حج اور عمرہ ادا کرنے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

کتاب الحج والعمرة

حج اور عمرہ ادا کرنے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ ‎
”اس میں کئی کھلی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہو جاتا ہے امن میں آجاتا ہے، اور اللہ کی رضا کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا ان لوگوں پر فرض ہے، جو وہاں پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں، اور جو انکار کرے تو اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔“
(3-آل عمران:97)
جمہور علماء نے ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ﴾ سے حج کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ حج سن بلوغ کو پہنچ جانے کے بعد زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔
جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے۔ جسے امام احمد اور مسلم نے روایت کیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے اوپر حج فرض کیا ہے۔ اس لیے تم لوگ حج کرو۔
اور حج صاحبِ استطاعت پر فرض ہے۔ حاکم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس آیت کریمہ میں (سبیل) سے کیا مراد ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راستے کا خرچ اور سواری۔ حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔“ (تیسیر الرحمن : 195/1)
قالت عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما من يوم أكثر من أن يعتق الله عزوجل فيه عبدا من النار، من يوم عرفة، وإنه ليدنو ثم يباهي بهم الملائكة فيقول: ما أراد هؤلاء؟
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ اپنے بندے کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہو۔ پھر وہ فرشتوں کے سامنے ان پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“
صحیح مسلم، کتاب الحج، باب فضل يوم عرفة، رقم: 1348.
فائدہ: عرفہ حج کا بنیادی رکن ہے۔ میدانِ عرفہ میں حاجی آٹھ ذوالحجہ کو جمع ہوتے ہیں۔ وہاں خطبہ حج دیا جاتا ہے۔
عن عائشة رضي الله عنه قالت: يا رسول الله! نرى الجهاد أفضل العمل، أفلا نجاهد؟ فقال: لكن أفضل الجهاد حج مبرور
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں، کیا ہم جہاد نہ کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے افضل جہاد حج مبرور ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الحج، باب فضل الحج المبرور، رقم: 1520.
عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وحج البيت، وصوم رمضان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
صحيح بخاري، كتاب الإيمان، باب دعاء كم إيمانكم، رقم: 8 صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان أركان الإسلام، رقم: 16 .
عن أبى هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من حج لله، فلم يرفث، ولم يفسق، رجع كيوم ولدته أمه
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے حج کیا اور اس نے کوئی فحش، بیہودہ بات نہیں کی اور نہ اللہ کی نافرمانی کی، تو وہ اس طرح (پاک ہو کر) لوٹتا ہے، جیسے آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الحج، باب فضل الحج المبرور، رقم: 1521 – صحیح مسلم، کتاب الحج، باب في فضل يوم عرفة، رقم: 1350.