قرآن حکیم کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے کا ثواب قرآن وحدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

كتاب فضائل القرآن

قرآن حکیم کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے کا ثواب

قرآن مقدس اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور سب سے عظمت والی کتاب ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ترین رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب اطہر پر نازل فرمایا۔ اور اس کی تلاوت ، حفظ کرنے ، اس کی تشریح، تفسیر جانے ، سیکھنے، اس کے اوامر کو بجالانے اور نواہی سے اجتناب کا حکم دیا۔
اس سلسلے کی بے شمار آیات ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے تلاوت قرآن کا حکم فرمایا ہے۔ چند ایک ملاحظہ ہوں :
﴿وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا﴾ ‎
”اور آپ پر آپ کے رب کی کتاب کا جو حصہ بذریعہ وحی پہنچ جائے ، اسے لوگوں کو پڑھ کر سنا دیا کیجئے ، اس کے فیصلوں کو کوئی نہیں بدل سکتا، اور آپ اس کے سوا کوئی اور جائے پناہ نہیں پائیں گے ۔“
(18-الكهف:27)
قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اللہ تعالیٰ کے حضور مشرکین مکہ کا شکوہ کریں گے، کہ اے میرے رب! انہی لوگوں نے دنیا میں تیرے قرآن کے ساتھ بے اعتنائی برتی تھی، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت ہوتی تھی تو یہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے، سیٹیاں بجاتے تھے اور مختلف قسم کی آوازیں نکالتے تھے ، تاکہ لوگ غور سے نہ سن سکیں ، اور یہ شکوہ اس لیے ہو گا تاکہ اللہ کا عذاب ان کے لیے بڑھا دیا جائے ۔
ایک دوسرا قول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے یہ شکوہ دنیا میں کیا تھا۔
﴿يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا . لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا .‏ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا﴾ ‎.
”ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ جس نے میرے پاس قرآن آ جانے کے بعد اسے قبول کرنے سے مجھے بہکا دیا، اور شیطان کا کام انسان کو رسوا کرنا ہی ہے۔ رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار ! بے شک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔“
(25-الفرقان:28.30)
ابن القیم رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :
ہجر قرآن، یعنی قرآن کریم کو چھوڑ دینا کئی طرح سے ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص اسے غور سے نہ سنے اور اس پر ایمان نہ لائے ، اس پر عمل نہ کرے، اپنے تمام معاملات میں اسے فیصل نہ مانے ، اس میں غور و فکر نہ کرے، اور اپنے روحانی امراض کا علاج اس کے ذریعہ نہ کرے ۔ حافظ سیوطی اور ابوالسعود وغیرہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں کے لیے دھمکی ہے جو قرآن کریم کی روزانہ تلاوت نہیں کرتے ، کہ قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے خلاف اللہ سے شکوہ کریں گے ۔ (بحواله تيسير الرحمن: 1026/2)
مزید برآں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے قرآن مجید کو تئیس سالوں میں کسی حکمت کے تقاضے کے مطابق نازل کیا ہے، اور اس لیے ایسا کیا ہے، تاکہ آپ بتدریج اس کی تعلیم صحابہ کو دیتے رہیں، اور لوگوں کے احوال و مصالح کے مطابق بتدریج احکام الہی نازل ہوتے جائیں ، اور ان کے دل و دماغ مثبت ہوتے جائیں ۔ چنانچہ فرمایا:
‏ ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنزِيلًا﴾
”اور ہم نے قرآن کے حصے کر دیئے ہیں، تاکہ آپ لوگوں کو اسے آہستہ آہستہ پڑھ کر سنائیں ، اور ہم نے اسے بتدریج اتارا ہے۔“
(17-الإسراء:106)
قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے۔ یہ بات آداب قرآن مجید میں شامل ہے۔ فرمایا:
﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾
اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے ۔
(73-المزمل:4)
عبد الله ابن مسعود رضي الله يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من قرأ حرفا من كتاب الله فله حسنة ، والحسنة بعشر أمثالها لا أقول الم حرف ، ولكن ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف .
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اللہ کی کتاب ( قرآن مجید ) کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔“
سنن ترمذي، أبواب ثواب القرآن، باب ما جاء فيمن قرأ حرفا من القرآن ماله من الأجر، رقم:2910 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
النواس بن سمعان رضى الله عنه يقول: سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول: يؤتى بالقرآن يوم القيامة وأهله الذين كانوا يعملون به ، تقدمه سورة البقرة وآل عمران ،تحاجان عن صاحبهما .
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت والے دن قرآن کو اور ان لوگوں کو جو دنیا میں اس پر عمل کرتے تھے ، ( بارگاہ الہی میں ) پیش کیا جائے گا، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ان کے آگے آگے ہوں گی، اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی ۔ ( یعنی سفارش کریں گی )“
صحیح مسلم کتاب فضائل القرآن، باب فضل قراءة القرآن وسورة البقرة، رقم: 805.
عن أبى أمامة رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إقرؤوا القرآن فإنه يأتى يوم القيامة شفيعا لأصحابه
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن ( کثرت سے ) پڑھا کرو، اس لیے کہ قیامت والے دن یہ اپنے پڑھنے والے ساتھیوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل قراءة القرآن وسورة البقره، رقم: 804.
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة، والذي يقرأ القرآن ويتتعتع فيه ، وهو عليه شاق له أجران .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرآن کریم پڑھنے میں ماہر ہے، تو وہ (قیامت والے دن) بزرگ، نیکو کار فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ اور جو قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اس کے پڑھنے میں اسے مشقت ہوتی ہے، اس کے لیے دو گنا اجر ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب التفسير، تفسير سورة عبس، رقم : 4937 – صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين باب الماهر بالقرآن والذي يتتعتع فيه، رقم: 798.
عن أبى مالك الأشعري رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الطهور شطر الإيمان، والحمد لله تملأ الميزان، وسبحان الله والحمد لله تملآن – أو تملأ – ما بين السموات والأرض ، والصلاة نور ، والصدقة برهان، والصبر ضياء ، والقرآن حجة لك أو عليك ، كل الناس يغدو، فبائع نفسه، فمعتقها أو موبقها .
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”طہارت آدھا ایمان ہے۔ (ایک مرتبہ ) «الحمد لله» کہنا ترازو کو ( نیکیوں سے ) بھر دیتا ہے، اور (ایک مرتبہ ) «سبحان الله والحمد لله» کہنا زمین و آسمان کے درمیان ساری جگہ کو ( نیکیوں سے ) بھر دیتا ہے ۔ نماز دنیا و آخرت میں (چہرے کا ) نور ہے۔ صدقہ روز قیامت (نجات کا) ذریعہ ہے۔ صبر روشنی ہے اور قرآن مجید ( روز قیامت) تیرے حق میں یا تیرے خلاف گواہی دے گا۔ ہر آدمی صبح اٹھتا ہے تو اس کی جان گروی ہوتی ہے جسے یا تو ( نیکی کر کے ) آزاد کرا لیتا ہے یا ( گناہ کر کے ) ہلاک کرتا ہے ۔“
صحیح مسلم کتاب الطهارة، باب فضل الوضوء, رقم: 223 .
قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: إن نبيكم صلى الله عليه وسلم قد قال : إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالٰی اس کتاب کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو سرفراز فرمائے گا اور اس کی وجہ سے دوسروں کو ذلیل کر دے گا۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل من يقوم بالقرآن ويعلمه، رقم: 817.
وہ معزز تھے زمانے میں عامل قرآن ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر
عن عثمان بن عفان رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: خيركم من تعلم القرآن وعلمه .
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے ۔“
صحيح بخاري، كتاب فضائل القرآن، باب خيركم من تعلم القرآن وعلمه، رقم: 5027.
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقال لصاحب القرآن إذا دخل الجنة: اقرأ واصعد ، فيقرأ ويصعد بكل آية درجة حتى يقرأ آخر شيء معه .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حافظ قرآن جب جنت میں داخل ہوگا تو اسے کہا جائے گا: قرآن کی تلاوت کرتا جا اور درجے چڑھتا جا، چنانچہ وہ ہر آیت کے بدلہ میں ایک درجہ بلند ہوتا جائے گا حتی کہ آخری آیت تک پہنچ جائے گا جو اسے یاد ہوگئی اور وہی اس کا درجہ ہوگا۔“
سنن ابن ماجة، كتاب الادب، باب ثواب القرآن، رقم: 3779 – سلسلة الصحيحة، رقم: 2240 .
جو شخص درج ذیل حدیث پاک پر عمل کرے ، روزانہ دو یا تین آیات کو زبانی یاد کرے، ترجمہ و تفسیر سیکھے ، تھوڑے ہی وقت میں وہ دنیا و آخرت کی بھلائیاں اکٹھی کر لے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أيكم يحب أن يعدو كل يوم إلى بطحان أو إلى العقيق فيأتي منه بناقتين كوماوين، فى غير إثم ولا قطع رحم؟ فقلنا: يا رسول الله، نحب ذلك ، قال: أفلا يغدو أحدكم إلى المسجد فيعلم أو يقرأ آيتين من كتاب الله خير له من ناقتين، وثلاث خير له من ثلاث، وأربع خير له من أربع ، من أعدادهن من الإبل .
تم میں سے کون یہ چاہتا ہے کہ ہر روز مقام بطحان، یا وادی عقیق میں جائے اور وہاں سے بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے بڑے بڑے کوہان والی دو اونٹنیاں لے کر آئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم سب یہ چاہتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیوں نہیں جاتا تم میں سے ہر ایک مسجد کی طرف اور سیکھتا یا پڑھتا کتاب اللہ کی دو آیتیں، تو یہ دو آیتیں ان دو اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہیں، اور تین آیتیں تین اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہیں، اور چار آیات چار اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح جتنی آیتیں ہوں گی ، اتنی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب فضل قرأة القرآن، رقم: 803
درس قرآن نہ اگر ہم نے بھلایا ہوتا
دور نہ زمانے نے دکھایا ہوتا
چاٹ لیں تم نے کتب فلسفہ و انگلش کی
ہاتھ بھولے سے ہی قرآن کو لگایا ہوتا