بچے کا نام باپ رکھے گا یا ماں؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام کے شعبہ تصنیف و تالیف کی شائع کردہ کتاب ناموں کی ڈکشنری اور نومولود کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

نام لقب اور کنیت سے متعلق دیگر احکام و مسائل

◈ نام کے انتخاب میں والدین کا اختلاف:

بچے کا نام تجویز کرنے میں اگر والدین کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو پھر باپ کی رائے کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ نام کا انتخاب کرنا باپ کی ذمہ داری ہے جیسا کہ مذکورہ کئی احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے اور قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ لڑکے کا نسب باپ کی طرف منسوب ہوگا نہ کہ ماں کی طرف چنانچہ اللہ ذوالجلال نے فرمایا:
﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ﴾
”ان (غلاموں) کو ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے آواز دو۔ اللہ کے نزدیک یہی بات انصاف والی اور برحق ہے۔“
(33-الأحزاب:5)
اسی طرح گذشتہ صفحات میں یہ حدیث بیان کی جا چکی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ولد لي الليلة غلام، فسميته باسم أبى إبراهيم
آج رات میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے میں نے اس کا نام اپنے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا ہے۔
صحیح مسلم ،الفضائل، باب رحمته فى ترم الصبيان حديث : 2315 و سنن أبى داود، الجنائز، باب فى البكاء على الميت حديث : 3126
برے القاب: بچے کو برے اور قابل مذمت القاب کے ساتھ پکارنا والدین اور دوسرے لوگوں کے لیے قطعاً جائز نہیں مثلاً ٹھگنا، بونا، بھینگا ، گونگا، بھونرا اور گبریلا وغیرہ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾
ایک دوسرے کو برے القاب کے ساتھ نہ پکارو۔
(49-الحجرات:11)
کیونکہ لڑکے پر برے القاب کی وجہ سے اچھا اثر مرتب نہیں ہوگا اور اس کے دل میں احساس کمتری اور اپنے ماحول سے بغاوت پیدا ہوگی جس کے نتیجے میں معاشرہ بری طرح متاثر ہوگا۔

◈ نبی کریم ﷺ کا نام اور کنیت رکھنا:

علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اپنی اولاد کے لیے منتخب کرنا جائز ہے کیونکہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ولد لرجل منا غلام ، فسماه محمدا، فقال له قومه : لا ندعك تسمى باسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلق بابنه حامله على ظهره، فأتى به النبى صلى الله عليه وسلم فقال : يارسول الله! ولد لي غلام ، فسميته محمدا ، فقال لي قومي : لا ندعك تسمى باسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي، فإنما أنا قاسم ، أقسم بينكم
ہم میں سے ایک آدمی کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اس نے اپنے بچے کا نام محمد رکھ دیا تو اس کی قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تجھے نہیں چھوڑیں گے کیونکہ تو نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اپنے بیٹے کے لیے رکھا ہے۔ اس صحابی نے بیٹے کو اپنی پشت پر اٹھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ نے مجھے لڑکا عطا کیا تو میں نے اس کا نام محمد رکھا۔ اب میری قوم مجھے کہتی ہے کہ ہم تجھے نہیں چھوڑیں گے کیونکہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اپنے بیٹے کے لیے رکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھو کیونکہ میں قاسم (تقسیم کرنے والا) ہوں، اللہ کا دیا ہوا فضل (وحی کا علم) تمھیں تقسیم کرتا ہوں۔

اس حدیث میں کنیت رکھنے سے جو منع کیا گیا ہے، اکثر علماء کے نزدیک اس کا تعلق آپ کی زندگی سے تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابو القاسم کنیت رکھنا بھی جائز ہے۔ جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:
قلت يارسول الله! إن ولد لى من بعدك ولد أسميه باسمك وأكنيه بكنيتك؟ قال : نعم
”میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کی وفات کے بعد میرے ہاں کوئی بیٹا پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام اور کنیت آپ کے نام و کنیت پر رکھ لوں تو آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔
صحيح البخاری، فرض الخمس، باب قوله تعالى ﴿فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ﴾ حديث : 3114 و صحيح مسلم، الآداب، باب النهي عن التكنى. حديث : 2133 واللفظه له
حمید بن زنجو یہ کتاب الادب میں لکھتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اولیس سے سوال کیا کہ امام مالک رحمہ اللہ کا اس شخص کے بارے میں کیا فتویٰ تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کنیت دونوں رکھ لے تو انہوں نے ایک بزرگ کی طرف اشارہ کیا جو ہماری مجلس میں شریک تھا اور کہنے لگے کہ یہ محمد بن مالک ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم رکھی تھی ۔ اور امام مالک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ آپ کا نام و کنیت جمع کرنا صرف آپ کی زندگی میں ممنوع تھا اور اس ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی کو (مثلاً اپنے بیٹے کو) محمد ابوالقاسم کہہ کر آواز دیتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی کہیں موجود ہوتے تو بلا وجہ آپ کو اس کی طرف متوجہ ہونا پڑتا اور اب اس کا خطرہ و اندیشہ موجود نہیں ہے لہذا میرے نزدیک ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اس لیے یہی قول راجح ہے۔
سنن أبي داود، الأدب، باب في الرخصة في الجمع بينهما، حديث : 4967 وجامع الترمذى، الأدب، باب ماجاء في كراهية الجمع حديث : 2843 والحديث صحیح، انظر: صحيح أبي داود:220/3
بہر حال آج کے دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کنیت ابو القاسم دونوں رکھنا جائز ہے کیونکہ منع کرنے والی احادیث کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ تھا تا کہ اس التباس و اشتباہ کے خدشے اور اندیشے سے بچا جا سکے جو بوقت نداور پکار پیش آسکتا تھا۔
✿ والدین متوجہ ہوں: مذکورہ بالا تفصیلات کو مد نظر رکھتے ہوئے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کا نام منتخب کرنے میں پوری احتیاط سے کام لیں اور ایسے ناموں سے اجتناب کریں جو بچے کی قدر و منزلت میں کمی کا باعث بنیں اور جن سے بچے کی عزت نفس مجروح ہو اور ان کی ذہنی سوچ پر کسی قسم کی زد پڑے۔
والدین پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے رہبر و رہنما مقتدی و پیشوا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و عمل کو نمونہ بناتے ہوئے اپنی اولاد کی کنیت رکھیں اور بچپن ہی میں ایسی پیاری اور محبوب کنیت کا انتخاب کریں جو دلوں کو موہ لے، کانوں کو خوشگوار اور پرکشش لگے کہ بچہ شروع ہی سے اپنی شخصیت کو سمجھ لے۔ بچوں کے دلوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ محبت وعقیدت اور پیار والفت کرنے کا جذبہ وشوق پیدا ہو تا کہ جب وہ بڑے ہو جائیں تو اپنے گردو پیش میں ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ ادب و احترام کے ساتھ گفتگو کریں اور ساتھیوں سے نرمی و لطافت کا مظاہرہ کریں۔
لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ عظیم وبے مثال اور لازوال اسلامی منہج وطریق کار کے خوگر بنیں اور اسلامی خطوط پر اپنی اولاد کی تربیت کریں کیونکہ اتباع رسول ہی سے ہمیں ملت اسلامیہ کی عظمت رفتہ اور رفعت گم گشتہ اور فطری مقام و مرتبہ دوبارہ مل سکتا ہے۔
یقیناً یہ کام اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں بشرطیکہ ہم مخلص ہو جائیں۔ اللہ کی رضا کے لیے اپنے آپ کو اسلامی سانچے میں ڈھال کر اسلامی تعلیمات کا لبادہ اوڑھ کر زندگی گزاریں۔ اپنا تعلق و رابطہ قرآن و حدیث کی روشن تعلیمات کے ساتھ استوار رکھیں اور اپنی جھولیاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے پھولوں کے ساتھ بھر لیں۔ ان مہکتے پھولوں کی خوشبو سے اپنے دماغ کو ہر وقت معطر اور تر و تازہ رکھیں اور اپنی طبیعتوں اور مزاجوں کو ان کے مطابق ڈھال کر عمل کی روشنیوں سے کائنات کو منور کر دیں۔ ان شاء اللہ ہم اپنی گم شدہ رفعتوں کو پھر سے حاصل کر لیں گے۔