کفار و مشرکین سے براءت کا حکم اور انبیائے کرام کے عملی نمونے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

حکم البـراء عن الکفار والمشرکین

کفار و مشرکین سے براء ت کا حکم

کفاراور مشرکین سے اظہار بیزاری اور نفرت واجب ہے۔

[قَدۡ کَانَتۡ لَکُمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ ۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِہِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۫ کَفَرۡنَا بِکُمۡ وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ]
تم لوگوں کے لئے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف صاف کہہ دیا ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کی تم بندگی کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر، قطعی بیزار ہیں ہم نے تم سے (یعنی تمہارے دین سے) کفر کیا۔ ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت اور بیر پڑ گیا جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لے آؤ۔ (سورۃ الممتحنہ:4)
[وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖۤ اِلَی النَّاسِ یَوۡمَ الۡحَجِّ الۡاَکۡبَرِ اَنَّ اللّٰہَ بَرِیۡٓءٌ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ۬ۙ وَ رَسُوۡلُہٗ ؕ فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّکُمۡ غَیۡرُ مُعۡجِزِی اللّٰہِ ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ]
اور اعلان عام ہے حج اکبر کے دن اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں کے لئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بیزار ہیں مشرکوں سے لہٰذا اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم لوگ منہ پھیرتے ہو تو خوب جان لو کہ تم لوگ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو ایسے کافروں کو عذاب الیم کی خوشخبری دے دو۔ (سورۃ التوبہ:3)

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار اور مشرکین سے براء ت کا حکم دیا۔

[فَاِنۡ عَصَوۡکَ فَقُلۡ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ]
اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو انہیں صاف صاف کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہومیں اس سے قطعی بیزار ہوں۔ (سورۃ الشعراء:216)
[قُلۡ اَیُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ۙ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۟ وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ اَئِنَّکُمۡ لَتَشۡہَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخۡرٰی ؕ قُلۡ لَّاۤ اَشۡہَدُ ۚ قُلۡ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ]
(اے نبی) ان سے پوچھو کہ کس کی گواہی سب سے بڑھ کرہے؟ کہو اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان کہ یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے تمہیں اور جس جس کو پہنچے ان سب کو اللہ سے ڈرا دوں کیا تم واقعی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود ہیں، کہو کہ میں تو اس بات کی گواہی نہیں دیتا، کہو الٰہ تو صرف ایک ہی ہے اور جو شرک تم کرتے ہو میں اس سے قطعی بیزار ہوں۔ (سورۃ الانعام:19)

طاغوت سے بیزاری، نفرت، دشمنی اور لا تعلقی کا اظہار کرنا بھی ہر مسلمان پرواجب ہے۔

[وَ لَقَدۡ بَعَثۡنَا فِیۡ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ۚ]
ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا جس نے امت کو یہ حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ (سورۃ النحل:36)
[اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یَزۡعُمُوۡنَ اَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِکَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَحَاکَمُوۡۤا اِلَی الطَّاغُوۡتِ وَ قَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِہٖ ؕ وَ یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّضِلَّہُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا]
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئیں تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لئے طاغوت کی طرف رجوع کریں حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا شیطان انہیں راہ راست سے دور لے جانا چاہتا ہے۔ (سورۃ النساء:60)

وضاحت:

یاد رہے طاغوت سے مراد وہ ائمہ کفر ہیں جو کافرانہ نظام زبردستی مسلمانوں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی مشرکوں سے بیزاری، نفرت اور دشمنی۔

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِہِمۡ ہٰذَا ۚ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! مشرک پلید ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ لوگ مسجد حرام کے قریب بھی نہ پھٹکنے پائیں۔ (سورۃ التوبہ:28)
[اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ مَاتُوۡا وَ ہُمۡ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ لَعۡنَۃُ اللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ]
بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور کفر کی حالت میں مرے ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔ (سورۃ البقرۃ:161)
[صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ]
کافربہرے، گونگے ہیں اور اندھے ہیں عقل سے کام نہیں لیتے۔ (سورۃ البقرۃ:171)
[اَمۡ تَحۡسَبُ اَنَّ اَکۡثَرَہُمۡ یَسۡمَعُوۡنَ اَوۡ یَعۡقِلُوۡنَ ؕ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ سَبِیۡلًا]
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کافروں کی اکثریت آپ کی بات سنتی یا سمجھتی ہے؟ (ہر گز نہیں) یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر اور گئے گزرے ہیں۔ (سورۃ الفرقان:44)
[اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ]
بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سے سب سے بدتر مخلوق وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اب وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (سورۃ الانفال:55)
[اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اُولٰٓئِکَ فِی الۡاَذَلِّیۡنَ]
وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں وہ لوگ ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں۔ (سورۃ المجادلہ:20)
[قُلۡ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیۡہِ وَ جَعَلَ مِنۡہُمُ الۡقِرَدَۃَ وَ الۡخَنَازِیۡرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوۡتَ ؕ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ]
اے نبی! کہو کیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاؤں جن کا انجام اللہ تعالیٰ کے نزدیک فاسقوں سے بھی بدتر ہونے والا ہے؟ (یہ وہ لوگ ہیں) جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سؤر بنائے گئے جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ بہت ہی برا ہے یہ سیدھی راہ سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ (سورۃ المائدۃ:60)
[تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ ؕ]،[مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُ مَالُہٗ وَ مَا کَسَبَ ؕ]،[ سَیَصۡلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ]،[وَّ امۡرَاَتُہٗ ؕ حَمَّالَۃَ الۡحَطَبِ]،[فِیۡ جِیۡدِہَا حَبۡلٌ مِّنۡ مَّسَدٍ]
ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ (خود بھی) ہلاک ہو، نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ وہ جو اس نے کمایا، عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوگا اور اس کی بیوی جو ایندھن اٹھائے پھرتی ہے اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی۔ (سورۃ اللہب:1تا5)

سیدنا نوح علیہ السلام کی کفار سے بیزاری، نفرت اور دشمنی۔

[وَ قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَی الۡاَرۡضِ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا]،[اِنَّکَ اِنۡ تَذَرۡہُمۡ یُضِلُّوۡا عِبَادَکَ وَ لَا یَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا]،[رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنۡ دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنًا وَّ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا تَبَارًا]
نوح نے دعا کی اے رب! زمین پر کافروں کا ایک گھر بھی باقی نہ چھوڑ، اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کے ہاں جو اولاد ہوگی وہ بھی بدکردار اور سخت کافر ہوگی۔ اے میرے رب! مجھے میرے والدین اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہو ان سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما اور ظالموں کی ہلاکت اور بربادی میں اور بھی زیادتی فرمادے۔ (سورۃ نوح:26-28)

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اپنے باپ اور قوم سے بیزاری، نفرت اور دشمنی۔

[وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ]
اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اس وعدے کی بنا پر تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا مگر جب اس پر یہ بات واضح ہوگئی کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اظہار بیزاری کیا، ابراہیم (علیہ السلام) واقعی بڑا رقیق القلب اور حوصلے والا تھا۔ (سورۃ التوبہ:114)
[وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖۤ اِنَّنِیۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ]،[اِلَّا الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ فَاِنَّہٗ سَیَہۡدِیۡنِ]
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: جن کی تم بندگی کرتے ہو میں ان سے بیزار ہوں میرا تعلق صرف اس ذات سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا وہی میری رہنمائی فرمائے گا۔ (سورۃ الزخرف:26-27)

سیدنا لوط علیہ السلام کی کافر قوم سے بیزاری، نفرت اور بددعا۔

[قَالَ اِنِّیۡ لِعَمَلِکُمۡ مِّنَ الۡقَالِیۡنَ]۔[رَبِّ نَجِّنِیۡ وَ اَہۡلِیۡ مِمَّا یَعۡمَلُوۡنَ]
سیدنا لوط نے فرمایا میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔ اے میرے رب! مجھے اور میرے متعلقین کو ان کے کرتوتوں سے بچا لے۔ (سورۃ الشعراء:168-169)

سیدنا صالح علیہ السلام کی کافر قوم سے بیزاری اور نفرت۔

[فَاَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ فَاَصۡبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمۡ جٰثِمِیۡنَ]،[ فَتَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَ نَصَحۡتُ لَکُمۡ وَ لٰکِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ]
بالآخر ایک زبردست زلزلہ آیا اور کافر اپنے گھروں میں اوندھے پڑھے رہ گئے اور صالح یہ کہتے ہوئے ان کی بستیوں سے نکل گئے کہ اے میری قوم! میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم لوگ اپنے خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ (سورۃ الاعراف:78-79)

سیدناشعیب علیہ السلام کی کافروں سے بیزاری اور نفرت۔

[رَبَّنَا افۡتَحۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَقِّ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡفٰتِحِیۡنَ]
اے ہمارے پروردگار! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمادے۔ بے شک تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔ (سورۃ الاعراف:89)

سیدنا ہود کی شرک سے بیزاری، نفرت اور لا تعلقی۔

[قَالَ اِنِّیۡۤ اُشۡہِدُ اللّٰہَ وَ اشۡہَدُوۡۤا اَنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ]
ہود نے کہا: میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا کہ جو شرک تم کر رہے ہو میں اس سے قطعی بیزار ہوں۔ (سورۃ ہود:54)

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی کفار سے بیزاری، نفرت اور دشمنی۔

[وَ قَالَ مُوۡسٰی رَبَّنَاۤ اِنَّکَ اٰتَیۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَاَہٗ زِیۡنَۃً وَّ اَمۡوَالًا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِکَ ۚ رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤی اَمۡوَالِہِمۡ وَ اشۡدُدۡ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡا حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ]
موسیٰ نے دعامانگی اے ہمارے رب! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب! کیا یہ اس لئے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب! ان کے مال غارت کردے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر لگا دے کہ یہ ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ (سورۃ یونس:88)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کفار اور مشرکین سے بیزاری، نفرت اور دشمنی۔

[عن ابی مسعود رضی اللہ عنہ قال النبی ﷺ: (اللهم أعني عليهم بسبع كسبع يوسف)( اللهم عليك بأبي جهل)]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مشرکین مکہ کے خلاف) بددعا فرمائی: یا اللہ! ان پر سیدنا یوسف علیہ السلام کے سات سالہ قحط کی طرح ان پر سات برس کا قحط بھیج کر میری مدد فرما۔ نیز یہ بھی فرمایا: یا اللہ! ابوجہل کو ہلاک کردے۔ [صحیح البخاری:4774-240]
[عن عمر بن الخطاب، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: لأخرجن اليهود، والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع إلا مسلما]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں یہودو نصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکال باہر کروں گا اور یہاں مسلمانوں کے علاوہ کسی دوسرے (یعنی کافر یامشرک) کو نہیں چھوڑوں گا۔ [صحیح المسلم:1767]
[عن ابن عباس رضي الله عنهما، أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أخرجوا المشركين من جزيرة العرب، وأجيزوا الوفد بنحو ما كنت أجيزهم]
سیدنا عبداللہ بن عباس رَضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال باہر کرنا البتہ (ان کے) وفود کی اسی طرح میزبانی کرنا جس طرح میں کرتا رہا ہوں۔ [صحیح البخاری:3053]

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اہل ایمان سے محبت اور دوستی، کفار سے بیزاری، نفرت اور دشمنی۔

[عن عطاء، أنه سمع عبيد بن عمير، يؤثر عن عمر بن الخطاب، في القنوت: «اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات، والمسلمين والمسلمات، وألف بين قلوبهم، وأصلح ذات بينهم، وانصرهم على عدوك وعدوهم، اللهم العن الكفرة أهل الكتاب الذين يكذبون رسلك، ويقاتلون أولياءك، اللهم خالف بين كلمهم، وزلزل أقدامهم، وأنزل بهم بأسك الذي لا ترده عن القوم المجرمين،]
سیدنا عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عبید بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے قنوت میں یہ دعا مانگی: یا اللہ! مومن مردوں اور مومن عورتوں کو، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے ان کے دلوں میں الفت ڈال دے اور ان کی آپس میں اصلاح فرما دے۔ اپنے اور ان کے (مشترکہ) دشمن کے خلاف ان کی مدد فرما، اے اللہ! اہل کتاب میں سے ان کافروں پر اپنی لعنت فرما جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے جنگ کرتے ہیں، اے اللہ! ان کے معاملات میں اختلاف ڈال دے ان کے قدم ڈگمگا دے اور ان پر ایسا عذاب نازل فرما جسے تو مجرم لوگوں سے پھیرتا نہیں۔ [مختصر قيام الليل، المروزي:321]