سوچ سمجھ کر کام کرنے اور نرمی سے پیش آنے کا ثواب صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

سوچ سمجھ کر کام کرنے اور نرمی سے پیش آنے کا ثواب

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأشج عبد القيس :إن فيك لخصلتين يحبهما الله: الحلم والأناة
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشج عبد القیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تیرے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: بردباری اور سنجیدگی۔“
صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الامر بالايمان بالله تعالى، رقم: 17.
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله يحب الرفق فى الأمر كله
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کرنے کو پسند فرماتا ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الأدب، باب الرفق في الامر كله، رقم: 6024.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: من يحرم الرفق ، يحرم الخير
”جو آدمی نرمی کی صفت سے محروم رکھا گیا، وہ ساری خیر سے محروم کیا گیا۔“
صحیح مسلم، كتاب البر والصلة، باب فضل الرفق، رقم: 2592.
عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الله رفيق يحب الرفق ، ويعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف ، وما لا يعطي على ما سواه
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے، نرمی کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ جو کچھ عطا فرماتا ہے وہ سختی اور اس کے علاوہ کسی چیز پر عطا نہیں فرماتا۔“
صحیح مسلم، کتاب البر، باب فضل الرفق، رقم : 2593 .
عن عائشة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: إن الرفق لا يكون فى شيء إلا زانه ، ولا ينزع من شيء إلا شانه
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے زینت دار بنا دیتی ہے، اور جس سے یہ نکال لی جاتی ہے اسے عیب دار کر دیتی ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب البر، باب فضل الرفق، رقم: 2594 .
عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أخبركم بمن يحرم على النار أو بمن تحرم عليه النار؟ على كل قريب هين لين سهل
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کی خبر نہ دوں جو جہنم کی آگ پر، یا جہنم کی آگ ان پر حرام ہے؟ یہ ہر اس شخص پر حرام ہے جو لوگوں کے قریب رہنے والا، آسانی کرنے والا، نرمی کرنے والا اور نرم خو ہے۔“
سنن ترمذي، أبواب صفة يوم القيامة، باب فضل كل قريب هين سهل، رقم: 2488 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 935 .