تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ …: } یعنی کسی دشمن یا مرض کی وجہ سے کعبہ تک نہ پہنچ سکو تو جہاں رکاوٹ پیدا ہو وہیں بکری یا اونٹ اور گائے کا حصہ، جو بھی میسر ہو، قربانی کرکے احرام کھول دو، جیسا کہ ۶ھ میں مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حدود حرم سے باہر حدیبیہ ہی میں قربانی کر کے احرام کھول دیا۔
➌ {وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ …:} اس کا عطف {”وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ“} پر ہے اور یہ حکم حالتِ امن کے ساتھ مخصوص ہے، یعنی حالتِ امن میں اس وقت تک سر نہ منڈواؤ (یعنی احرام نہ کھولو) جب تک کہ حج و عمرہ کے اعمال پوری طرح ادا نہ کر لو۔ بخاری (۵۰۸۹) اور مسلم (۱۲۰۷) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس گئے تو انھوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں اور میں بیمار ہوں!“ تو آپ نے فرمایا: ”حج کرو اور شرط کر لو کہ میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہو گی جہاں (اے اللہ!) تو مجھے روک لے گا۔“ معلوم ہوا کہ احرام کے وقت اگر شرط کر لے تو رکاوٹ کی صورت میں اسی جگہ احرام کھول دے اور اس پر کوئی قربانی وغیرہ لازم نہیں۔
➍ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ …:} یعنی احرام باندھنے کے بعد تمھیں کسی بیماری یا عذر کی بنا پر سرمنڈوانے کی ضرورت پیش آ جائے تو سرمنڈوا کر تین چیزوں میں سے ایک بطور فدیہ انجام دو۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمھیں اتنی زیادہ تکلیف ہو گئی ہے، کیا تمھارے پاس کوئی بکری (وغیرہ) ہے؟“ میں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”تو تم تین روزے رکھ لو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو، ہر مسکین کو نصف صاع (یعنی ایک کلو) اور سرمنڈوا دو۔“ [بخاری، التفسیر، باب: «فمنکان منکم مریضًا …» : ۴۵۱۷] علماء کا اتفاق ہے کہ تینوں چیزوں میں سے جو چاہے کر لے، قرآن کے الفاظ بھی یہی ہیں۔
➎ {فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ …:} کوئی شخص صرف عمرہ ادا کرے یا صرف حج تو اس پر قربانی واجب نہیں، اگر قربانی کرے تو ثواب ہے۔ البتہ اگر حج کے مہینوں میں عمرہ اور حج دونوں کرنے کا فائدہ اٹھائے، خواہ میقات سے دونوں کا احرام اکٹھا باندھے جسے حجِ قران کہتے ہیں، یا پہلے صرف عمرے کا احرام باندھے اور عمرہ ادا کر کے احرام کھول دے، پھر آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھے، جسے حج تمتع کہتے ہیں، دونوں صورتوں میں قربانی واجب ہے، جو کم از کم ایک بکری ہے۔ اگر کسی کے پاس طاقت نہ ہو تو اسے دس روزے رکھنا ہوں گے، تین روزے ایام حج یعنی قربانی کے دن سے پہلے اور سات روزے جب اپنے گھر واپس جائے۔ اگر قربانی کے دن سے پہلے نہ رکھ سکے تو ایام تشریق (گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ) میں رکھ لے۔
➏ {تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ:} یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب فرما دیا کہ تین روزے حج میں اور سات جب تم واپس جاؤ تو ظاہر ہے کہ یہ دس ہی ہوتے ہیں، پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ یہ پورے دس ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ”واؤ“سے مراد {”أَوْ“} بھی ہو سکتا تھا کہ حج کے ایام میں تین روزے رکھو، یا پھر واپس جا کر سات روزے رکھو اس لیے وضاحت فرما دی کہ دونوں کام کرنے ہیں اور دس روزے پورے رکھنے ہیں، یہ قرآن کی بلاغت ہے کہ کوئی ابہام نہیں رہنے دیا۔
➐ { ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ:} یعنی جو لوگ مسجد حرام کے رہنے والے نہیں، بلکہ دور سے آنے والے ہیں، چونکہ انھوں نے عمرہ اور حج کے لیے الگ الگ دو سفر کرنے کے بجائے ایک ہی سفر میں دونوں سرانجام دے دیے ہیں، لہٰذا یہ فائدہ اٹھانے پر انھیں قربانی دینا ہو گی، ورنہ دس روزے رکھیں۔ رہے مکہ کے لوگ تو انھیں حج کے مہینوں میں عمرہ و حج کرنے سے چونکہ ایسا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا، اس لیے وہ حج قران کریں یا حج تمتع، ان پر نہ قربانی ہے نہ روزے، وہ ان کے بغیر ہی دونوں عبادتیں سرانجام دے سکتے ہیں۔ امام مالک، امام شافعی رحمھما اللہ اور جمہور کا یہی قول ہے، البتہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول یہ ہے کہ تمتع اور قران صرف باہر سے آنے والوں کے لیے ہے، اہل مکہ کے لیے جائز نہیں۔ مسجد حرام کے رہنے والوں سے مراد مکہ میں رہنے والے اور مکہ سے اتنی مسافت کے اندر رہنے والے ہیں جس پر قصر ہوتا ہے (جو تقریباً اکیس کلو میٹر ہے)۔ بعض نے اس سے صرف حرم مکہ کے اندر رہنے والے مراد لیے ہیں۔ (ابن کثیر، ابن جریر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[262] کعب بن عجرہؓ کہتے ہیں کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ لیکن مشرکین نے ہمیں عمرہ سے روک دیا، میرے لمبے بال تھے اور جوئیں میرے منہ پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا ”کیا سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے عرض کیا ”جی ہاں“ تب یہ آیت نازل ہوئی۔
﴿ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖٓ اَذًي مِّنْ رَّاْسِهٖ﴾
پھر مجھے فرمایا: ”سر منڈاؤ، تین روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا قربانی کرو۔“ [بخاري، كتاب المغازي، باب غزوه حديبيه لقوله تعالىٰ لقد رضي الله..... الآية، مسلم۔ كتاب الحج۔ باب جواز حلق الراس للمحرم اذا كان به اذي .....الخ]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو قربانی نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات اپنے گھر پہنچ کر۔“ [مسلم، كتاب الحج، باب وجوب الدم على المتمتّع]
3۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پورا کرنا یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے احرام باندھو۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کا پورا کرنا یہ ہے کہ ان دونوں کو الگ الگ ادا کرے اور عمرے کو حج کے مہینوں میں نہ کرے اس لیے کہ قرآن شریف میں ہے آیت «اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ» [2۔ البقرہ: 197] حج کے مہینے مقرر ہیں۔ [ایضاً] قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا پورا ہونا نہیں ان سے پوچھا گیا کہ محرم میں عمرہ کرنا کیسا ہے؟ کہا لوگ اسے تو پورا کہتے تھے لیکن اس قول میں شبہ ہے اس لیے کہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور چاروں ذوالقعدہ میں کئے ایک سن ٦ ہجری میں ذوالقعدہ کے مہینے میں، دوسرا ذوالقعدہ سن ٧ ہجری میں عمرۃ القضاء تیسرا ذوالقعدہ سن ٨ ہجری میں عمرۃ الجعرانہ، چوتھا ذوالقعدہ سن ١٠ہجری میں حج کے ساتھ۔ [سنن ابوداود:1993، قال الشيخ الألباني:صحیح] ان عمروں کے سوا ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور کوئی عمرہ نہیں ہوا، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ [صحیح مسلم:1256]
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا تھا کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے جانے کا ارادہ کر لیا تھا لیکن سواری کی وجہ سے ساتھ نہ جا سکیں جیسے کہ بخاری شریف میں یہ واقعہ منقول ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ تو صاف فرماتے ہیں کہ یہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے لیے ہی مخصوص ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ایک اور حدیث میں ہے عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا۔ [مسند احمد:175/4] ابو محمد بن ابی حاتم نے اپنی کتاب میں ایک روایت وارد کی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور زعفران کی خوشبو سے مہک رہا تھا اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے احرام کے بارے میں کیا حکم ہے اس پر یہ آیت اتری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں موجود ہوں فرمایا اپنے زعفرانی کپڑے اتار ڈال اور خوب مل کر غسل کر لو اور جو اپنے حج میں کرتا ہے وہی عمرے میں بھی کر۔ [التمھیدلابن البر:251/2] یہ حدیث غریب ہے اور یہ سیاق عجیب ہے بعض روایتوں میں غسل کا اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں۔ [صحیح بخاری:1536] ایک روایت میں اس کا نام سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ آیا ہے دوسری روایت میں سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ، «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر فرمایا اگر تم گھیر لیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو کر ڈالو مفسرین نے ذکر کیا کہ یہ آیت سن ٦ ہجری میں حدیبیہ کے میدان میں اتری جبکہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ جانے سے روکا تھا اور اسی بارے میں پوری سورۃ الفتح اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو رخصت ملی کہ وہ اپنی قربانیوں کو وہیں ذبح کر ڈالیں چنانچہ ستر اونٹ ذبح کئے گئے سرمنڈوائے گئے اور احرام کھول دئیے گئے اول مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو سن کر لوگ ذرا جھجھکے اور انہیں انتظار تھا کہ شاید کوئی ناسخ حکم اترے یہاں تک کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے، اور اپنا سر منڈوایا پھر بس لوگ آمادہ ہو گئے بعض نے سر منڈوا لیا، بعض نے کچھ بال کتروا لیے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سرمنڈوانے والوں کے لیے یہی دعا کی، تیسری مرتبہ کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کر دی۔ [صحیح بخاری:1727] سات سات شخص ایک ایک اونٹ میں شریک تھے صحابہ کی کل تعداد چودہ سو تھی۔ [صحیح بخاری:1451] حدیبیہ کے میدان میں ٹھہرے ہوئے تھے جو حد حرم سے باہر تھا گو یہ بھی مروی ہے کہ حد حرم کے کنارے پر تھے، «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ سیدنا زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ضباعہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرا ارادہ حج کا ہے لیکن میں بیمار رہتی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج کو چلی جاؤ اور شرط کر لو کہ میرے احرام سے فارغ ہونے کی وہی جگہ ہو گی جہاں میں مرض کی وجہ سے رک جاؤں۔ [صحیح بخاری:5089] اسی حدیث کی بنا پر بعض علماء کرام کا فتویٰ ہے کہ حج میں شرط کرنا ناجائز ہے، امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر یہ حدیث صحیح ہو تو میرا قول بھی یہی ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث باکل صحیح ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد صرف اونٹ اور گائے ہی ہے، غالبًا ان کی دلیل حدیبیہ والا واقعہ ہو گا اس میں کسی صحابی سے بکری کا ذبح کرنا منقول نہیں، گائے اور اونٹ ہی ان بزرگوں نے قربان کئے ہیں، بخاری و مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم سات سات آدمی گائے اور اونٹ میں شریک ہو جائیں، [صحیح مسلم:1318] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی منقول ہے کہ جس جانور کے ذبح کرنے کی وسعت ہو اسے ذبح کر ڈالے، اگر مالدار ہے تو اونٹ اس سے کم حیثیت والا ہے تو گائے ورنہ پھر بکری عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مہنگے سستے داموں پر موقوف ہے، جمہور کے اس قول کی کہ ”بکری کافی ہے“ کی یہ دلیل ہے کہ قرآن نے میسر آسان ہونے کا ذکر فرمایا ہے یعنی کم سے کم وہ چیز جس پر قربانی کا اطلاق ہو سکے اور قربانی کے جانور اونٹ گائے بکریاں اور بھیڑیں ہی ہیں جیسے حبر البحر۔
ترجمان قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بکری کی قربانی کی۔ [صحیح بخاری:1703]
بخاری مسلم میں ہے کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب نے تو احرام کھول ڈالے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو احرام میں ہی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے اپنا سر منڈوا لیا ہے اور اپنی قربانی کے جانور کے گلے میں علامت ڈال دی ہے جب تک یہ ذبح نہ ہو جائے میں احرام نہیں اتار سکتا۔ [صحیح بخاری:1566]
ایک اور روایت میں ہے کہ میں ہنڈیا تلے آگ سلگا رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ حالت دیکھ کر مجھے یہ مسئلہ بتایا، [صحیح بخاری:5665] ایک اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ حدیبیہ کا ہے اور میرے سر پر بڑے بڑے بال تھے جن میں بکثرت جوئیں ہو گئی تھیں، [صحیح بخاری:4190] ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ پھر میں نے سرمنڈوا دیا اور ایک بکری ذبح کر دی، ایک اور حدیث میں ہے [نسک] یعنی قربانی ایک بکری ہے اور روزے اگر رکھے تو تین رکھے اگر صدقہ دے تو ایک فرق [پیمانہ] چھ مسکینوں کے درمیان تقسیم کر دینا ہے، [الدر المنثور للسیوطی:515/1] سیدنا علی رضی اللہ عنہما، محمد بن کعب، علقمہ، ابراہیم، مجاہد، عطا، سدی اور ربیع بن انس رحمہم اللہ کا بھی یہی فتویٰ ہے، ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو تینوں مسئلے بتا کر فرما دیا تھا کہ اس میں سے جس پر تم چاہو عمل کرو کافی ہے، [سنن ابوداود:1861، قال الشيخ الألباني:صحیح] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جہاں دو تین صورتیں لفظ ”او“ کے ساتھ بیان ہوئی ہوں وہاں اختیار ہوتا ہے جسے چاہے کر لے۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب محرم کے سر میں تکلیف ہو تو بال منڈوا دے اور اور ان تین میں سے ایک فدیہ ادا کر دے روزے دس ہیں، صدقہ دس مسکینوں کا کھانا بتلاتے ہیں لیکن یہ اقوال ٹھیک نہیں اس لیے کہ مرفوع حدیث میں آ چکا ہے کہ روزے تین ہیں اور چھ مسکینوں کا کھانا ہے اور ان تینوں صورتوں میں اختیار ہے قربانی کی بکری کر دے خواہ تین روزے رکھ لے خواہ چھ فقیروں کو کھانا کھلا دے، ہاں یہ ترتیب احرام کی حالت میں شکار کرنے والے پر ہے جیسے کہ قرآن کریم کے الفاظ ہیں اور فقہاء کا اجماع ہے لیکن یہاں ترتیب ضروری نہیں اختیار ہے، طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قربانی اور یہ صدقہ مکہ میں ہی کر دے لیکن روزے جہاں چاہے رکھ لے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تمتع والا شخص بھی قربانی کرے، خواہ حج و عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھا ہو یا پہلے عمرے کا احرام باندھا ہو یا اس سے فارغ ہو کر حج کا احرام باندھ لیا ہو، اصل تمتع یہی ہے اور فقہاء کے کلام میں بھی مشہور یہی ہے اور عام تمتع ان دونوں قسموں میں شامل ہے، جیسے کہ اس پر صحیح حدیثیں دلالت کرتی ہیں بعض راوی تو کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حج تمتع کیا تھا بعض کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قارن تھے اور اتنا سب کہتے ہیں کہ قربانی کے جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پس آیت میں یہ حکم ہے کہ تمتع کرنے والا جس قربانی پر قادر ہو وہ کر ڈالے جس کا ادنی درجہ ایک بکری کو قربان کرنا ہے گو گائے کی قربانی بھی کر سکتا ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی جو سب کی سب تمتع والی تھیں۔ [سنن ابوداود:1751، قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا جو شخص قربانی نہ کر سکے وہ تین روزے حج میں رکھ لے اور سات روزے اس وقت رکھ لے جب حج سے لوٹے یہ پورے دس ہو جائیں گے، یعنی قربانی کی طاقت جسے نہ ہو وہ روزے رکھ لے تین تو ایام حج میں اور بقیہ بعد میں، علماء کا فرمان ہے کہ اولیٰ یہ ہے کہ یہ روزے عرفے سے پہلے ذی الحجہ کے دنوں میں رکھ لے حضرت طاؤس مجاہد رحمہ اللہ علیہما وغیرہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اول شوال میں بھی یہ روزے جائز ہیں، شعبی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں روزوں کو اگر عرفہ کے دن کا روزہ شامل کر کے ختم کرے تو بھی اختیار ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ منقول ہے کہ اگر عرفے سے پہلے دو دنوں میں دو روزے رکھ لے اور تیسرا عرفہ کے دن ہو تو بھی جائز ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی فرماتے ہیں ایک روزہ یوم الترویہ سے پہلے ایک یوم الترویہ کا اور ایک عرفہ کا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان بھی یہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:94/4] اگر کسی شخص سے یہ تینوں روزے یا ایک دو چھوٹ گئے ہوں اور ایام تشریق یعنی بقر و عید کے بعد کے تین دن آ جائیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ وہ ان دنوں میں بھی یہ روزے رکھ سکتا ہے [صحیح بخاری:1997] امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی ہے، سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے بھی یہی مروی ہے، عکرمہ، حسن بصری اور عروہ بن زبیر رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔[تفسیر ابن جریر الطبری:98/4]
بخاری شریف کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عمرے کا حج کے ساتھ تمتع کیا اور قربانی دی ذوالحلیفہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ساتھ لے لی تھی عمرے کے لیے پھر حج کی تہلیل کی لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا بعض لوگوں نے تو قربانی ساتھ ہی رکھ لی تھی۔
پھر فرمایا یہ پورے دس ہیں یہ فرمان تاکید کے لیے ہے جیسے عربوں میں کہا جاتا ہے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کانوں سے سنا ہاتھ سے لکھا اور قرآن میں بھی ہے آیت «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [6-الأنعام: 38] نہ کوئی پرندہ جو اپنے دونوں پروں سے اڑتا ہو اور جگہ ہے آیت «وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ» [39۔ العنکبوت: 48] تو اپنے دائیں ہاتھ سے لکھنا نہیں، اور جگہ ہے «وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً» [7-الأعراف: 142] ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو تیس راتوں کا وعدہ دیا اور دس اور اس کے ساتھ پورا کیا اور اس کے رب کا وقت مقررہ چالیس راتوں کو پورا ہوا، پس جیسے ان سب جگہوں میں صرف تاکید ہے ایسے ہی یہ جملہ بھی تاکید کے لیے ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام و کمال کرنے کا حکم ہے اور کاملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ قربانی کے بدلے کافی ہیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد الحرام کے رہنے والے نہ ہوں، اس پر تو اجماع ہے کہ حرم والے تمتع نہیں کر سکتے۔
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مکہ شریف سے ایک دن کی راہ کے فاصلہ پر ہو یا اس کے قریب وہ تو تمتع کر سکتا ہے اور لوگ نہیں کر سکتے، عطاء رحمہ اللہ دو دن بھی فرماتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ اہل حرم اور جو اتنے فاصلے پر ہوں کہ وہاں مکی لوگوں کے لیے نماز قصر کرنا جائز نہ ہو ان سب کے لیے یہی حکم ہے اس لیے کہ یہ سب حاضر کہے جائیں گے ان کے علاوہ سب مسافر، اور ان سب کے لیے حج میں تمتع کرنا جائز ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اس کے احکام بجا لاؤ جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے رک جاؤ اور یقین رکھو کہ اس کے نافرمانوں کو وہ سخت سزا کرتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يستدل بقوله: {وأتموا الحج والعمرة}؛ على أمور: أحدها وجوب الحج والعمرة وفرضيتهما. الثاني وجوب إتمامهما بأركانهما وواجباتهما التي قد دل عليها فعل النبي - صلى الله عليه وسلم -، وقوله: «خذوا عني مناسككم». الثالث أن فيه حجة لمن قال بوجوب العمرة. الرابع أن الحج والعمرة يجب إتمامهما بالشروع فيهما ولو كانا نفلاً. الخامس الأمر بإتقانهما وإحسانهما، وهذا قدر زائد على فعل ما يلزم لهما. السادس فيه الأمر بإخلاصهما {لله} تعالى. السابع أنه لا يخرج المحرم بهما بشيء من الأشياء حتى يكملهما، إلا بما استثناه الله وهو الحصر، فلهذا قال: {فإن أحصرتم}؛ أي: منعتم من الوصول إلى البيت لتكميلهما بمرض أو ضلالة أو عدو، ونحو ذلك من أنواع الحصر الذي هو المنع {فما استيسر من الهدي}؛ أي: فاذبحوا ما استيسر من الهدي وهو سبع بدنة أو سبع بقرة أو شاة يذبحها المحصر، ويحلق، ويحل من إحرامه بسبب الحصر كما فعل النبي - صلى الله عليه وسلم -، وأصحابه لما صدهم المشركون عام الحديبية ، فإن لم يجد الهدي فليصم بدله عشرة أيام كما في المتمتع ثم يحل.
ثم قال تعالى: {ولا تحلقوا رؤوسكم حتى يبلغ الهديُ محله}؛ وهذا من محظورات الإحرام إزالة الشعر بحلق أو غيره لأن المعنى واحد من الرأس أو من البدن، لأن المقصود من ذلك، حصول الشعث والمنع من الترفه بإزالته وهو موجود في بقية الشعر، وقاس كثير من العلماء على إزالة الشعر تقليم الأظفار بجامع الترفه، ويستمر المنع مما ذكر حتى يبلغ الهدي محله وهو يوم النحر، والأفضل أن يكون الحلق بعد النحر كما تدل عليه الآية.
ويستدل بهذه الآية على أن المتمتع إذا ساق الهدي لم يتحلل من عمرته قبل يوم النحر، فإذا طاف وسعى للعمرة أحرم بالحج، ولم يكن له إحلال بسبب سوق الهدي، وإنما منع تبارك وتعالى من ذلك لما فيه من الذل والخضوع لله والانكسار له والتواضع الذي هو عين مصلحة العبد، وليس عليه في ذلك من ضرر؛ فإذا حصل الضرر بأن كان به أذى من مرض ينتفع بحلق رأسه له أو قروح أو قمل ونحو ذلك، فإنه يحل له أن يحلق رأسه، ولكن يكون عليه فدية من صيام ثلاثة أيام، أو إطعام ستة مساكين ، أو نسك ما يجزي في أضحية فهو مخير، والنسك أفضل فالصدقة فالصيام، ومثل هذا، كل ما كان في معنى ذلك من تقليم الأظفار أو تغطية الرأس أو لبس المخيط أو الطيب؛ فإنه يجوز عند الضرورة مع وجوب الفدية المذكورة، لأن القصد من الجميع إزالة ما به يترفه.
ثم قال تعالى: {فإذا أمنتم}؛ أي: بأن قدرتم على البيت من غير مانع عدو وغيره {فمن تمتع بالعمرة إلى الحج}؛ بأن توصل بها إليه، وانتفع بتمتعه بعد الفراغ منها {فما استيسر من الهدي}؛ أي فعليه ما تيسر من الهدي، وهو ما يجزي في أضحية، وهذا دم نسك مقابلة لحصول النسكين له في سفرة واحدة، ولإنعام الله عليه بحصول الانتفاع بالمتعة بعد فراغ العمرة وقبل الشروع في الحج، ومثلها القِران لحصول النسكين له، ويدل مفهوم الآية على أن المفرد للحج ليس عليه هدي، ودلت الآية على جواز بل فضيلة المتعة وعلى جواز فعلها في أشهر الحج {فمن لم يجد}؛ أي الهدي أو ثمنه {فصيام ثلاثة أيام في الحج}؛ أول جوازها من حين الإحرام بالعمرة، وآخرها ثلاثة أيام بعد النحر، أيام رمي الجمار والمبيت بمنى، ولكن الأفضل منها أن يصوم السابع والثامن والتاسع {وسبعة إذا رجعتم}؛ أي: فرغتم من أعمال الحج، فيجوز فعلها في مكة، وفي الطريق، وعند وصوله إلى أهله. ذلك المذكور من وجوب الهدي على المتمتع {لمن لم يكن أهله حاضري المسجد الحرام}؛ بأن كان عنه مسافة قصر فأكثر أو بعيداً عنه عرفا، فهذا الذي يجب عليه الهدي لحصول النسكين له في سفر واحد، وأما من كان أهله من حاضري المسجد الحرام، فليس عليه هدي لعدم الموجب لذلك.
{واتقوا الله}؛ أي: في جميع أموركم بامتثال أوامره واجتناب نواهيه، ومن ذلك امتثالكم لهذه المأمورات واجتناب هذه المحظورات المذكورة في هذه الآية {واعلموا أن الله شديد العقاب}؛ أي: لمن عصاه، وهذا هو الموجب للتقوى، فإن من خاف عقاب الله؛ انكف عما يوجب العقاب، كما أن من رجا ثواب الله؛ عمل لما يوصله إلى الثواب، وأما من لم يخف العقاب، ولم يرج الثواب؛ اقتحم المحارم، وتجرأ على ترك الواجبات.