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ﴾
”اور حج و عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو۔“
(2-البقرة:196)
عن ابن عباس رضي الله عنهما، أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: فإن عمرة فى رمضان تقضي حجة أو حجة معي.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں عمرہ کرنا، حج کے برابر ہے یا (فرمایا، راوی کو شک ہے) میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب جزاء الصيد، باب حج النساء، رقم: 1863 – صحیح مسلم، کتاب الحج، باب العمرة في رمضان، رقم: 1256.
عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما، والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے تک، درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت ہی ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب العمرة، باب وجوب العمرة وفضلها، رقم: 1773 – صحیح مسلم، کتاب الحج، باب في فضل الحج والعمرة، رقم: 1349.