عفو و درگزر کرنے کے فضائل قرآن وحدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

عفو و درگزر کرنے کے فضائل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ.‏ الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ.﴾
اور اپنے رب کی بخشش کی طرف، اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جو لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔ اللہ ان نیک کاروں کو دوست رکھتا ہے۔
(3-آل عمران:133،134)
‏ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ۚ وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
”اے ایمان والو! تمہاری بیویوں اور بچوں میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں خبردار! ان سے ہوشیار رہنا، اور اگر تم معاف کر دو، اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو، تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔“
(64-التغابن:14)
شیخ عبد الرحمن ناصر السعدی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
کیونکہ عمل کی جزا اس کی جنس ہی ہوتی ہے، لہذا جو کوئی معاف کر دے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرتا ہے، جو کوئی درگزر کرے اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرتا ہے، جو کوئی ایسے امر میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ کرتا ہے جو اسے پسند ہے اور اس کے بندوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جسے وہ پسند کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے فائدہ مند ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے بندوں کی محبت کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اور اس کے معاملے کی حفاظت کی ہے۔
(تفسیر السعدی مترجم: 3/2785)
عن حذيفة رضى الله عنه قال: أتي الله تعالى بعبد من عباده آتاه الله مالا ، فقال له: ماذا عملت فى الدنيا؟ قال: ولا يكتمون الله حديثا قال: يا رب! آتيتني مالك ، فكنت أبايع الناس ، وكان من خلقي الجواز، فكنت أتيسر على الموسر ، وأنظر المعسر فقال الله تعالى: أنا أحق بذا منك تجاوزوا عن عبدي
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ، جسے اللہ نے مال و دولت سے نوازا تھا، اللہ کے سامنے پیش کیا گیا، اللہ نے اس سے پوچھا: تو نے دنیا میں کیا کیا؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ”اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے“۔ اس نے جواب دیا: اے رب! تو نے اپنے پاس سے مجھے مال دیا تھا، میں لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کا معاملہ کرتا تھا اور میری عادت درگزر کرنے کی تھی، چنانچہ میں خوش حال پر آسانی کرتا اور تنگ دست کو میں مہلت دے دیتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اس درگزر کرنے کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں۔ میرے اس بندے سے درگزر کرو۔“
صحیح مسلم، کتاب البيوع، باب فضل إنظار المعسر، رقم: 1560/29
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: كان رجل يداين الناس ، وكان يقول لفتاه: إذا أتيت معسرا فتجاوز عنه ، لعل الله أن يتجاوز عنا ، فلقي الله تعالى فتجاوز عنه
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے ملازم سے کہا کرتا تھا: جب تو کسی تنگ دست کے پاس (قرض لینے) آئے تو اس سے نرمی اور درگزر کا معاملہ کیا کر، شاید اللہ تعالیٰ ہم سے بھی درگزر سے کام لے۔ پس جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملا تو اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔“
صحيح بخاري، كتاب البيوع، باب من أنظر معسرا، رقم: 2078 ـ صحيح مسلم، كتاب البيوع، باب فضل إنظار المعسر، رقم: 1562.
عن أبى قتادة رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:من سره أن ينجيه الله من كرب يوم القيامة، فلينفس عن معسر أو يضع عنه
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کی بے چینیوں سے نجات دے، تو اسے چاہیے کہ وہ تنگ دست کو مہلت دے، یا اس کا (قرض) معاف ہی کر دے۔“
صحیح مسلم، كتاب البيوع، باب فضل إنظار المعسر، رقم: 1563.