تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اس آیت {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ “} کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: ” یہ اہلِ مکہ میں سے کچھ لوگ تھے جو مسلمان ہوگئے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا ارادہ کر لیا (یاد رہے کہ ان دنوں ہر مسلمان ہونے والے کے لیے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا) مگر انھیں ان کی بیویوں اور بچوں نے نہیں چھوڑا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انھوں نے دوسرے لوگوں کو دیکھا کہ وہ دین کی سمجھ حاصل کر چکے تھے تو انھوں نے ارادہ کیا کہ اپنے بیوی بچوں کو سزا دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔“ [ترمذي، التفسیر، سورۃ التغابن: ۳۳۱۷ وقال الألباني حسن]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[22] یعنی اگر تم ان میں کچھ غلط رجحانات دیکھو تو ایسا نہ کرو کہ ان پر اندھا دھند سختی شروع کر دو۔ بیویوں کو طلاق دے دو یا بچوں کو گھر سے نکال دو۔ بلکہ ایسا کرو گے تو معاشرتی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں بہتر صورت یہ ہے کہ ان کی اصلاح کی کوشش کرو اور درگزر سے کام لو۔ اور نرمی اور حسن سلوک سے کام لے کر انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرو۔ یہ طریق کار اس لحاظ سے بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود بھی از راہ کرم لوگوں کی خطائیں معاف کرتا رہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو ‘۔
بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَات مِنْ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِير الْمُقَنْطَرَة مِنْ الذَّهَب وَالْفِضَّة وَالْخَيْل الْمُسَوَّمَة وَالْأَنْعَام وَالْحَرْث ذَلِكَ مَتَاع الْحَيَاة الدُّنْيَا وَاَللَّه عِنْده حُسْن الْمَآب» ۱؎ [3-آل عمران:14-15]، یعنی ’ بطور آزمائش کے لوگوں کے لیے دنیوی خواہشات یعنی بیویاں اور اولاد، سونے چاندی کے بڑے بڑے لگے ہوئے ڈھیر، شائستہ گھوڑے، مویشی، کھیتی کی محبت کو زینت دی گئی ہے مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور ہمیشہ رہنے والا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے ‘۔
مسند میں ہے { سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کندہ قبیلے کے وفد میں، میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کچھ اولاد بھی ہے۔“ میں نے کہا: ہاں، اب آتے ہوئے ایک لڑکا ہوا ہے، کاش کہ اس کے بجائے کوئی درندہ ہی ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، ایسا نہ کہو، ان میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور انتقال کر جائیں تو اجر ہے“، پھر فرمایا: ”ہاں ہاں یہی بزدلی اور غم کا سبب بھی بن جاتے ہیں یہ بزدلی اور غم و رنج بھی ہیں۔“ } [مسند احمد:211/5:صحیح اسناد ضعیف]
بزاز میں ہے { اولاد دل کا پھل ہے اور یہ بخل و نامردی اور غمگینی کا باعث بھی ہے }۔ [مسند بزار:1819:ضعیف]
طبرانی میں ہے { تیرا دشمن صرف وہی نہیں جو تیرے مقابلہ میں کفر پر جم کر لڑائی کے لیے آیا کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تیرے لیے باعث نور ہے اور اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو قطعاً جنتی ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”شاید تیرا دشمن تیرا بچہ ہے، جو تیری پیٹھ سے نکلا، پھر تجھ سے دشمنی کرنے لگا، تیرا پورا دشمن تیرا مال ہے، جو تیری ملکیت میں ہے، پھر دشمنی کرتا ہے“ }۔ [طبرانی:3445:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تحذيرٌ من الله للمؤمنين عن الاغترار بالأزواج والأولاد؛ فإنَّ بعضهم عدوٌّ لكم، والعدوُّ هو الذي يريد لك الشرَّ، فوظيفتُك الحذرُ ممَّن هذه صفته ، والنفس مجبولة على محبّة الأزواج والأولاد، فنصح تعالى عباده أن توجب لهم هذه المحبة الانقياد لمطالب الأزواج والأولاد، التي فيها محذورٌ شرعيٌّ ، ورغَّبهم في امتثال أوامره وتقديم مرضاته بما عنده من الأجر العظيم، المشتمل على المطالب العالية والمحابِّ الغالية، وأن يؤثِروا الآخرة على الدُّنيا الفانية المنقضية. ولما كان النهيُ عن طاعة الأزواج والأولاد فيما هو ضررٌ على العبد والتحذير من ذلك قد يوهِمُ الغِلْظَةَ عليهم وعقابهم؛ أمَرَ تعالى بالحذر منهم والصفح عنهم والعفو؛ فإنَّ في ذلك من المصالح ما لا يمكن حصرُه، فقال: {وإن تَعْفوا وتَصْفَحوا وتَغْفِروا فإنَّ الله غفورٌ رحيمٌ}؛ لأنَّ الجزاء من جنس العمل؛ فمن عفا؛ عفا الله عنه، ومن صَفَحَ؛ صفح [اللَّه] عنه، ومن عامَلَ الله [تعالى] فيما يحبُّ، وعامل عباده بما يحبُّون وينفعهم؛ نال محبَّة الله ومحبَّة عباده واستوسق له أمره.