مضمون کے اہم نکات
رسول اللہﷺ غیب نہ جانتے تھے جس کی وضاحت ہم اس مضمون میں تفصیل کیساتھ ذکر کر آئے، اب ہم غیب کے سلسلے میں رسول اللہﷺکے متعلق یہاں تین زمانوں کا ذکر کریں گے:
[1] نبوت سے پہلے کا زمانہ
[2] نبوت کا زمانہ
[3] آپﷺ کی وفات کے بعد کا زمانہ
[1]نبوت سے پہلے کا زمانہ:
قرآن مجید میں ان مقامات پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نبی بننے سے پہلے رسول اللہﷺ کو ان باتوں کا علم نہ تھا:
[وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ]
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ [الشورى:52]
[وَ مَا کُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِیِّ اِذۡ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسَی الۡاَمۡرَ وَ مَا کُنۡتَ مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ]،[وَلٰکِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیۡہِمُ الۡعُمُرُ ۚ وَ مَا کُنۡتَ ثَاوِیًا فِیۡۤ اَہۡلِ مَدۡیَنَ تَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ۙ وَ لٰکِنَّا کُنَّا مُرۡسِلِیۡنَ]،[ وَ مَا کُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَیۡنَا وَ لٰکِنۡ رَّحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىہُمۡ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ]
[اور اس وقت تو مغربی جانب میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی اور نہ تو حاضر ہونے والوں سے تھا]،[ اور لیکن ہم نے کئی نسلیں پیدا کیں، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی اور نہ تو اہل مدین میں رہنے والا تھا کہ ان کے سامنے ہماری آیات پڑھتا ہو اور لیکن ہم ہمیشہ رسول بھیجنے والے رہے ہیں]،[ اور نہ تو پہاڑ کے کنارے پر تھا جب ہم نے آواز دی اور لیکن تیرے رب کی طرف سے رحمت ہے، تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں] [القصص:44 تا 46]
[وَ مَا کُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ یُّلۡقٰۤی اِلَیۡکَ الۡکِتٰبُ اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ ظَہِیۡرًا لِّلۡکٰفِرِیۡنَ]
اور تو امید نہ رکھتا تھا کہ تیر ی طرف کتاب نازل کی جائے گی مگرتیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی) سو تو ہرگز کافروں کا مددگار نہ بن۔[القصص:86]
یعنی طور پر جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا، اور اسے وحی اور رسالت سے نوازا تو اے محمد (ﷺ)! تو نہ وہاں موجود تھا اور نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں سے تھا۔ بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے تجھے بتلا رہے ہیں۔ جو اس بات کی دلیل ہیں کہ تو اللہ کا سچا پیغمبر ہے۔ کیونکہ نہ تو نے یہ باتیں کسی سے سیکھی ہیں، نہ خود ہی ان کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ مضمون اور بھی کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔
مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے: [آل عمران: 44]،[یونس:16]،[هود:49]،[یوسف:102،3]،[الضحى:7]
[یعنی آپﷺ اس وقت حاضر و ناظر نہ تھے]۔
[2] نبوت کا زمانہ:
یعنی نبی بننے سے لے کر فوت ہونے تک کا زمانہ۔ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ و آئندہ کے بے شمار واقعات، برزخ اور قبر کے حالات، میدان محشر کے نقشے، جنت اور دوزخ کی کیفیت، الغرض وہ تمام علوم جو آپ ﷺکے شایان شان تھے، وہ سب آپﷺکو عطا کیے۔ اور ان کا اندازہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی کو نہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام، سید نا خضر علیہ السلام اور چڑیا کے بارے میں آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ یہ مثال محض سمجھانے کے لیے ہے ورنہ مخلوق کے محدود علم کو اللہ تعالیٰ کے غیر محدود علم کے ساتھ کوئی نسبت نہیں۔[حاشیہ بخاری:482/1] یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں جگہ جگہ عالم الغیب کا لفظ اللہ تعالیٰ کی خاص صفت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اور بہت سی جگہ رسولﷺ سے عالم الغیب ہونے کی نفی کی گئی ہے۔ اور یہ لفظ قرآن و حدیث میں کہیں نہیں آیا کہ رسول اللہﷺ عالم الغیب ہیں۔
اسی طرح بہت سی احادیث میں بھی یہ مضمون ارشاد ہوا ہے۔ ان آیات و احادیث کو نقل کیا جائے تو اس کے لیے ایک ضخیم کتاب بھی کافی نہیں ہوگی۔ اور علمائے اہل سنت و الجماعت کا یہی مسلک ہے، کہ اللہ کے سوا کسی کو عالم الغیب کہنا درست نہیں:
[قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]
کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ [النمل:65]
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ رسول ﷺغیب جانتے تھے اس نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا۔
[بخاری، کتاب التفسير سورة و النجم، باب:4855]
اب قرآن، صحیح احادیث اور فقہ حنفی کی کتابوں سے کچھ حوالہ جات اس سلسلہ میں درج کیےجاتے ہیں، جن سے کلی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ آپﷺ زندگی میں حاضر و ناظر نہ تھے۔
قرآن وحدیث سے حوالہ جات:
[1] سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہما پر افک کا معاملہ، جس کی حقیقت کا رسولﷺ کو وحی سےپہلے علم نہ ہوا۔
[النور:16 تا 26]،[بخاری، کتاب المغازی، باب حديث الإفك:4141]
[2] شہد کا واقعہ جس میں رسول ﷺ کی دو بیویوں نے منصوبہ بندی کی اور اس کے نتیجے میں رسولﷺ نے اپنے اوپر شہد حرام فرما لیا، بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکو ساری بات بتادی۔
[التحريم:1 تا 4]،[بخاری، کتاب التفسير ، باب: يايها النبي لم تحرم ما أحل الله لك :5668،5667،4912]
[3] ہم نے کچھ پیغمبروں کا حال تجھ سے بیان کیا، کچھ کا نہ کیا۔ [النساء:164]
یادر ہے کہ قرآن کریم میں تو صرف25 انبیاء و رسل کا ذکر اور ان کی قوموں کے حالات بیان کیے گئے ہیں، جب کہ انبیاء کی کل تعداد بہت زیادہ ہے۔
[4] پیغمبروں سے اللہ پوچھے گا تمھیں کیا جواب ملا؟ وہ کہیں گے ہمیں پتا نہیں ہے۔ [المائدة:109]
[5] اللہ کے سوا کسی کو پتا نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ [النمل:65]
[6] پانچ غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [لقمان:34]
[7] قیامت کے وقت کا رسول اللہ ﷺ کو پتا نہیں۔ [الأحزاب:63]،[الشورى:17]،[الاعراف:187]،[طه:15] ،[النمل:65]،[لقمان:34]،[حم السجدة:47]،[الزخرف:85]،[الملك:26،25]
[8] آپ ﷺ نے وفات سے ایک ماہ پہلے فرمایا قیامت کے وقت کا علم صرف اللہ کو ہے۔
[مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب بيان معنى قوله:(على رأس مائة سنة يبقى نفس منفوسة ممن هو موجود الآن):2538]
[9] اللہ کے لشکروں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [المدثر:31]
[10] عبد اللہ ابن ام مکتوم رضي اللہ عنہ نابینا صحابی کا قصہ اور وحی۔ [عبس:1 تا 12]
[11] مدینہ اور اس کے ارد گرد کچھ منافق ہیں، نفاق پر اڑے ہوئے، آپ ان کو نہیں جانتے، ہم جانتے ہیں۔ [التوبه:101]
[12] رسول اللہ ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور جبریل علیہ السلام سے بار بار پوچھنا یہ کون ہیں۔ پانچ دفعہ پوچھا یہ کون ہیں۔ پھر مجھے جبریل سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے جس کےرنگوں کا مجھے علم نہیں کہ کیسے ہیں۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب كيف فرضت الصلاة في الإسراء:349،4233]،[مسلم كتاب الإيمان، باب الإسراء برسول الله ﷺ إلى السموات وفرض الصلوات:163]
[13] رسول الله ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ مسیح ابن مریم (علیہ السلام) ہیں۔ پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا یہ دجال ہے۔
[بخاري، كتاب التعبير، باب رؤيا الليل:6999]،[مسلم، کتاب الإيمان، باب ذكر المسيح ابن مريم والمسيح الدجال:169]
[14] سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہما نے فرمایا: کہ جو شخص بھی تم سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے کہ [1] رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا [2] رسول اللہ ﷺ آنے والے کل کی بات جانتے تھے اور [3] جو کہے کہ رسول اللہﷺ نے تبلیغ دین میں کوئی بات چھپائی تھی۔
[بخاری، كتاب التفسير، سورة والنجم باب:4855]،[مسلم كتاب الإيمان، باب معنى قول الله عز وجل ولقد راه نزلة أخرى وهل رأى النبيﷺ ربه ليلة الإسراء:177]
[15] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دوزخ میں آنکڑے ہوں گے، ان کے طول و عرض کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب الصراط جسر جهنم:6573]،[مسلم، كتاب الإيمان، باب معرفة طريق الرؤية:182]
[16] فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہاحاضر ہوئیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ غسل کر رہے تھے، اور آپ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضي اللہ عنہما پردہ کیےہوئے تھیں، میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کون ہے؟ میں نے بتایا کہ میں ام ہانی ہوں۔
[بخارى، كتاب الغسل، باب التستر في الغسل عند الناس:280]،[مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة الضحى…… الخ:82/336]
[17] ایک سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کا ہار گم ہو گیا ۔ رسول اللہ ﷺ اور لوگ آپ ﷺ کے ساتھ ٹھہر گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہماکے والد ماجد بہت خفا ہوئے، بعد میں اس اونٹ کو کھڑا کیا گیاجس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہماسوار تھیں، تو ہار اسی کے نیچے سے مل گیا۔
[بخاری، کتاب التیمم، باب:3672،334]،[مسلم، کتاب الحيض، باب التيمم:367]
[18] آپ ﷺ کے مرض الوفات میں جب آپ کا مرض بڑھ گیا، تو آپ بار بار بے ہوش ہوئے، جب ہوش آتا تو فرماتے کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ عرض کیا جاتا نہیں، لوگ آپ(ﷺ) کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایسا تین بار ہوا۔
[بخارى، كتاب الأذان، باب إنما جعل الإمام ليؤتم به:687]،[مسلم، کتاب الصلاة، باب استخلاف الإمام إذا عرض له عذر من مرض و سفر ….. الخ:418]
[19] رسول اللہ ﷺ نے چالیس یا ستر قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت مشرکین کے پاس بھیجی تھی، انھوں نے ان کو شہید کر ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ بہت رنجیدہ اور غمگین ہوئے۔
[بخاری، کتاب الوتر، باب القنوت قبل الركوع و بعده:1300،1001]،[مسلم، كتاب المساجد، باب استحباب القنوت في جميع الصلوات…… الخ:301/677]
[20] رسول اللہ ﷺ سوئے رہے، سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی سوئے رہے، سورج پوری طرح نکل آیا اور صبح کی نماز وقت پر نہ پڑھ سکے۔
[بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب الأذان بعد ذهاب الوقت:595]،[مسلم، كتاب المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها:681،680]
[21] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہمافرماتی ہیں: کہ رسول اللہ ﷺمیرے پاس آئے اس وقت ایک عورت میرے پاس بیٹھی تھی۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟میں نے عرض کیا فلاں عورت ہے۔
[بخاری، کتاب التهجد، باب ما يكره من التشديد في العبادة:1151]،[مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب فضيلة العمل الدائم من قيام الليل وغيره ….. الخ:221/785]
[22] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: کہ جب رسول اللہﷺ بادل کا کوئی ایسا ٹکڑا دیکھتے جس سے بارش کی امید ہوتی تو آپﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا اور فرماتے ہیں نہیں جانتا ممکن ہے یہ بادل بھی ویسا ہی ہو جس کے بارے میں قوم عاد نے کہا تھا کہ یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے، حالانکہ اس میں درد ناک عذاب تھا۔
[بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء في قوله: و هو الذي يرسل الرياح بشرا بين يدى رحمته:3206]،[مسلم، کتاب صلاة الاستسقاء، باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم والفرح بالمطر:16/899]
[23] ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو آپﷺبہت گھبرا کر اٹھے، اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے۔
[بخاری، کتاب الكسوف باب الذكر في الكسوف:1059]،[مسلم، کتاب الكسوف، باب ذكر النداء بصلاة الكسوف ((الصلاة جامعة)):912]
[24] جب آپﷺ کی بیٹی سیدہ زینب کی وفات ہوئی تو آپﷺ تشریف لائے اور فرمایا: غسل سے فارغ ہونے پر مجھے خبر دینا۔ پھر غسل سے فارغ ہونے کے بعد آپﷺ کو خبر دی گئی۔
[بخاری، کتاب الجنائز، باب ما يستحب أن يغسل وترا:1258،1254]،[مسلم، كتاب الجنائز، باب في غسل الميت:939]
[25] ایک صحابی یا صحابیہ فوت ہو گئی لیکن رسولﷺ کو اس کی وفات کی خبر کسی نے نہ دی۔ ایک دن آپﷺ نے خود یاد فرمایا کہ وہ شخص دکھائی نہیں دیتا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے کہا اس کا تو انتقال ہو گیا۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہ دی، چلو مجھے اس کی قبر بتا دو۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب كنس المسجد والتقاط الخرق و القذى والعيدان:458]،[مسلم، كتاب الجنائز، باب الصلاة على القبر:956]
[26] سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دیکھا رسول اللہﷺ رات کو اکیلے چل رہے تھے، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چلنے لگے۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ مڑے، ابوذر کو دیکھا اور دریافت فرمایا: کون ہے؟ جناب ابوذر نے عرض کیا ابوذر۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب المكثرون هم المقلون:6443]،[مسلم، کتاب الزكاة، باب الترغيب في الصدقة:33/94، بعد991]
[27] دو عورتیں آپ ﷺ کے دروازے پر آئیں، ان کے سامنے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گزرے۔ انھوں نے سیدنا بلال رضي اللہ عنہ سے کہا ہمارے لیے یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں اور ہمارا نام نہ لینا ۔ بلال رضی اللہ عنہ اندر گئے اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ دو عورتیں یہ مسئلہ دریافت کرتی ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:یہ دونوں کون ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، زینب نام کی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کون سی زینب؟
[بخاری، کتاب الزكوة، باب الزكوة على الزوج والأيتام في الحجر:1466]،[مسلم، كتاب الزكوة، باب فضل النفقة والصدقة على الأقربين …. الخ:1000]
[28] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اپنے گھر جاتا ہوں، وہاں مجھے میرے بستر پر کھجور پڑی ہوئی ملتی ہے، میں اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں لیکن پھر یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ صدقہ کی کھجور نہ ہو تو میں اسے پھینک دیتا ہوں۔
[بخاري، كتاب في اللقطة، باب إذا وجد تمرة في الطريق:2432]،[مسلم، کتاب الزكوة، باب تحريم الزكوة على رسول اللهﷺ الخ:1070]
[29] رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کوئی کھانے کی چیز لائی جاتی تو آپ ﷺ دریافت فرماتے، یہ تحفہ ہے یا صدقہ۔ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو آپ ﷺ اپنے اصحاب سے فرماتے کہ کھاؤ۔
[بخاری، کتاب الهبة و فضلها والتحريص عليها، باب قبول الهدية:2576]،[مسلم، كتاب الزكوة، باب قبول النبيﷺ الهدية وردة الصدقة:1077]
[30] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی لیکن پھر بھلوا دی گئی۔
[بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، باب التماس ليلة القدر في السبع الأواخر:2016]،[مسلم، کتاب الصيام، باب فضل ليلة القدر والحث على طلبها …. الخ:1167]
[31] حج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مکہ میں سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہما کےیہاں تشریف لائے ، وہ رو رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم! میں نے اس سال حج نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا شاید کہ تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا ہاں!
[بخاری، کتاب الحيض، باب تقضى الحائض ……. الخ:305]،[مسلم، کتاب الحج، باب وجوه الإحرام وأنه يجوز إفراد ….. الخ:120/1211]
[32] حج کے موقع پر رسول اللہﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: تم حلال ہو جاؤ، اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔
[بخاری، کتاب الحج، باب التمتع و القرآن ….. الخ:1568]،[مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوه الإحرام….. الخ:1216]
[33] فتح مکہ کے دن ایک شخص نے آکر خبر دی کہ ابن خطل غلاف کعبہ کے پردوں سے لٹک رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہ اسے قتل کر دو۔
[بخاری، کتاب الجهاد والسير، باب قتل الأسير وقتل الصبر:3044]،[مسلم، کتاب الحج، باب جواز دخول مكة ….. الخ:1357]
[34] رسول اللہﷺ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضي اللہ عنہ پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ میں نے نکاح کیا ہے۔
[بخاری، کتاب النکاح باب كيف يدعى ….. الخ:5155]،[مسلم، کتاب النکاح، باب الصداق و جواز کونه ….. الخ:1426]
[35] غزوہ خیبر کے وقت رسول اللہﷺ کے پاس سیدنا دحیہ رضي اللہ عنہ آئے اور عرض کی کہ مجھے کوئی باندی عنایت کیجیے۔ آپﷺ نے فرمایا: جاؤ باندی لے لو۔ انھوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ پھر ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسولﷺ صفیہ تو سردار کی بیٹی ہے، انھیں آپ ﷺ نے دحیہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، وہ تو صرف آپ ہی کے لیے مناسب تھیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: کہ دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ۔ وہ لائے گئے، جب رسول اللہﷺنے انھیں دیکھا تو فرمایا: کہ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو۔ پھر آپ ﷺ نے سیدہ صفیہ رضي اللہ عنہ کو آزاد کر دیا اور انھیں اپنے نکاح میں لے لیا۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب ما يذكر في الفخذ:371]،[مسلم، كتاب النكاح، باب فضيلة…… الخ:1365]
[36] صحابه کرام رضي اللہ عنہم اجمعین نے قیدی عورتوں سے عزل کیا پھر انھوں نے رسول اللہﷺ سے اس کا حکم پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم واقعی ایسا کرتے ہو۔ تین مرتبہ یہ فرمایا۔
[بخاری، کتاب النکاح، باب العزل:5210]،[مسلم، کتاب النكاح، باب حكم العزل:127/1438]
[37] رسول الله ﷺ سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہماکے گھر تشریف لائے، تو وہاں ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: عائشہ! یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔
[بخاری، کتاب الشهادات، باب الشهادة …. الخ:2647]،[مسلم، کتاب الرضاع، باب إنما الرضاع من المجاعة …. الخ:1455]
[38] سیدنا جابر بن عبد الله رضي اللہ عنہمانے بیان کیا: کہ میں نے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: کہ کسی سے شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا ایک بیوہ عورت سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہ کی؟ میں نے عرض کیا میرے والد شہید ہو گئے اور انھوں نے کئی لڑکیاں چھوڑی ہیں، اس لیے میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان کے پاس انھی جیسی لڑکی بیاہ لاؤں، اس لیے میں نے ایک ایسی عورت سے شادی کی ہے جو ان کی دیکھ بھال کر سکے۔
[بخاری، کتاب البیوع، باب شراء الدواب…… الخ:2097]،[مسلم، کتاب الرضاع، باب استحباب نكاح البكر…. الخ:56/715، بعد1466]
[39] رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک صحابی نے شکایت کی کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک غیر مرد کے ساتھ تنہائی میں پایا، اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ، اس معاملے کا فیصلہ فرما دیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ! اس معاملہ کو صاف کر دے چنانچہ اس عورت نے بچہ اسی مرد کی شکل کا جنا جس کے متعلق شوہر نے دعوی کیا تھا کہ اسے انھوں نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے میاں بیوی کے درمیان لعان کرایا۔
[بخاری، کتاب الطلاق، باب قول الإمام …. الخ:5316]،[مسلم، کتاب اللعان:1497]
[40] سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہمانے بیان کیا:کہ میں ایک مرتبہ بیمار پڑا، رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ پیدل میری عیادت کو تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال میں کیا کروں، کس طرح اس کا فیصلہ کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔
[بخاری، کتاب التفسير، باب يوصيكم الله….. الخ:4577]،[مسلم، کتاب الفرائض، باب ميراث الكلالة: 1616]
[41] سیدنا نعمان بن بشیر رضي اللہ عنہ نے بیان کیا: کہ ان کے والد انھیں رسول اللہﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام بطور ہبہ دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کیا ایسا ہی غلام دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا: پھر واپس لے لے۔
[بخاری، کتاب الهبة وفضلها، باب الهبة للولد:2586]،[مسلم، کتاب الهبات، باب كراهة تفضيل…. الخ: 1623]
[42] ایک قبیلہ کے آٹھ افراد رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، وہ بیمار پڑ گئے تو آپ نے ان سے کہا ہمارے چرواہے کے ساتھ اونٹوں میں چلے جاؤ، اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو۔ وہ گئے، اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے۔ پھر انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے چرواہے کو قتل کر دیا اور جانور بھگا کر لے گئے۔ اس کی اطلاع جب رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، وہ پکڑے گئے اور لائے گئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو سزا دی۔
[بخاري، كتاب الجهاد والسير، باب إذا حرق المشرك.. الخ:3018]،[مسلم، كتاب القسامة والمحاريين، باب حكم المحاربين والمرتدين:10/1671]
[43] جنگ بدر کے دن دولڑکوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور ابو جہل پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اس کو قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو خبر دی۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا؟ دونوں نو جوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں۔ انھوں نے عرض کیا کہ نہیں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا: کہ تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے۔
[بخاری، کتاب فرض الخمس، باب من لم يخمس الأسلاب:3141]،[مسلم، کتاب الجهاد، باب استحقاق القاتل…..الخ:1752]
[44] جب رسول اللہ ﷺغزوہ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبرئیل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے اور وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے۔ انھوں نے رسول ﷺ سے کہا آپ نے ہتھیار رکھ دیے، اللہ کی قسم! ابھی میں نے ہتھیار نہیں اتارے، آپ کو ان پر فوج کشی کرنی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کن پر ؟ تو انھوں نے بنوقر بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب مرجع النبيﷺ من الأحزاب ومخرجه إلى….. الخ:4117]،[مسلم، كتاب الجهاد، باب جواز قتال من نقض العهد وجواز إنزال…. الخ:1769]
[45] جنگ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون دیکھ کر آئے گا کہ ابو جہل کا کیا ہوا ہے ؟ سید نا ابن مسعودرضی اللہ عنہ معلوم کرنے گئے تو دیکھا کہ عفراء کے دونوں لڑکوں نے اسے قتل کر دیا تھا، اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب قتل أبي جهل:3962]،[مسلم، كتاب الجهاد، باب قتل أبي جهل:1800]
[46] رسول اللہ ﷺ سیدہ میمونہ رضي اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے ، انھوں نے بھنا ہوا سانڈا آپ کی خدمت میں پیش کیا، ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ آپ کسی کھانے کے لیے اس وقت تک ہاتھ بڑھا ئیں جب تک آپ کو اس کے متعلق بتا نہ دیا جائے۔ کہ فلاں کھانا ہے لیکن اس دن آپ نے بھنے ہوئے سانڈے کے گوشت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اتنے میں وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو بتا کیوں نہیں دیتیں۔ کہ اس وقت آپ ﷺ کے سامنے جو تم نے پیش کیا ہے وہ سانڈا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ سانڈے سے ہٹا لیا۔ خالد بن ولید رضي اللہ عنہ بولے اے اللہ کے رسول!کیا سانڈ ا حرام ہے؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔
[بخاری، کتاب الذبائح، باب الضب:5537]،[مسلم، كتاب الصيد والذبائح، باب إباحة الضب:1946]
[47] رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک صاحب بھو کے حاضر ہوئے ، آپ ﷺ نے انھیں ازواج مطہرات کے ہاں بھیجا (تاکہ ان کو کھانا کھلا دیں ) ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ کون ان کی مہمان نوازی کرے گا ؟ ایک انصاری صحابی بولے کہ میں کروں گا۔
[بخاری، کتاب التفسیر، باب قوله (ويؤثرون على أنفسهم):4889،3798]،[مسلم، كتاب الأشربة، باب إكرام الضيف… الخ:2054]
[48] سیدنا ابو طلحہ رضي اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور آپ ﷺ کو واقعہ کی اطلاع دی۔ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا:تم نے رات ہم بستری بھی کی تھی؟ انھوں نے عرض کیا جی ہاں! پھر آپ نے دعا کی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا، اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ ﷺ نے بچہ کو لیا اور دریافت فرمایا: اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے؟ کہا گیا ہاں کھجوریں ہیں۔
[بخارى، كتاب العقيقة، باب تسمية المولود …… الخ:5470]،[مسلم، کتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود….. الخ:23/2144]
[49] سیدنا جابر رضي اللہ عنہ نے بیان کیا: کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کون ہے؟میں نے کہا میں۔ آپﷺ نے فرمایا: میں، میں ۔ جیسے آپ ﷺ نے اس کو نا پسند فرمایا۔
[بخاری، كتاب الاستئذان، باب إذا قال من ذا؟… الخ:6250]،[مسلم، کتاب الآداب، باب كراهة قول المستأذن …..الخ:2155]
[50] ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے دروازے کے سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، اس وقت آپ ﷺ کے پاس لوہے کا کنگھا تھا، جس سے آپ ﷺ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا:اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم (جھانکتے ہوئے) میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمھاری آنکھ میں چھو دیتا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اجازت لینے کا جو حکم دیا گیا وہ اسی لیے ہے کہ نظر نہ پڑے۔
[بخاری، کتاب الاستئذان، باب الاستئذان من أجل البصر:6241]،[مسلم، کتاب الآداب، باب تحريم النظر في …..الخ:2156]
[51] ایک یہودی عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں زہر ملا بکری کا گوشت لائی ، آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ کھایا پھر، جب اس عورت کو لایا گیا تو اس نے زہر کا اقرار کر لیا تو کہا گیا کہ کیوں نہ اسے قتل کر دیا جائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، کہ اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے تالو میں محسوس کیا۔
[بخاری، کتاب الهبة و فضلها، باب قبول الهدية من المشركين:6217]،[مسلم، كتاب السلام، باب السهم:2190]
[52] آپ ﷺ کا طویل خواب جس میں آپ ﷺ نے اپنا خواب بیان کرتے ہوئے صبح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے فرمایا: رات کو میرے پاس دو آنے والے آئے، وہ مجھے ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس لے گئے۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا: سبحان اللہ !یہ دونوں کون ہیں؟ مجھ سے انھوں نے کہا: آگے بڑھیے اور ہم ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا میں نے کہا:سبحان اللہ! یہ دونوں کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آگے چلیے ، پھر ہم ایک تنور نما گڑھے پر آئے میں نے ان دونوں سے پوچھا:یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: آگے چلیے۔ پھر ہم ایک نہر پر آئے۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: کہ آگے چلیے۔ پھر ہم ایک نہایت بدصورت آدمی کے پاس پہنچے میں نے ان دونوں سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا آگے چلیے ۔ پھر ہم ایک باغ میں پہنچے میں نے پوچھا:یہ کون ہے؟ یہ بچے کون ہیں؟ انھوں نے کہا: آگے چلیے۔ پھر ہم ایک عظیم الشان باغ میں پہنچے پھر انھوں نے کہا ہم آپ کو بتا ئیں گے۔
[بخاری، کتاب التعبير، باب تعبير الرؤيا…. الخ:7047]،[مسلم، کتاب الرؤيا، باب رؤيا النبيﷺ:2275]
[53] ایک رات مدینہ پر (ایک آواز سن کر) بڑا خوف چھا گیا۔ لوگ اس آواز کی طرف بڑھے لیکن رسول اللہ ﷺ سب سے آگے تھے۔ اور آپ ﷺ نے واقعہ کی تحقیق کی۔
[بخارى، كتاب الجهاد والسير، باب الحمائل و تعليق… الخ:2908،2627]،[مسلم، کتاب الفضائل، باب شجاعته:2307]
[54] ایک یہودی رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا اور کہا، کہ آپ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک نے مجھے طمانچہ مارا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کس نے ؟ اس نے کہا ایک انصاری نے۔
[بخاری، کتاب الخصومات، باب ما يذكر…… الخ:2412]،[مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل موسیٰ ﷺ:2374]
[55] سیدنا ابو ہریرہ رضي اللہ عنہ نے بیان کیا: کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:سب سے شریف کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو سب سے پر ہیز گار ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم آپ ﷺ سے اس کے متعلق نہیں پوچھتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ کے نبی یوسف بن نبی ابن نبی ابن خلیل اللہ ، صحابہ نے کہا: ہم اس کے متعلق نہیں پوچھتے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:عرب کے خاندانوں کے متعلق پوچھتے ہو؟ سنو! جاہلیت میں جو شریف تھے اسلام میں بھی وہ شریف ہیں جبکہ دین کی سمجھ انھیں آجائے۔
[بخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب قول الله تعالى (لقد كان في يوسف)…… الخ:3383]،[مسلم، كتاب الفضائل، باب من فضائل يوسفﷺ:2378]
[56] رسول اللہ ﷺ نے سیدنا موسی علیہ السلام اور سید نا خضر علیہ السلام کا طویل قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: اللہ موسیٰ پر رحم فرمائے! ہماری تمنا تھی کہ موسیٰ علیہ السلام کچھ دیر اور صبر کرتے تو مزید واقعات ان دونوں کے بیان کیے جاتے۔
[بخاری، كتاب العلم، باب ما يستحب للعالم ….. الخ:122]،[مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل خضرﷺ:2380]
[57] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں جنت میں گیا، وہاں میں نے ایک محل دیکھا؟ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا یہ عمر (رضی اللہ عنہ ) کا محل ہے۔
[بخاری، کتاب النكاح، باب الغيرة:5226،3679]،[مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل عمر رضی الله عنه:2394]
[58] رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکے گھر تشریف لائے، دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا:تمھارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟ سیدہ فاطمہ رضي اللہ عنہانے بتایا کہ ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آگئی، اور وہ مجھ سے ناراض ہو کر کہیں باہر چلے گئے ہیں۔ اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے کہا: علی(رضی اللہ عنہ) کو تلاش کرو کہ کہاں ہے؟ وہ آئے اور بتایا کہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ پھر آپ ﷺ مسجد میں تشریف لائے۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب نوم الرجال ….الخ:441]،[مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل على بن أبي طالب رضی الله عنه:2409]
[59] غزوہ خندق کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:دشمن کے لشکر کی خبر میرے پاس کون لا سکتا ہے؟ سیدنا زبیر رضي اللہ عنہ نے کہا کہ میں ۔ ۔
[بخاری، کتاب الجهاد والسير، باب هل يبعث الطليعة:4113،3719،2846]،[مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل طلحة والزبير رضي الله عنهما:2415]
[60] رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمہ رضي اللہ عنہاکے گھر کے آنگن میں بیٹھ گئے اور فرمایا:وہ بچہ کہاں ہے؟ آپ ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھ رہے تھے۔
[بخاری، کتاب اللباس، باب السحاب للصبيان:5884،2122]،[مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل الحسن و الحسين رضي الله عنهما:57/2421]
[61] رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی وفات ہوئی ( سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہما جو عثمان رضي اللہ عنہ کی بیوی تھیں اور 9 ہجری میں فوت ہوئیں) آپ ﷺ قبر پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:لوگو! کوئی تم میں سے ایسا بھی ہے جو آج رات عورت کے پاس نہ گیا ہو ۔ ابو طلحہ رضي اللہ عنہ نے کہا میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر اتر و ۔ وہ ان کی قبر میں اترے۔
[بخاری، كتاب الجنائز، باب من يدخل قبر المرأة:1342]
[62] قرآن میں اللہ نے جہاں (مَا أَدْرَاكَ) فرمایا:ہے وہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتا دی اور جہاں (مَا يُدْرِيكَ) فرمایا: وہ نہیں بتائی۔
[بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، باب فضل ليلة القدر (من قول سفيان بن عينية) ملاحظہ ہو (الاحزاب:63)،(الشورى:17)،(عبس:3)،(المطففين:19،8)]
[63] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کا مکمل قصہ ایک طویل حدیث میں ہے۔ آپ ﷺ نے تہمت کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ سے یہ صلاح کی:کیا میں عائشہ کو چھوڑ دوں۔ آگے جا کر ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے تیری طرف سے ایسی ایسی خبر پہنچی ہے، اگر تو پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاکدامنی کھول دے گا۔ اور جو تو پھنس گئی ہے تو اللہ تعالی سے بخشش مانگ، تو بہ کر۔ یہ معاملہ چلتا رہا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں وحی اتار کر سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہاکو پاکدامن قرار دیا۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب حديث الإفك:4141]
[64] رسول اللہ ﷺ نے ایک دو دفعہ نماز کی رکعات امامت میں کم پڑھا دیں۔ بعد میں صحابہ کے عرض کرنے پر فرمایا:میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو، پھر جب میں بھولوں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان:401]
[65] ایک شخص جو رات کو دفن کر دیا گیا، آپ ﷺ اپنے صحابہ سمیت کھڑے ہوئے، اور آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کس کی قبر ہے؟
[بخاری، کتاب الجنائز، باب الصلاة على القبر بعد ما يدفن:1336]
[66] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہو جائیں گے، میں بھی بے ہوش ہو جاؤں گا۔ اور سب سے پہلے مجھ کو ہوش آئے گا، میں کیا دیکھوں گا کہ موسی (علیہ السلام)عرش کا کونا تھامے کھڑے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ بھی بے ہوش ہو کر مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے، یا ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بے ہوشی سے مستثنی رکھا ہے۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب نفخ الصور:6517]
[67] عثمان بن مظعون وفات پا گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اللہ کا پیغمبر ہوں مگر میں یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا اور تمھارا کیا حال ہو گا۔
[بخاری، كتاب التعبير، باب العين الجارية في المنام:7018]
[68] ستر قاریوں کے بارے میں حدیث میں ہے کہ ان کو رسول اللہ ﷺ نے بنی عامر کی طرف بھیجا،اور لوگوں نے انھیں شہید کر ڈالا۔ پھر سیدنا جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور ان قاریوں کا حال بیان کیا۔ کہ وہ اپنے مالک سے مل گئے ۔ رسول الله ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے چالیس دن تک قاتلوں کے لیے بد دعا کی ۔ آپ ﷺ فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے رہے۔[بخاری، كتاب الجهاد والسير، باب من ينكب…. الخ:2801]
[69] حدیبیہ کے دن سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی پھر ایک درخت کے سائے میں چلا گیا۔ جب لوگوں کا ہجوم کم ہوا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اکوع کے بیٹے! تو بیعت نہیں کرتا۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسولﷺ! میں بیعت کر چکا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:دوبارہ سہی۔میں نے دوسری بار پھر آپ ﷺ سے بیعت کی۔
[بخاری، کتاب الجهاد والسير، باب البيعة في الحرب ….. الخ:2960]
[70] رسول اللہ ﷺ نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے روانہ کیا۔ ان کا سردار سیدنا عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا، سات شہید ہو گئے تین بچ گئے۔ انھوں نے دعا کی کہ یا اللہ ! ہماری خبر ہمارے پیغمبر ﷺ کو پہنچا دے۔ بعد میں باقی دو بھی شہید ہو گئے اور سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ قیدی بن گئے، پھر ان کو بھی شہید کر دیا گیا۔
[بخاری، کتاب الجهاد والسير، باب هل يستأسر الرجل ….. الخ:3045]
[71] جنگ حنین میں رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک انصاری شخص کہنے لگا اللہ کی قسم ! اس تقسیم سے تو اللہ کی رضا مندی کی غرض نہ تھی۔ عبداللہ بن مسعودرضي اللہ عنہ نے اس کی یہ بات سن کر کہا کہ میں تو اس کی خبر رسول اللہ ﷺ کو کردوں گا۔ آخر وہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے ۔ آپ ﷺ اپنے اصحاب میں تشریف فرما تھے۔ انھوں نے چپکے سے یہ بات آپ ﷺ کو عرض کر دی۔ آپ ﷺ کو بہت شاق گزرا، چہرے کا رنگ بدل گیا، اتنے غصے میں آگئے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کاش! میں نے آپ ﷺکو خبر نہ کی ہوتی۔
[بخاری، کتاب الآداب، باب الصبر في الأذى….. الخ:6100]
[72] رسول الله ﷺ سے کسی نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ان کے روزے رکھنے کا حال بیان کر دیا وہ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے ۔ آپ ﷺ یہ سن کر ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا تجھ کو ہر مہینے میں تین روزے کافی نہیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں زیادہ طاقت ہے اور کئی سوال و جواب کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا:داؤد (علیہ السلام) پیغمبر کے روزے سے کوئی روزہ افضل نہیں (یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار)۔
[بخاری کتاب الصوم، باب صوم الدهر:1977،1976]
[73] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن میں عرش کے نیچے آؤں گا، اور اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر اللہ کی ایسی حمد و ثنا بیان کروں گا، کہ آج میں اس پر قادر نہیں، اسی وقت وہ حمد مجھے اللہ تعالیٰ القا کرے گا۔
[مسلم، كتاب الإيمان، باب أدنى أهل الجنة…. الخ:326/193]
[74] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: کہ رسول اللہ ﷺ میرے یہاں تھے۔ آپ بستر پر لیٹ گئے کچھ دیر بعد آہستہ سے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے۔ میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے چل دی۔ آپ ﷺ بقیع پہنچے اور دیر تک کھڑے رہے۔ پھر آپ ﷺ واپس آئے۔ آپ ﷺ گھر آگئے اور میں بھی گھر آگئی۔ مگر آپ ﷺ سے پہلے آئی اور آتے ہی لیٹ گئی۔ آپ ﷺ داخل ہوئے اور فرمایا: اے عائشہ! کیا ہوا، کیوں سانس چڑھ رہا ہے اور پیٹ پھول رہا ہے۔ میں نے عرض کیا کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم خود ہی بتلا دو ورنہ اللہ مجھے بتلا دے گا۔ میں نے آپ ﷺ سے صورتحال بیان کی۔ آپ نے فرمایا: وہ کالی کالی چیز جو مجھے اپنے آگے نظر آتی تھی ، وہ تم ہی تھیں؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔
[مسلم، كتاب الجنائز، باب ما يقال….. الخ:103/974]
[اس سے ان لوگوں کی بھی نفی ہوئی جو کہتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ، اللہ کے نور میں سے نور ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کو اندھیرے میں صاف نظر آجاتیں]۔
[75] سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہانے کہا: آپ ﷺ نے ارادہ فرمایا: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے جو مرد کو اپنی بیوی سے ہوتا ہے، انھوں نے عرض کی میں حائضہ ہوں۔
[مسلم، کتاب الحج، باب وجوب طواف الخ:386/1211، بعد1328]
[76] ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: یہ کون سا وفد ہے اور کون سی جماعت ہے؟ اہل وفد نے عرض کیا:خاندان ربیعہ۔
[مسلم، كتاب الإيمان، باب الأمر بالإيمان الخ:24/17]
[77] سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے: جبرئیل علیہ السلام نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ سے آنے کا وعدہ کیا۔ پھر وہ وقت آ گیا مگر جبرئیل نہ آئے ۔ اس وقت آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک لکڑی تھی ، آپ ﷺ نے اسے پھینک دیا، اور فرمایا:اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا، نہ اس کے ایلچی وعدہ خلاف کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ادھر ادھر دیکھا، ایک کتے کا بچہ تخت چار پائی کے نیچے دکھلائی دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! یہ اس جگہ کب آیا۔ انھوں نے کہا اللہ کی قسم! مجھے خبر نہیں۔ پھر آپ ﷺنے حکم دیا وہ باہر نکالا گیا۔ اس وقت جبرئیل آئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میں تمھارے انتظار میں بیٹھا تھا لیکن تم نہیں آئے ۔ انھوں نے کہا:یہ کتا جو آپ ﷺ کے گھر میں تھا اس نے مجھے روک رکھا تھا، ہم اس گھر میں نہیں جاتے جس کے اندر کتا ہو یا تصویر۔
[مسلم، کتاب اللباس والزينة، باب تحريم تصوير…. الخ:2104]
[78] آپ ﷺ کی لونڈی کو ایک شخص سے لوگ تہمت لگاتے تھے۔ آپ ﷺ نے سیدنا علی رضي اللہ عنہ سے فرمایا:جا اور اس شخص کی گردن مار۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے۔ دیکھا کہ وہ ٹھنڈک کے لیے ایک کنویں میں غسل کر رہا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سےکہا نکل، وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کا عضو تناسل کٹا ہوا ہے۔ سیدنا علی رضي اللہ عنہ نے اس کو نہ مارا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا اس کا ذکر (عضو تناسل) نہیں ہے۔
[صحیح مسلم، کتاب التوبۃ، باب براءة حرم النبي صلى الله عليه وسلم من الريبة: 2771]
[3]فوت ہونے کے بعد نبی ﷺ سے علم غیب کی نفی:
فوت ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو غیب کا علم نہیں ہے اور نہ ہی آپ ﷺ حاضر و ناظر ہیں:
[1] ایک عورت آپ ﷺ کے پاس آئی آپ ﷺ نے فرمایا:،، پھر آنا،، اس نے کہا: بتلائیے! اگر میں آؤں اور آپ نہ ملیں۔ (یعنی) آپ ﷺ کی وفات ہو جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اگر میں نہ ہوا تو ابو بکر کے پاس آنا۔ [بخاری، کتاب الاحکام، باب الاستخلاف: ح7220]
(یہ نہیں فرمایا کہ میری قبر پر آجانا، عرض کرنا، تمھارا کام ہو جائے گا۔ جیسا کہ آج کل لوگ قبروں پر جا کر صاحب قبر سے کہتے ہیں، ایسا کرنا سراسر غلط ہے)۔
[2] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب قحط پڑتا تو وہ سیدنا عباس رضي اللہ عنہ کے ذریعے دعا کرتے اور کہتے: یا اللہ! ہم پہلے تیرے پاس اپنے پیغمبر (ﷺ) کا وسیلہ لایا کرتے تو تو پانی برساتا تھا، اب اپنے پیغمبر (ﷺ) کے چچا(رضي اللہ عنہ) کا وسیلہ لائے ہیں، ہم پر پانی برسا۔ راوی نے کہا پھر پانی برسا۔
[بخاری، کتاب الإستسقاء، باب سؤال الناس الإمام ….. الخ:1010]
[اسی طرح فوت ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: کاغذ لاؤ میں تمھیں لکھوا دوں، کبھی گمراہ نہ ہوگے]۔
[بخاری، کتاب العلم، باب كتابة العلم:114]
[صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے آپ کی قبر پر جا کر آپ ﷺ سے رابطہ نہیں کیا، یعنی جائز وسیلہ زندہ سے دعا کروانا ہے، مردہ سے نہیں اور آپ ﷺ کے فوت ہونے کے بعد آپ ﷺ سے رابطہ نہیں ہو سکتا، جبھی تو آپ ﷺ نے فرمایا:کاغذ لاؤ۔ ورنہ آپ ﷺ فرماتے میرے فوت ہونے کے بعد قبر میں مجھ سے رابطہ کر لینا]۔
[3] آپ ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے دن اپنے حوض کوثر پر ہوں گا، میں تم لوگوں کا پیش خیمہ ہوں گا، جو شخص وہاں آئے گا وہ اس میں سے پیے گا اور جو اس میں سے پیے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا۔ اور کچھ لوگ حوض پر ایسے آئیں گے، جن کو میں پہچانتا ہوں گا، اور وہ مجھ کو پہچانتے ہوں گے۔ اور پھر مجھ میں اور ان میں آڑ (رکاوٹ) کر دی جائے گی، میں کہوں گا یہ لوگ تو میری امت کے ہیں۔ ارشاد ہو گا تم نہیں جانتے، انھوں نے تمھارے بعد کیا کیا نئی باتیں نکالیں۔ اس وقت میں کہوں گا جس شخص نے میرے بعد دین بدل ڈالا وہ دور ہو، وہ دور ہو۔ [بخاری، کتاب المرقاق، باب في الحوض:6584،6583]
[اس حدیث کے الفاظ تم نہیں جانتے انھوں نے تمھارے بعد کیا کیا نئی باتیں نکالیں قابل غور ہیں۔ یعنی اس وقت رسول اللہﷺکو پتا نہیں کہ میری امت کے کون کون سے لوگ دین میں رد و بدل کر رہے ہیں]۔
[4] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے بدن، بے ختنہ حشر کیے جاؤ گے۔ پھر سب سے پہلے قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔سن لو! میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے، فرشتے ان کو پکڑ کر بائیں طرف والوں (یعنی دوز خیوں) میں لے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا اے رب! یہ تو میرے امتی ہیں۔ ارشاد ہو گا تم نہیں جانتے انھوں نے تمھاری وفات کے بعد کیا کیا۔ اس وقت میں وہی کہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا: میں جب تک ان لوگوں میں رہا ان کا حال دیکھتا رہا……. الحکیم تک [المائدة:118،117]ارشاد ہو گا یہ لوگ اپنی ایڑ یوں کے بل اسلام سے پھرے رہے جب تو (ﷺ) ان سے جدا ہوا۔
[بخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب قول الله تعالى الخ:3349]،[مسلم، كتاب الجنة ونعيمها، باب فناء الدنيا…. الخ:58/2860]
[اس حدیث میں پچھلی حدیث والے الفاظ ملاحظہ ہوں کہ تم نہیں جانتے کہ انھوں نے تمھاری وفات کے بعد کیا کیا]۔
[5] ایک انصاری نے آپﷺ سے عرض کیا: کہ اے اللہ کے رسول! آپ(ﷺ) مجھے کوئی عہدہ نہیں دیتے۔ جیسے فلاں شخص کو آپ (ﷺ) نے دیا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: تم انصار میرے بعد حق تلفی دیکھو گے، تو صبر کیے رہنا یہاں تک کہ تم مجھ سے مل جاؤ اورتمھارے ملنے کا مقام حوض کوثر ہو گا۔
[بخاری، کتاب مناقب الأنصار، باب قول النبيﷺ للأنصار.. الخ:3792]
[یعنی اس سے پہلے رابطہ نہیں ہو سکتا]۔
[6] اور فقہ حنفی کی مشہور کتابوں میں یہ مسئلہ لکھا ہے،کہ جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور یہ کہا کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺکو گواہ بناتے ہیں، تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ اس شخص نے رسول اللہﷺکو عالم الغیب جانا، حالانکہ علم غیب اللہ تعالیٰ کو خاص ہیں۔ [النحل:65]،[در مختار:2ص:14]
آج کل کے لوگوں کے عقائد سے اس بات کا موازنہ کریں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺحاضر و ناظر ہیں۔
[7] علماء نے تصریح کر دی کہ جو کوئی دعوی کرے کہ نبیﷺعلم غیب جانتے ہیں تو وہ کافر ہے، اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے: [لا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ]
[النمل:65]،[مقدمه هدایه اردو: ص59]
[8] علم غیب اللہ کے سواکسی مخلوق کو نہیں۔ [درمختار مقدمہ ہدایہ اردو ایضا]،[المجادلۃ:7،6]
مسئلہ حاضر و ناظر:
[9] کچھ کلمہ گو لوگوں کا کہنا کہ چونکہ آپ ﷺ کو قرآن میں شہید (یعنی) گواہ کہا گیا ہے۔ اور گواہ وہی ہوتا ہے جو سب کچھ دیکھ رہا ہو، لہذا آپﷺ عالم الغیب ہیں۔ اور سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ ان کے لیے اطلاعاً عرض ہے ،،شہید،، (یعنی) گواہ کا لفظ آپ کی ساری امت پر بھی قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ [البقرة:143]،[الحج:78] اب کیا کوئی مسلمان امت محمد یہ میں حاظر و ناظر کی صفت رکھتا ہے۔ یا یہ صاحبان جو حاضر و ناظر کا عقیدہ رکھتے ہیں، یہ بھی اپنے عقیدے کے مطابق حاظر و ناظر ٹھہرے۔ تو ان میں سے کوئی ایک بتا دے کہ لندن یا نیو یارک یا ان کے گھر کے باہر یا بازار میں کیا ہو رہا ہے، بلکہ ان آیات کی تفسیر بخاری میں موجود ہے کہ آپﷺاور آپ کی امت قوم نوح پر گواہی دے گی اور یہ گواہی قرآن کی بنیاد پر ہو گی۔
[بخاری، کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب قوله تعالى (وكذلك جعلنكم أمة وسطا)الخ:7349]
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفیل میں فرمایا : [اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ]
(اے پیغمبر!) تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ [الفيل:1]
اور کہتے ہیں کہ یہ واقعہ آپﷺ کی پیدائش سے پہلے پیش آیا، اس لیے آپ اس واقعہ کو دیکھ رہے تھے۔ ان صاحبان کا ان آیات کے بارے میں کیا خیال ہے: [اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ]
کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتیں ہلاک کر دیں۔ [الأنعام:6]
کیا مشرکین دیکھ رہے تھے جب اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کو ہلاک کیا۔ ان آیات سے ان لوگوں کے باطل عقیدہ کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ ہاتھی والوں کا واقعہ رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔
کلمہ شہادت:
ہر مسلمان کلمہ شہادت پڑھتا ہے یعنی کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ لیکن گواہی دینے والا اپنے آپ کو حاضر و ناظر نہیں سمجھتا (یعنی) یہ نہیں سمجھتا کہ وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کو دیکھ رہا ہے یعنی گواہی دینے کے لیے حاضر و ناظر ہونا ضروری نہیں۔
[10] عیسی علیہ السلام کو بھی قرآن میں شہید (یعنی) گواہ کہا گیا ہے۔ [النساء:159] اور شہید کے (معنی) ناظر یہ لوگ لیتے ہیں۔ اس کی عیسی علیہ السلام کے متعلق قرآن میں تردیدبھی موجود ہے۔[المائدة:117،116] اور عزیر علیہ السلام بلکہ ہر نبی کو قرآن میں شہید یعنی گواہ کہا گیا ہے:[فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا]
جب ہم ہر امت میں سے گواہ بلائیں گے اور تمھیں ان پر گواہ کر کے لائیں گے، تو وہ وقت کیسا ہوگا۔ [النساء:47]
یعنی ہر امت پر اس کا نبی قیامت کے دن گواہ ہو گا اور پھر ساری امتوں پر ہمارے رسولﷺ گواہ ہوں گے۔
مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے:[القصص:75] اور حاضر و ناظر کہنے والےان صاحبان کے معنوں کی قرآن میں تردید موجودہے :
[اَوۡکَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚقَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ]
یا اس شخص کی طرح جو ایک بستی پر گزرا اور وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی تھی، اس نے کہا اللہ اس کو اس کے مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے اسے سو (100) سال تک موت دے دی، پھر اسے زندہ کیا، فرمایا تو کتنی دیر رہا ہے؟ اس نے کہا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہا ہوں۔ فرمایا بلکہ تو سو (100) سال رہا ہے، سو اپنے کھانے اور اپنے پینے کی چیزیں دیکھ کہ بگڑی نہیں اور اپنے گدھے کو دیکھ اور تاکہ ہم تجھے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور ہڈیوں کو دیکھ ہم انھیں کیسے اٹھا کر جوڑتے ہیں، پھر ان کو گوشت پہناتے ہیں۔ پھر جب اس کے لیے خوب واضح ہوگیا تو اس نے کہا میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ [البقرة:259]
(یعنی) عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سو سال کے لیے موت دے دی۔ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ زندہ کیا تو اللہ تعالی نے جناب عزیر (علیہ السلام) سے پوچھا کہ تم یہاں کتنی دیر رہے تو انھوں نے عرض کی کہ میں یہاں ایک دن یا ایک دن سے کم رہا ہوں، حالانکہ وہ سو سال موت کی حالت میں رہے اور اللہ کے اس پیغمبر کو یہ بھی پتا نہ تھا کہ دنیا میں سو سال گزر چکے ہیں۔
[11] آپ ﷺ کی وفات ہونے سے متصل پہلے آپ ﷺ کے الفاظ یہ تھے: (اللهم بالرفيق الأعلى) یا اللہ! بلند رفیقوں میں رکھ۔ (یعنی) نبیوں اور فرشتوں کے ساتھ۔ [بخاری، کتاب المغازی، باب آخر ما تكلم به النبيﷺ:4463]
[12] آپ ﷺ کے فوت ہونے کے بعد سب سے پہلے یہ واقعہ پیش آیا کہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نےکہا کہ جو کوئی یہ کہے گا کہ رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے۔ تو میں اس کا سر تلوار سے کاٹ دو ں گا پھر سیدنا ابو بکررضي اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں سے فرمایا:تم میں سے جو کوئی اللہ کے رسول محمد ﷺ کی پوجا کرتا تھا، تو محمد ﷺ فوت ہو گئے تو جو کوئی اللہ کی پوجا کرتا ہے تو یاد رکھے اللہ ہمیشہ زندہ ہے، کبھی مرنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود قرآن میں فرماتے ہیں:محمد ﷺ کچھ نہیں وہ تو صرف اللہ کے رسول ہیں، ان سے پہلے کئی رسول آچکے ہیں۔ اخیر آیت تک ( آل عمران:144) سب صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین یہی آیت پڑھ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضي اللہ عنہ کہنے لگے: جب میں نے یہ آیت ابو بکر (رضي اللہ عنہ) سے سنی تو مجھ کو معلوم ہوا کہ رسول ﷺ کی وفات ہو گئی۔
[بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی و وفاته:4454،1242،1241]
[ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما یا کسی صحابی نے یہ نہیں کہا کہ گھبراؤ نہیں، ابھی آپ ﷺکو دفن کرنے کے بعد آپﷺسے رابطہ کر لیں گے۔ آپﷺکی وفات پر صحابہ رضي اللہ عنہم اجمعین کا اتفاق ہو گیا]۔
[13] جب ولید بن عبد الملک کے عہد حکومت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے حجرے کی دیوار گری، اس کو بنانے لگے تو ایک ٹانگ دکھائی دی، لوگ گھبرا گئے۔ سمجھے آپﷺکا قدم مبارک ہے۔اور کی ایسے شخص کو نہ پایا اس کو پہچانتا ہو، یہاں تک کہ سید نا عروہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! یہ رسول اللہﷺکا قدم مبارک نہیں۔ بلکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قدم ہے۔
[بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قبر النبيﷺ وأبي بكر و عمر رضي الله عنهما:1390]
[ثابت ہوا کہ سلف کا یہ عقیدہ نہ تھا، کہ رسول اللہﷺیا سیدنا عمررضی اللہ عنہ اپنی قبر میں زندہ ہیں ،تبھی تو ان کے قدم پر مٹی ڈال کر دوبارہ دفن کر دیا گیا]۔
[14] صحیح بخاری میں آپ ﷺ کا ایک طویل خواب ذکر ہے۔ جو آپ نے ایک صبح صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین کو سنایا (یاد رہے کہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے) جس میں ہے کہ دو فرشتے آپﷺ کو مختلف مقامات پر لے کر پھرتے رہے، آخر میں آپﷺ نے فرمایا: تم نے آج رات مجھ کو خوب گھمایا ہے، اب میں نے جو دیکھا اس کی کیفیت تو بتلاؤ؟ انھوں نے ساری تفصیل بتانے کے بعد کہا کہ وہ عام مسلمانوں کے رہنے کے گھر ہیں۔ اور یہ دوسرا شہیدوں کے رہنے کا گھر ہے اور میں جبرئیل ہوں اور یہ میکائیل ہے، آپ (ﷺ) اپنا سر تو اٹھائیں۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ بادل طرح کی ایک چیز میرے اوپر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپ (ﷺ) کا مقام ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے چھوڑو کہ میں اپنے مکان میں جاؤں ۔ تو انھوں نے کہا ابھی دنیا میں رہنے کی آپ (ﷺ) کی عمر باقی ہے۔ جس کو آپ (ﷺ) نے پورا نہیں کیا، اگر پورا کر چکے ہوتے تو اپنے مکان میں آجاتے۔ [بخاری، کتاب الجنائز، باب:1386]
(یعنی) آپ اس وقت جنت میں اعلیٰ ترین مقام پر عرش کے نیچے ہیں۔
[15] جو فوت ہو چکے وہ دنیا والوں کی پکار نہیں سنتے کیونکہ وہ خالق نہیں مخلوق ہیں، فوت ہو چکے ہیں زندہ نہیں اور ان کو پتا نہیں کب اٹھائے جائیں گے:
[اَفَمَنۡ یَّخۡلُقُ کَمَنۡ لَّا یَخۡلُقُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ]،[ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ]،[ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ]،[ وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ]،[ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]
[تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے، اس کی طرح ہے جو پیدا نہیں کرتا؟ پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے]،[ اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پائو گے۔ بے شک اللہ یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے]،[ اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو]،[ اور وہ لوگ جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں]،[ مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے] [النحل:17 تا 21]
مردہ سے مراد فوت شدہ صالحین ہیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد اٹھایا جانا (جس کا انھیں شعور نہیں) وہ تو جمادات کے بجائے صالحین پر صادق آسکتا ہے۔ ان کو صرف مردہ ہی نہیں کہا بلکہ مزید وضاحت فرمادی کہ وہ زندہ نہیں ہیں ۔ اس سے قبر پرستوں کا بھی واضح رد ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ قبروں میں مدفون مردہ نہیں زندہ ہیں۔ اور ہم زندوں ہی کو پکارتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ موت وارد ہونے کے بعد دنیوی زندگی کسی کو نصیب نہیں ہو سکتی، نہ دنیا سے ان کا کوئی تعلق ہی باقی رہتا ہے۔ پھر ان سے نفع کی اور ثواب و جزا کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔
[16] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس شخص نے میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجا میں اسے سنتا ہوں، اور جس نے دور سے مجھ پر درود بھیجا وہ مجھ کو پہنچایا جاتا ہے۔
[مشكوة، كتاب الصلاة، باب الصلاة على النبيﷺ وفضلها، الفصل الثالث: ح:934]،[شعب الإيمان للبيهقي:2/218، ح:1583]
یہ حدیث موضوع ہے، سند میں محمد بن مروان راوی کذاب ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیں: [مرعاة:2/25 .27،26] موضوع کا مطلب ہے من گھڑت۔ یاد رہے کہ موضوع حدیث پر عمل کرنا بھی حرام ہے، اور اس سے دلیل دینا بھی حرام ہے۔
یہ عجیب دو رخی ہے: کہ احمد رضا خاں صاحب نے رسول اللہﷺ کو اپنے قرآنی ترجمہ مع تفسیر میں بار بار حاضر و ناظر لکھا، دیکھیے:[الأحزاب:45، ف:110]،[الفتح:8،ف12]،[المزمل:15،ف21] لیکن اس تفسیر میں بہت سے ایسے فوائد ہیں جن سے آپ کے حاضر و ناظر ہونے کی واضح تردید ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم اپنی اس کتاب میں بہت سی صحیح روایات بیان کر چکے ہیں۔
دیکھیے: ان کا ترجمہ مع تفسیر [النساء: 43،ف،133] یہاں ذکر ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کا ہار گم ہو گیا ، اس کی تلاش کے لیے رسول اللہﷺ نے وہاں اقامت فرمائی، صبح ہوئی، پھر اونٹ اٹھایا گیا تو اس کے نیچے سے ہار ملا۔
مزید دیکھیے: [النساء:102،105،فوائد:283،288]،[المائدة:33،61،106 ، فوائد:254،252،156،94]،[ الانفال:27،30،70 فوائد129،57،41]،[النور:11، ف:63،15، ف:154]،[الروم:30،ف:2]،[لقمان: 34،ف:68]،[الاحزاب:9،ف:26]،[الفتح:1، ف:2]،[الفتح:18،ف:44]
یہاں سخت کذب بیانی کی گئی ، لکھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھا کہ عثمان رضي اللہ عنہ شہید نہیں ہوئے۔ لیکن حدیث کی معتبر کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ بیعت رضوان صرف اور صرف اس وجہ سے ہوئی کہ رسول اللهﷺ کو حدیبیہ میں یہ اطلاع ملی کہ سیدنا عثمان رضي اللہ عنہ کو مکہ میں مشرکوں نے شہید کر دیا۔ تو آپﷺنے فرمایا: کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلالوں گا، تب بیعت رضوان ہوئی۔ [الحجرات:3 تا 5،ف:5 تا 7]
کی ان آیات سے ان لوگوں کی واضح تردید ہوتی ہے، جو رسول اللہﷺ کو حاضر و ناظر جانتے ہیں۔ اور انھیں اپنی مسجدوں اور شہروں سے پکارتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا: کہ رسول اللہﷺکے حضور اس وقت با ادب بات کرو جب آپﷺاپنے حجرے سے نکل کر تمھارے پاس تشریف لائیں۔ اور جب آپﷺاپنے حجرے کے اندر ہوں تو باہر سے اونچی آواز سے نہ پکارو۔ اس کے خلاف کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اس جگہ قرآن میں بے عقل قرار دیا۔
[المجادلۃ:7 تا 10، ف:24 تا 30] کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ عظیم صفت بیان فرمائی کہ وہ ہر جگہ ناظر ہے۔ اور جو لوگ یہ صفت تمام انبیائے کرام میں مانتے ہیں۔
دیکھیے: [احمد رضا کا ترجمہ النساء41 ، ف:123] وہ انبیائے کرام علیہم السلام کو اس صفت میں اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ احمد رضا خاں صاحب اسی قرآنی ترجمه مع تفسیر میں تسلیم کر چکے ہیں کہ اللہ تعالی اپنی صفات میں یگانہ ہے، کوئی اس کا شبیہ نہیں، کوئی اس کی مثل نہیں، کوئی اس کی نظیر نہیں (یعنی) اس جیسا کو ئی نہیں [دیکھیے ان کا ترجمہ اور تفسیر مراد آبادی:البقرۃ : 163،ف:291]
یہ عجیب دو رخی ہے، یہ بہت بڑا جرم ہے، مخلوق کو خالق کے برابر قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ [لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ] اس جیسا کوئی نہیں۔
پہلے اہل کتاب (یہود و نصاری) نے یہی کچھ کیا، انبیائے کرام علیہم السلام کو اللہ کے برابر قرار دیا، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو قرآن میں کافر اور مشرک قرار دیا ، سوچنے کی ضرورت ہے۔






