صرف قبر مبارک کی زیارت کا حکم :
البتہ وہ شخص جس نے صرف قبر مکرم کی زیارت کے لیے سفر (قبر پرستوں کی طرح) کیا اور مسجد نبوی میں نہ نماز ادا کی اور نہ رسول اللہ کی ذات پاک پر درود و سلام بھیجا۔ بلکہ صرف قبر مکرم کے پاس آیا اور واپس چلا گیا۔ تو ایسا شخص بدعتی اور گمراہ ہے سنت رسول، اجماع صحابہ اور علماء امت کا مخالف ہے ایسے شخص کے بارے میں دو قول ہیں۔
1: ایک یہ کہ وہ فعل حرام کا مرتکب ہوا ہے۔
2: دوسرا قول یہ ہے کہ ایسے شخص کے لیے نہ کوئی سزا ہے اور نہ اجر و ثواب۔
رہی زیارت شرعی جس پر علمائے امت کا عمل ہے تو وہ یہ ہے کہ مسجد نبوی میں نماز پڑھی جائے نماز کے دوران میں اور مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت رسول اللہ پر درود و سلام بھیجا جائے۔ یہ عمل تمام مسلمانوں کے نزدیک باتفاق مسنون ہے۔
ہم نے مناسک اور اپنے فتاویٰ میں اس بحث کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب کوئی شخص قبر مکرم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے دونوں ساتھیوں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر سلام کہے۔ لیکن میں نے اپنے فتاویٰ میں اختلاف کا ذکر نہیں کیا تھا حالانکہ ان میں علماء کا اختلاف ہے۔
بعض علماء کا کہنا ہے کہ زیارت قبور مطلقاً مستحب نہیں۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ مطلقاً مکروہ ہے۔ مکروہ کہنے والوں میں ابراہیم نخعی، شعبی اور محمد بن سیرین رحمہم اللہ کے اسمائے گرامی لائق تذکرہ ہیں۔ ان کا شمار اجلہ تابعین میں ہوتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی منقول ہے۔ لیکن ان کا ایک قول یہ ہے کہ زیارت قبور مباح ہے مستحب نہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کے ایک قول سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ لیکن ان کا اور جمہور علماء کا ظاہر مسلک یہ ہے کہ زیارت شرعیہ مستحب ہے۔ زیارت شرعیہ یہ ہے کہ دعا کی غرض سے مومنین کے قبرستان کی زیارت کے لیے جائے ان کے لیے دعا کرے اور ان پر سلام کہے۔ کفار کی قبروں پر بھی جانا چاہئے کیونکہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
رہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کو تمام مخلوق پر ایسی فوقیت حاصل ہے جس کی مثال نہیں ملتی اور وہ یہ کہ عام قبر کی زیارت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ صاحب قبر کے لیے دعا کی جائے۔ لیکن رسول اللہ کے لیے تو حکم ہے کہ پانچ وقت نماز میں، مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت، اذان کے اختتام پر نیز دعا کرتے وقت رسول اللہ پر درود و سلام بھیجا جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو عبادت گاہ بنانے سے منع فرمایا۔ خاص طور پر آپ نے اپنی قبر کو میلہ کی جگہ بنانے سے سختی سے روکا۔ نیز اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ ”اے اللہ! میری قبر کو وثن (معبود) نہ بننے دینا۔“ لہذا قبر مکرم کے پاس جانے سے ہر شخص کو روک دیا گیا حالانکہ عام قبروں پر جانے کی اجازت ہے۔
مسجد نبوی اور دوسری مساجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے درود و سلام جس کثرت سے پڑھا جاتا ہے یہ ایسی خصوصیت اور فضیلت ہے جو کسی دوسرے نبی کو حاصل نہیں۔ عام قبروں پر جو جائز اعمال ہوتے ہیں قبر مکرم کو ان سے بھی مستغنی کر دیا گیا ہے۔ رہا قبروں کو سجدہ گاہ بنانا ہو تو قبر کے بارے میں حکم ہے کہ اسے سجدہ گاہ نہ بنایا جائے اگرچہ وہاں نمازی اللہ ہی کے لیے نماز پڑھے اور اسی کو پکارے۔ لہذا ایسی صورت میں لوگوں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ قبروں پر جا کر سجدے کریں، خالق کو چھوڑ کر مخلوق کو پکاریں اور مردوں کے نام کی نماز نیاز دیں یا ایسے اعمال بجالائیں جو مشرک بدعتی اور گمراہ فرقے بجالاتے ہیں۔
جو شخص مسجد نبوی میں آتا ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا بلکہ سیدھا قبر مکرم کے پاس جاتا ہے اور وہیں سے بغیر نماز پڑھیں نکل جاتا ہے تو یہ ایسا فعل ہے جس کو امام مالک رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ اسلام نے معیوب قرار دیا ہے اور علمائے امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے اس فعل کو مستحب قرار دیا ہو۔ البتہ اس بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا یہ فعل حرام ہے یا مباح؟
علمائے امت میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے اس فعل کو مستحب کہا ہو بلکہ انہوں نے ایسے سفر کو معیوب قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف قبر پاک کی زیارت ہو اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنا پیش نظر نہ ہو۔ ان کی رائے میں یہ سفر ایسا ہے جس سے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ سلف امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ملتا جس نے اس قسم کا سفر کیا ہو۔ بلکہ صحابہ کرام مسجد نبوی میں زیارت کے لیے جب سفر کر کے مدینہ منورہ پہنچتے تو مسجد نبوی میں نماز پڑھتے اور دوران نماز مسجد میں داخل ہوتے اور مسجد سے نکلتے وقت رسول اللہ پر درود و سلام پڑھتے اور پھر خلیفہ وقت کی خدمت میں حاضر ہو کر اہم امور پر تبادلہ خیال کرتے۔ لیکن قبر مکرم کے قریب جانے کی کوشش نہ کرتے۔ صحابہ کرام سے یہ عمل حد تواتر کو پہنچا ہوا ہے۔ کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ کسی ایک صحابی نے خلفائے راشدین میں سے کسی ایک کے پیچھے نماز پڑھی ہو اور پھر اسی وقت یا کچھ دیر ٹھہر کر یا کسی اور وقت حجرہ مبارک کے پاس بھی گیا ہو۔ باقی حجرہ مبارک میں داخلے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
تمام صحابہ کرام کا یہ طریقہ تھا کہ اگر وہ سفر کر کے مسجد نبوی میں تشریف لاتے تو وہاں پہنچ کر وہی اعمال کرتے جو رسول اللہ نے انہیں سکھلائے اور سمجھائے تھے اور وہ قبر مکرم کے پاس ہرگز نہ جاتے تھے۔ ایسے نفوس قدسیہ کے بارے میں بھلا یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کبھی صرف زیارت قبر مکرم کی نیت سے سفر کیا ہو گا۔ اب جو شخص ایسے سفر کو مستحب سمجھتا ہے اسے چاہئے کہ ائمہ کرام میں سے کسی کا قول بطور دلیل پیش کرے۔ اور اگر بفرض محال کسی امام سے یہ منقول بھی ہو تو اس کا قول سنت نبوی، اجماع صحابہ اور علمائے امت کے خلاف سمجھا جائے گا۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿١١٥﴾
”اور جو شخص رسول اللہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے۔“
(4-النساء:115)
❀ اور رسول اللہ نے فرمایا:
إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوىٰ
”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جس نے جو نیت کی اسے اس کے مطابق بدلہ ملے گا۔“
(صحيح البخاري بخاری کتاب بدء الوحى : باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم (حديث : 1) صحيح مسلم، کتاب الأيمان : باب قوله صلی اللہ علیہ وسلم إنما الاعمال بالنية (حديث 1907)