عقیقہ میں لڑکے اور لڑکی کی طرف سے کتنے جانور ذبح کیے جائیں؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

عقیقہ میں کتنے جانور ذبح کیے جائیں؟

عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور ذبح کیا جائے گا، دلائل حسبِ ذیل ہیں۔
① سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرهم، عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو) لڑکے کی طرف سے دو ہم مثل بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۔“
حسن : جامع ترمذی : 1513، سنن ابن ماجه : 3163، مسند أحمد : 31/6 ۔
② سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة
”لڑکے کی طرف سے دو ہم مثل بکریاں اور لڑکی کی جانب سے ایک بکری ذبح کی جائے۔“
صحیح: جامع ترمذى، كتاب الأضاحي، باب الأذان في أذن المولود: 1516، سنن ابن ماجه، كتاب الذبائح، باب العقيقة: 3162۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور عقیقہ کیا جائے گا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ احادیث جمہور علماء کے موقف کی دلیل ہیں کہ لڑکے اور لڑکی کے عقیقہ میں فرق ہے۔
فتح الباري: 733/9۔
شافعی، احمد، ابو ثور، ابو داؤد اور امام ظاہری رحمہ اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔
نيل الأوطار: 142/5۔

لڑکے کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنا؟

درج ذیل روایت سے استدلال کیا جاتا ہے کہ لڑکے کی طرف سے ایک جانور کا عقیقہ بھی جائز ہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھا عقیقہ کیا۔“
صحیح: سنن أبي داؤد، كتاب الضحايا، باب في العقيقة: 2841، طبراني كبير: 11838، سنن بیهقی: 299/2۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے مروی روایت میں سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو دو مینڈھے ذبح کرنے کا بیان ہے۔
چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
عق رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحسن والحسين رضي الله عنهما بكبشين كبشين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عقیقہ میں) حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے دو دو مینڈھے ذبح کیے۔“
صحیح: سنن نسائى، كتاب العقيقة، باب كم يعق عن الجارية: 4224۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل: 379/4 میں اس روایت کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ گزشتہ حدیث، جس میں سیدنا حسن و سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھا ذبح کرنے کا بیان ہے، نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ دلیل نہیں کہ لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں ایک مینڈھا ذبح کرنا مشروع ہے، کیونکہ ابو الشیخ نے ایک دوسری سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، جس میں (دو دو مینڈھے ذبح کرنے) کا بیان ہے۔ نیز عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے بھی یہی الفاظ منقول ہیں، پھر بالفرض ابو داؤد میں مروی روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو اس میں لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو جانور ذبح کرنے کی منصوص روایات کا رد نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوگا کہ لڑکے کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنا بھی جائز ہے۔
فتح البارى: 733/9۔
قاضی شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جس روایت میں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقہ میں ایک ایک مینڈھا ذبح کرنے کا بیان ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جن احادیث میں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کرنے کا بیان ہے، وہ زائد الفاظ پر مشتمل ہیں، لہذا زائد الفاظ پر مشتمل روایت قبول کے اعتبار سے راجح ہے، پھر قول فعل سے راجح ہے۔ (اس اعتبار سے لڑکے کی طرف سے دو جانور ذبح کرنا ہی قرینِ صواب ہے)۔ دلائل کی رو سے امام شوکانی رحمہ اللہ کی بات ہی راجح ہے۔
نيل الأوطار: 142/5۔