عقیقہ کے جانور
عقیقہ میں بھیڑ اور بکری ہی کفایت کرتی ہیں، ان کے علاوہ اونٹ، گائے وغیرہ کا عقیقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عن الغلام شاتان، وعن الجارية واحدة، لا يضركم ذكرانا كن أو إناثا
” (عقیقہ میں) لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، بکریوں کا مذکر یا مؤنث ہونا تمہارے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔“
جامع ترمذی: 1516، سنن ابن ماجه: 3162۔
② سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ:
عق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن والحسين رضي الله عنهما بكبشين بكبشين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو دو مینڈھے ذبح کیے۔“
صحیح: سنن نسائي: 4224۔
فوائد:
احادیثِ الباب دلیل ہیں کہ دو جنسوں بھیڑ اور بکری ہی کا عقیقہ مسنون و مشروع ہے، عقیقہ میں گائے اور اونٹ کفایت نہیں کرتے، نیز قولِ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس مفہوم کی تائید کرتا ہے۔ عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: اے ام المؤمنین!
عق عنه جزورا، فقالت: معاذ الله! ولٰكن ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: شاتان مكافئتان
”اس کی طرف سے ایک اونٹ عقیقہ کریں، اس پر انہوں نے کہا: معاذ اللہ! بلکہ (ہم وہ ذبح کریں گے) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے (لڑکے کی طرف سے) ایک جیسی دو بکریاں۔“
حسن: سنن بیهقی: 301/9۔ عبد الجبار بن ورد صدوق راوی ہے۔
گائے اور اونٹ سے عقیقہ کرنا:
عقیقہ میں گائے اور اونٹ ذبح کرنا ثابت نہیں اور جس روایت میں عقیقہ میں گائے اور اونٹ ذبح کرنے کی مشروعیت ہے، وہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے۔
❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ولد له غلام فليعق من الإبل، أو البقر، أو الغنم
”جس کے ہاں لڑکا پیدا ہو وہ (عقیقہ میں) اونٹ، گائے یا بھیڑ بکری ذبح کرے۔“
موضوع: طبرانی صغیر: 229۔
یہ روایت مسلسل بالضعفاء ہے۔
① امام طبرانی کے استاد ابراہیم احمد بن مرادی واسطی ضعیف ہیں۔
② عبد الملک بن معروف خیاط مجہول ہے۔
③ مسعدہ بن جمع باہلی کذاب ہے۔
④ حریث بن سائب تمیمی اور حسن بصری کی تدلیس ہے.
عقیقہ کے جانور کی شرائط:
عقیقہ کے جانور میں وہ شرائط نہیں، جو قربانی کے جانور میں ہیں، لیکن مبنی بر احتیاط یہی ہے کہ قربانی کی شرائط عقیقہ میں بھی ملحوظ رکھی جائیں، کیونکہ عقیقہ کے جانور کے لیے لفظ شَاةٌ (بکری) اور كَبْشٌ (مینڈھے) کے الفاظ وارد ہوئے ہیں اور لفظ شاہ کا اطلاق اس بکری پر ہوتا ہے جو بچہ جننے کے قابل ہو، اسی طرح کبش کا اطلاق پوری عمر کے جوان مینڈھے پر ہوتا ہے، لہذا بکری اور مینڈھے میں پوری عمر کے جوان جانور ذبح کیے جائیں اور وہ جانور نقائص و عیوب سے بھی پاک ہونے چاہئیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کی جانے والی چیز کا نقائص و عیوب سے پاک ہونا افضل ہے۔