عقیقہ کا وقت
عقیقہ کا مستحب وقت نومولود کی پیدائش کا ساتواں دن ہے، اس سے پہلے عقیقہ مشروع نہیں اور ساتویں دن کے بعد کیا جانے والا عقیقہ قضا ہوگا، ادا نہیں۔
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل غلام رهينة بعقيقته، تذبح عنه يوم سابعه، ويحلق ويسمى
”ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے (عقیقہ) ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔“
صحیح بخاری: 5472، سنن أبو داؤد، كتاب الضحايا، باب في العقيقة: 2838، جامع ترمذی: 1522، سنن نسائی: 4235، سنن ابن ماجه: 3165۔
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ عقیقہ کا معین وقت پیدائش کا ساتواں دن ہے اور اگر ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کیا جائے تو بے موقع ثابت ہوگا اور ساتویں دن کے بعد عقیقہ کا وقت فوت ہو جائے گا، (اس کے بعد عقیقہ قضا ہوگا) اور اگر ساتویں دن سے قبل نومولود فوت ہو جائے تو عقیقہ ساقط ہو جائے گا۔ امام مالک رحمہ اللہ اسی موقف کے قائل ہیں۔
فتح البارى: 736/9، نيل الأوطار: 141/5۔
یہی موقف رائج ہے، کیونکہ جس روایت میں عقیقہ کے تین دنوں (ساتواں، چودھواں اور اکیسواں) کا بیان ہے، وہ روایت ضعیف ہے۔
❀ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
العقيقة تذبح لسبع، ولأربع عشرة، ولإحدىٰ وعشرين
”ساتویں، چودھویں اور اکیسویں دن عقیقہ ذبح کیا جائے۔“
ضعیف: سنن بیهقی: 303/9، طبرانی کبیر: 5039، طبراني صغير: 724۔ اسماعیل بن مسلم ضعیف اور قتادہ بن دعامہ کی تدلیس ہے۔
جو شخص عقیقہ کرنے کی طاقت نہ رکھے
جو شخص عقیقہ کی طاقت نہ رکھے تو اس کے مالدار رشتہ داروں کو چاہیے کہ اس فریضہ کی ادائیگی میں تعاون کریں اور اگر کوئی آدمی کسی نادار و مفلس کی طرف سے عقیقہ کا فریضہ انجام دے تو یہ عمل جائز و مباح ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ کرنا ثابت ہے، پھر اگر نادار و مفلس آدمی سے تعاون کی کوئی راہ نہ نکلے اور وہ خود بھی عقیقہ کا بوجھ برداشت نہ کر سکے تو وہ معذور ہے اور ترکِ فریضہ پر گناہ گار نہیں ہوگا، دلائل درج ذیل ہیں:
① ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾
”اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔“
البقرة: 286
②مزید فرمایا:
﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾
”تم اللہ سے ڈرو جتنی تم میں طاقت ہے۔“
التغابن: 16
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وإذا أمرتكم بأمر، فأتوا منه ما استطعتم
”جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو حسبِ طاقت اس پر عمل کرو۔“
بخاري، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب الاقتداء بسنن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : 7288، صحیح مسلم، كتاب الحج، باب فرض الحج مرة في العمر: 1337۔
ایک غلط رسم کا رواج:
موجودہ معاشرہ میں مذہبی و غیر مذہبی گھرانوں میں جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بیٹے کی ولادت پر بالخصوص اور بیٹی کی پیدائش پر شاذ و نادر عزیز و اقارب اور یار دوست اصرار کرتے ہیں کہ اس خوشی کے موقع پر منہ میٹھا کراؤ، چنانچہ اس پرمسرت موقع پر امیر و غریب سبھی لوگ منوں مٹھائی تقسیم کرتے ہیں اور قرض بھی اٹھانا پڑے تو قرض لینے سے گریز نہیں کرتے، لیکن عقیقہ کی طرف توجہ دلائی جائے تو اکثریت لیت و لعل اور حیلے بہانے سے اس فریضہ کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یاد رکھیے! ہزاروں کی مٹھائی تقسیم کرنے سے نہ تو شرعی اعتبار سے اس کا کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ فریضہ عقیقہ ساقط ہوتا ہے، لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو عقیقہ کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے اور رشتہ داروں اور یار دوستوں کو اس خوشی میں مدعو کرنا ہے تو عقیقہ کا اہتمام کیا جائے، یوں عقیقہ کا فریضہ بھی ادا ہو جائے گا، تعلق داروں کی دعوت بھی ہو جائے گی اور مٹھائی وغیرہ کی تقسیم سے خرچہ بھی کہیں کم آئے گا۔
(والله الموفق)
کیا آدمی اپنا عقیقہ خود کر سکتا ہے؟
جس شخص کی طرف سے عقیقہ نہ کیا گیا ہو، وہ بلوغت کے بعد از خود عقیقہ کر سکتا ہے، کیونکہ نومولود ہمیشہ گروی چیز کی طرح ہے، تا وقتیکہ اس کا عقیقہ نہ کیا جائے، لہذا خود کو رہن سے نکلوانے کے لیے بڑی عمر کا شخص بھی عقیقہ کر سکتا ہے۔
البتہ جن روایات سے بڑی عمر کے شخص کے عقیقہ کرنے کے جواز کی دلیل لی جاتی ہے، وہ روایات ضعیف ہیں۔
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم عق عن نفسه بعد ما بعث نبيا
”بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی مبعوث ہونے کے بعد اپنی طرف سے عقیقہ کیا۔“
ضعیف: مسند بزار: 1237، مصنف عبد الرزاق: 7960، سنن بیهقی: 300/9، طبراني أوسط: 998۔
مسند بزار، مصنف عبد الرزاق، سنن بیہقی کی سند میں عبد اللہ بن محرر متروک راوی ہے اور طبرانی اوسط میں عبد اللہ بن اشنی ابوالشنی ضعیف راوی ہے۔
② محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
لو أعلم أنه لم يعق عني لعققت عن نفسي
”اگر مجھے معلوم ہو کہ میرا عقیقہ نہیں ہوا تو میں خود اپنا عقیقہ کروں۔“
ضعیف: مصنف ابن أبي شيبة: 530/5۔ حفص بن غیاث کی تدلیس ہے۔