تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ صفا اور مروہ کعبہ کے قریب دو چھوٹی پہاڑیوں کے نام ہیں۔ ان کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا) ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے حج اور عمرہ کے مناسک (یعنی احکام) میں شامل تھا، مگر زمانۂ جاہلیت میں مشرکین نے حج اور عمرہ کے مناسک میں کئی شرکیہ رسوم شامل کر لی تھیں، حتیٰ کہ انھوں نے صفا اور مروہ پر دو بت نصب کر رکھے تھے۔ ایک کا نام ”اساف“ اور دوسرے کا ”نائلہ“ تھا۔ ان مشرکین میں سے بعض وہ تھے جو جاہلیت میں ان کے درمیان سعی کرتے اور ان بتوں کا استلام بھی کرتے، یعنی انھیں بوسہ بھی دیتے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صفا و مروہ (کی سعی) کو جاہلیت کا کام سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو ہم ان کی سعی سے رک گئے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: «إن الصفا والمروۃ …» : ۴۴۹۶] اور ان مشرکین میں سے بعض وہ تھے جو جاہلیت ہی میں صفا و مروہ کی سعی کے بجائے ”منات“ نامی بت کا طواف کرتے تھے اور مکہ پہنچ کر صفا و مروہ کے طواف کو گناہ سمجھتے تھے، ان کے رد میں بھی یہ آیت نازل ہوئی۔ سعی کے ضروری ہونے پر تو مسلمان متفق تھے، تاہم آیت کے ظاہری الفاظ سے بعض لوگوں کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ سعی نہ بھی کی جائے تو کوئی حرج نہیں، چنانچہ عروہ بن زبیر رحمة اللہ علیہ نے اپنی خالہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے سامنے اس شبہ کا اظہار کیا، تو عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ اگر آیت کا مفہوم یہی ہوتا توقرآن میں یوں ہوتا: {”اَنْ لاَّ يَطَّوَّفَ بِهِمَا“} یعنی طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں۔ پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہانے مزید وضاحت کے لیے فرمایا کہ عرب کے بعض قبائل (ازد، غسان) {” مناة الطاغية “} بت کی پوجا کرتے تھے۔ یہ بت انھوں نے مُشلَّل پہاڑی پر نصب کر رکھا تھا۔ یہ لوگ حج کے لیے جاتے تو اس بت کا نام لے کر لبیک کہتے اور اس کا طواف کرتے۔ مکہ میں پہنچ کر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو گناہ سمجھتے، مسلمان ہونے کے بعد اس بارے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاری، الحج، باب وجوب الصفا والمروۃ …: ۱۶۴۳۔ مسلم: ۱۲۷۷] یعنی ان لوگوں نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو گناہ خیال کیا تھا، اس بنا پر قرآن نے «فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا» کے الفاظ استعمال کیے ہیں، ورنہ جہاں تک خود سعی کا تعلق ہے تو اس کے متعلق عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ یہ سعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقرر فرما دی ہے، اب کسی کو اس کے ترک کرنے کا اختیار نہیں، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [اِسْعَوْا اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَیْکُمُ السَّعْیَ] [أحمد: 421/6، ۴۲۲، ح: ۲۷۴۳۵] ”سعی کرو، یقینًا اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کر دی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا: [لِتَاْخُذُوْا مَنَاسِکَکُمْ] [مسلم، الحج، باب استحباب رمی…: ۱۲۹۷] ”مجھ سے حج کے مناسک (یعنی احکام) سیکھ لو۔“ ان میں سعی بھی داخل ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
نیز اہل مدینہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو اس لیے برا سمجھتے تھے کہ وہ منات کے معتقد تھے اور اساف اور نائلہ کو نہیں مانتے تھے۔ چنانچہ ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا جبکہ میں ابھی کمسن تھا کہ اللہ تعالیٰ کے قول آیت ان الصفا و المروۃ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص صفا اور مروہ کا طواف نہ کرے تب بھی کوئی قباحت نہیں۔ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں۔ اگر یہ مطلب ہوتا تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے۔ ”اگر ان کا طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں۔“ یہ آیت انصار کے حق میں اتری ہے۔ وہ حالت احرام میں منات کا نام پکارتے تھے اور یہ بت قدید کے مقام پر نصب تھا۔ انصار (اسی وجہ سے) صفاء مروہ کا طواف برا سمجھتے تھے۔ جب وہ اسلام لے آئے تو اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري، كتاب التفسير زير آيت مذكور]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح مسلم کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف کا طواف کر چکے تو رکن کو چھو کر باب الصفا سے نکلے اور آیت تلاوت فرما رہے تھے پھر فرمایا میں بھی شروع کروں گا اس سے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شروع کرو اس سے جس سے اللہ نے شروع کیا یعنی صفا سے چل کر مروہ جاؤ۔ [صحیح مسلم:1218] سیدہ حبیبہ بنت تجزاۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ کا طواف کرتے تھے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدرے دوڑ لگا رہے تھے اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تہمبند آپ کے ٹخنوں کے درمیان ادھر اھر ہو رہا تھا اور زبان سے فرماتے جاتے تھے لوگوں دوڑ کر چلو اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی لکھ دی ہے [مسند احمد:421/6:صحیح] اسی کی ہم معنی ایک روایت اور بھی ہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ، ثوری، شعبی، ابن سیرین رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں۔ سیدنا انس ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے عتیبہ کی بھی روایت ہے، ان کی دلیل آیت «فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» [البقرہ: 184] ہے، لیکن پہلا قول ہی زیادہ راجح ہے اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا مروہ کا طواف کیا اور فرمایا احکام حج مجھ سے لو، [صحیح مسلم:1297] پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس حج میں جو کچھ کیا وہ واجب ہو گیا اس کا کرنا ضروری ہے، اگر کوئی کام کسی خاص دلیل سے وجواب سے ہٹ جائے تو اور بات ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمایا اللہ تعالیٰ قدر دان اور علم والا ہے، یعنی تھوڑے سے کام پر بڑا ثواب دیتا ہے اور جزا کی صحیح مقدار کو جانتا ہے نہ تو وہ کسی کے ثواب کو کم کرے نہ کسی پر ذرہ برابر ظلم کرے، ہاں نیکیوں کا ثواب بڑھا کر عطا فرماتا ہے اور اپنے پاس عظیم عنایت فرماتا ہے۔ [4-النساء:40] «فالحمد والشکر للہ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى: {إن الصفا والمروة}؛ وهما معروفان {من شعائر الله}؛ أي: أعلام دينه الظاهرة التي تعبَّد الله بها عباده، وإذا كانا من شعائر الله فقد أمر الله بتعظيم شعائره فقال: {ومن يعظم شعائر الله فإنها من تقوى القلوب}؛ فدل مجموع النصين أنهما من شعائر الله، وأن تعظيم شعائره من تقوى القلوب، والتقوى واجبة على كل مكلف، وذلك يدل على أن السعي بهما فرض لازم للحج والعمرة كما عليه الجمهور، ودلت عليه الأحاديث النبوية، وفعله النبي - صلى الله عليه وسلم -، وقال: «خذوا عني مناسككم».
{فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما}؛ هذا دفع لوهم من توهم وتحرج من المسلمين عن الطواف بينهما لكونهما في الجاهلية تعبد عندهما الأصنام، فنفى تعالى الجناح لدفع هذا الوهم لا لأنه غير لازم، ودل تقييد نفي الجناح فيمن تطوف بهما في الحج والعمرة أنه لا يتطوع بالسعي مفرداً إلا مع انضمامه لحج أو عمرة، بخلاف الطواف بالبيت فإنه يشرع مع العمرة والحج وهو عبادة مفردة.
فأما السعي والوقوف بعرفة ومزدلفة ورمي الجمار فإنها تتبع النسك، فلو فعلت غير تابعة للنسك كانت بدعة، لأن البدعة نوعان: نوع يتعبد لله بعبادة لم يشرعها أصلاً، ونوع يتعبد له بعبادة قد شرعها على صفة مخصوصة فتفعل على غير تلك الصفة وهذا منه.
وقوله: {ومن تطوع}؛ أي: فعل طاعة مخلصاً بها لله تعالى {خيراً}؛ من حج وعمرة وطواف وصلاة وصوم وغير ذلك، فهو خير له؛ فدل هذا على أنه كلما ازداد العبد من طاعة الله ازداد خيره وكماله ودرجته عند الله لزيادة إيمانه، ودل تقييد التطوع بالخير أن من تطوع بالبدع التي لم يشرعها الله ولا رسوله أنه لا يحصل له إلا العناء، وليس بخير له، بل قد يكون شرًّا له إن كان متعمداً عالماً لعدم مشروعية العمل.
{فإن الله شاكر عليم}؛ الشاكر والشكور من أسماء الله تعالى الذي يقبل من عباده اليسير من العمل، ويجازيهم عليه العظيم من الأجر الذي إذا قام عبده بأوامره وامتثل طاعته أعانه على ذلك وأثنى عليه ومدحه وجازاه في قلبه نوراً وإيماناً وسعة وفي بدنه قوة ونشاطاً وفي جميع أحواله زيادة بركة ونماء وفي أعماله زيادة توفيق، ثم بعد ذلك يقدم على الثواب الآجل عند ربه كاملاً موفراً لم تنقصه هذه الأمور، ومن شكره لعبده أن من ترك شيئاً لله أعاضه الله خيراً منه، ومن تقرب منه شبراً تقرب منه ذراعاً، ومن تقرب منه ذراعاً تقرب منه باعاً، ومن أتاه يمشي أتاه هرولة، ومن عامله ربح عليه أضعافاً مضاعفة، ومع أنه شاكر فهو عليم بمن يستحق الثواب الكامل بحسب نيته وإيمانه وتقواه ممن ليس كذلك، عليم بأعمال العباد فلا يضيعها بل يجدونها أوفر ما كانت على حسب نياتهم التي اطلع عليها العليم الحكيم.