اہل خانہ کی طرف سے علیحدہ قربانی اور ایک سے زیادہ قربانیاں کرنے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

گھر والوں کی طرف سے علیحدہ قربانی کرنا

اہل خانہ کی طرف سے الگ قربانی کرنا بھی جائز ہے، اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
وضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسائه بالبقر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) اپنی بیویوں کی طرف سے گائے قربان کی۔“
صحيح بخاري، كتاب الحيض، باب الأمر بالنفساء إذا نفسن: 294۔ صحیح ابن خزیمہ: 3028۔ صحیح ابن حبان: 1429

ایک آدمی کا دو جانور ذبح کرنا

ایک سے زیادہ جانوروں کی قربانی مسنون و مستحب فعل ہے، بشرطیکہ اس عمل میں سنت کی پیروی، اخلاص، حصولِ تقویٰ و للہیت ہو۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يضحي بكبشين وأنا أضحي بکبیشن
نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے ذبح کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھے ذبح کرتا ہوں۔
صحيح بخاري، كتاب الأضاحي، باب أضحية النبي صلى الله عليه وسلم بكبشين أقرنين: 5553۔ سنن نسائی، كتاب الضحايا، باب الكبش: 439۔ مسند أحمد: 101/3

فائدہ:

ابن بطال رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
فمن أراد أن يضحي عن نفسه باثنين أو ثلاثة، فهو أزيد فى أجره إذا أراد بذلك وجه الله وإطعام المساكين
”جو شخص اپنی طرف سے دو یا تین قربانیاں کرنا چاہے یہ عمل اس کے لیے زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے بشرطیکہ اس عمل سے رضائے الٰہی اور مساکین کو کھلانا مقصود ہو۔“
شرح ابن بطال: 14/11