حج یا عمرے کی نیت سے جانے والے کی وفات کا ثواب
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾
”اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی خاطر گھر سے ہجرت کر کے نکل جائے، پھر اس کو موت آجائے اس کا ثواب اللہ کے ذمے ہو چکا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“
(4-النساء:100)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (سواری پر) کھڑا ہوا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا، اس کی گردن ٹوٹ گئی (اور وہ مر گیا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو، اور ان ہی دونوں کپڑوں میں اسے کفن دو۔ نہ اس کا سر ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا۔ یہ قیامت کے دن تلبیہ (لبيك اللهم لبيك) کہتے ہوئے اٹھے گا۔
صحیح بخاری، کتاب الجنائز، رقم: 1267 – صحيح مسلم، کتاب الحج، رقم: 1206/93.