سچی محبتِ الٰہی: عقیدۂ الولاء اور صحابہ کی قربانیاں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔

الولاء والبراء

الحمد لله رب العلمين والصلاة والسلام على رسوله الآمين والعاقبة للمتقين
أما بعد!
ولاء عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ "و ، ل ، ی” ہے ولی کا مطلب ہے دوست، مددگار، حلیف، قریبی ، حامی اس سے ولاء کا لفظ بنا ہے جس کا مطلب ہے دوستی، قربت، محبت، نصرت، حمایت جب یہ لفظ ،،ال،، کے اضافہ کے ساتھ ،،الولاء،، کے طور پر استعمال ہوتا ہے تو یہ ایک شرعی اصطلاح بن جاتی ہے جس کا مطلب یہ واضح کرنا ہے کہ مومن آدمی کو کس کس کے ساتھ دوستی اور محبت کرنی چاہئے۔ الولاء کا لفظ شرعی اصطلاح میں اس قدر جامع ہے کہ اردو کے کسی ایک لفظ کے ساتھ اس کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی مشکل ہے ہم نے اس کی ترجمانی کے لئے "دوستی” کا لفظ منتخب کیا ہے لیکن اس دوستی سے مراد وہ سرسری تعلقات نہیں جو عارضی مفادات یا بعض دیگر وقتی اسباب کے تابع ہوتے ہیں بلکہ اس دوستی سے مراد و قلبی تعلق ہے جو ہمیشہ قائم رہے اور جس میں دلی محبت اور وفا کوٹ کوٹ کر بھری ہو سر سے خون کی ندیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں لیکن اس دوستی میں ذرہ برابر فرق نہ آئے۔
عقیدہ الولاء کی رو سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے، اس کے بعد رسول اکرمﷺ سے اور اس کے بعد تمام اہل ایمان سے محبت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔

"براء” بھی عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ "ب، ر، ء” ہے۔ برء کا مطلب ہے وہ بری ہوا، وہ بیزار ہوا، اس نے نفرت کی، اس نے دشمنی کی اس نے قطع تعلق کیا۔ براء کا مطلب ہے بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا یا دشمنی کا اظہار کرنا یا کسی سے قطع تعلق کرنا، جب یہ لفظ "ال” کے اضافہ کے ساتھ "البراء” کے طور پر استعمال ہوتا ہے تو یہ ایک شرعی اصطلاح بن جاتی ہے جس کا مطلب یہ واضح کرنا ہے کہ ایک مومن آدمی کو کس کس سے اظہار بیزاری، اظہار نفرت یا اظہار دشمنی کرنا چاہئے۔ "الولاء” کی طرح "البراء” بھی بڑا جامع لفظ ہے اس کی ترجمانی کے لئے ہم نے ،،دشمنی،، کا لفظ منتخب کیا ہے جو کہ دوستی کا متضاد ہے یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس دشمنی سے مراد وہ دشمنی نہیں جو ہمارے ہاں دو روایتی دشمنوں کے درمیان پائی جاتی ہے یعنی ایک دوسرے کو دیکھتے ہی حملہ آور ہو جانا یا مار نے مرنے پر تل جانا بلکہ اس سے مراد نفرت اور بیزاری کی وہ کیفیت ہے جو ایک مومن آدمی کے دل میں اسلام دشمن کافروں کے خلاف ہمیشہ رہنی چاہئے۔ عقیدہ البراء کی رو سے اسلام دشمن کفار سے شدید نفرت اور بیزاری کا اظہار کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ اور موقع ملنے پر ان کے خلاف جہاد (یعنی قتال) کرنا ان کی قوت توڑنا اور ان سے ظلم کا بدلہ لینا فرض ہے۔

شریعت اسلامیہ میں عقیدہ "الولاء والبراء” بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید کی کوئی ایک سورت بلکہ کوئی ایک صفحہ ایسا نہیں جس میں "الولاء والبراء” کے بارے میں احکام نہ دیئے گئے ہوں یا کسی نہ کسی طرح "الولاء والبراء” کا تذکرہ نہ کیا گیا ہو۔ قرآن مجید کی ابتداء سورہ فاتحہ سے ہوتی ہے جس میں صرف سات آیات ہیں لیکن اس سورۃ میں بھی "ولاء” اور براء“ کا مضمون بھر پور انداز میں موجود ہے۔ اس سورت میں اہل ایمان کو انبیاء، شہداء متقین اور صالحین کے راستہ پر چلنے اور مغضوب اور گمراہ لوگوں کے راستے سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ قرآن مجید کا اختتام سورہ والناس پر ہوتا ہے جو صرف چھ آیات پر مشتمل ایک چھوٹی سی سورت ہے وہ بھی سی وہ ولاء اور براء کے مضمون سے خالی نہیں۔ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے خبیث اور شریر جنوں اور انسانوں سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے۔ اس سے بھی تعجب کی بات یہ ہے قرآن مجید کی مختصر ترین سورت سورہ الکوثر ہے جو صرف تین آیات پر مشتمل ہے اس میں بھی یہ مضمون پوری شدت کے ساتھ موجود ہے جس میں رسول اکرمﷺ کو کوثر کی نعمت عطا فرما کر اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ سے زبر دست محبت کا اظہار فرمایا ہے۔ اور [اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ] فرما کر کفار اور مشرکین سے زبردست نفرت اور دشمنی کا اظہار فرمایا ہے۔
قرآن مجید کی بعض سورتیں تو ساری کی ساری عقیدہ الولاء والبراء پر مشتمل ہیں۔

(مثلا) سورة التوبه، سورة الممتحنه، سورة المنافقون، سورة الكافرون، اور سورة اللهب، جبکہ بعض سورتوں کا بیشتر مضمون اس عقیدہ پر مشتمل ہے۔ مثلاً سورہ الانفال، سورہ العنکبوت، سورہ الفتح، سورہ محمد، سورہ المجادله، سورة الحشر وغیرہ۔ عقیدہ الولاء والبراء کی بنیاد چونکہ کلمہ توحید [لا إله إلا الله] ہے اس لئے بعض اہل علم کے نزدیک عقیدہ توحید کے بعد قرآن مجید میں جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ عقیدہ الولاء والبراء ہی ہے اس سے عقیدہ الولاء والبراء کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں ہم پہلے الولاء کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر رسول اللہﷺ سے محبت اور اس کے بعد اہل ایمان سے محبت کے بارے میں باری باری اپنی گزارشات پیش کریں گے۔

اللہ تعالیٰ سے محبت:

اللہ تعالی انسان کے خالق، مالک اور رازق ہیں اللہ تعالٰی نے انسان کی تخلیق صرف اپنی عبادت اور بندگی کے لئے فرمائی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ] میں نے جن وانس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ (سورہ الذاریات:56) اہل علم کے نزدیک انسان کا کوئی عمل اس وقت تک مکمل عبادت نہیں بن سکتا جب تک اس میں درج ذیل تین اوصاف شامل نہ ہوں ① انتہائی ذلت اور عاجزی ② انتہائی محبت اور خلوص ③ انتہائی خوف اور ڈر۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی خود اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور ذلت اختیار کی جائے، اس کی پکڑ اور عذاب کا خوف محسوس کیا جائے وہاں اس کے ساتھ شدید محبت اور چاہت بھی پیدا کی جائے۔ سورہ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات بیان کرنے کے بعد یہ بات ارشاد فرمائی ہے: [اِنَّہُمۡ کَانُوۡا یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ وَ یَدۡعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕوَ کَانُوۡا لَنَا خٰشِعِیۡنَ] یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں چاہت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی اختیار کرنے والے تھے۔ (سورۃ الانبیاء:90) یعنی انبیاء کرام کی عبادت میں عاجزی اور خوف کے ساتھ محبت اور چاہت بھی شامل تھی، جو کہ عقیدہ الولاء کی بنیاد ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ] وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وہ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ (سورۃ البقرہ:165)

پس اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے ایسی محبت جو رسول اللہﷺ کی محبت سے بھی زیاده ہو، والدین، بیوی، بچوں، اعزہ واقارب اوردیگر تمام دوست احباب کی محبت سے بھی بڑھ کر ہو اللہ تعالی کے بعد جن چیزوں سے محبت ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع ہو۔ رسول اکرم ﷺ سے جیسی اور جتنی محبت مطلوب ہے وہ بھی اس لئے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے والدین، بیوی، بچوں اعزہ واقارب اور دوست احباب سے بھی جتنی جتنی محبت مطلوب ہے وہ بھی اس لئے ہوکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا حکم ہے۔ مال و دولت گھر بار اور دوسری چیزوں سے بھی اتنی ہی محبت ہو جتنی اللہ تعالی نے اجازت دی ہے۔ گو یا انسان کی تمام تر محبت کا اصل مرکز اور سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہونی چاہئے نہ تو رسول اللہﷺ کی محبت اللہ تعالیٰ کے محبت سے بڑھ کر ہو نہ ماں، باپ، بیوی، بچوں اور دیگر اعزہ واقارب کی محبت اللہ کی محبت پر غالب آئے نہ مال و منال گھر بار جاہ ومنصب کی محبت اللہ کی محبت میں رکاوٹ بننے پائے۔ ان احکام کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر احسانات اور انعامات کا بھی یہ تقاضا ہے کہ دل و جان سے اللہ تعالی سے محبت کی جائے۔ غور فرمائیے! کہ وہ ذات جو اس قدر مہربان اور رحیم وکریم ہے کہ اس نے ہمیں دل ودماغ اور آنکھوں جیسی نعمتوں سے نوازا، وہ ذات جس نے ہمارے درمیان سیدنا محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا، نے وہ ذات جس نے ہمیں دین اسلام کی ہدایت دی، وہ ذات جس نے ہمیں بہترین امت بنایا، وہ ذات جو ہماری مسلسل نافرمانیوں کے باوجود ہمیں دن رات روزی عطا فرماتی چلی جارہی ہے، وہ ذات جو ہمارے تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہر اور پوشیدہ، اگلے اور پچھلے گناہوں کا علم ہونے کے باوجود ہمیں اپنی لا تعداد کے نعمتوں سے نوازتی چلی جاتی ہے، وہ ذات جو رات کے اندھیروں اور دن کے اجالوں میں بھی دکھی دلوں کی پکار سنتی ہے اور ان کے دکھ کو دور کرتی ہے، وہ ذات جس نے اپنی رحمت کے ننانوے حصے قیامت کے روز بندوں کو معاف کرنے کے لئے اپنے پاس رکھے ہیں، وہ ذات جس نے اپنے عرش پر یہ کلمہ ثبت فرما رکھا ہے [إن رحمتي سبقت غضبی] ترجمہ: بے شک میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے۔ (بخاری:7422) یقینا وہ ذات سب سے زیادہ اس بات کی حق دار ہے کہ اس کے بندے اس کے ساتھ سب سے بڑھ کر محبت کریں۔

❀ انبیاء کرام کی زندگیاں اللہ تعالیٰ سے محبت کا بہترین نمونہ ہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو تو حید کی دعوت دی باپ نے نہ صرف سنگسار کرنے کی دھمکی دی بلکہ گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے محبت اور دوستی کی راہ میں والدین، اعزہ واقارب، جائیداد، اور گھربار کی محبت کو لمحہ بھر کے لئے بھی رکاوٹ نہ بننے دیا اور باپ سے الگ ہو گئے۔ عقیدہ توحید کے جرم میں جب بادشاہ نے آگ میں ڈالنے کا فیصلہ سنایا تب بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پائے استقلال میں ذرہ برابر لغزش پیدا نہ ہوئی، اسی (80) سال کی عمر میں اللہ تعالی نے اولاد عطا فرمائی اور حکم دیا کہ بیوی بچے کوتن تنہا ہے جائے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ آؤ تب بھی سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی کا حکم بجالانے میں لمحہ بھر کے لئے کا تامل نہ کیا۔ چند سال بعد جب اللہ تعالی نے نو جوان بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دیا تو بیٹے کی محبت اللہ تعالی کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنے میں رکاوٹ نہ بن سکی اور یوں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ثابت کر دیا کہ ان کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی محبت باقی تمام محبتوں پر غالب ہے تب اللہ تعالی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی: [وَ اِبۡرٰہِیۡمَ الَّذِیۡ وَفّٰۤی] ترجمہ: ابراہیم (علیہ السلام) تو وہ ہے جس نے وفا کا حق ادا کر دیا۔ (سورۃ النجم:37)

❀ سیدنا موسی علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے شریعت عطا کرنے کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام قوم کے ستر آدمی اپنے ساتھ لے کر کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے سیدنا موسی علیہ السلام اللہ تعالی کی محبت اور شوق ملاقات سے اس قدر مغلوب ہوئے کہ اپنی قوم کو راستے میں چھوڑ کر جلدی جلدی اکیلے کوہ طور پر پہنچ گئے اللہ تعالیٰ نے پوچھا: [وَ مَاۤ اَعۡجَلَکَ عَنۡ قَوۡمِکَ یٰمُوۡسٰی] اے موسی کونسی چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں عرض کیا [عَجِلۡتُ اِلَیۡکَ رَبِّ لِتَرۡضٰی] اے میرے رب! میں نے جلدی اس لئے کی تا کہ تو خوش ہو جائے۔ (سورۃ طہ:83-84)

❀ سفر طائف کے دوران رسول اکرم ﷺ کو انتہائی غیر متوقع حزن و ملال اور تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑا زخمی حالت میں شہر سے باہر انگوروں کے ایک باغ میں آپﷺ نے پناہ لی دیوار سے ایک ٹیک لگا کر بیٹھ گئے قدرے اطمینان ہوا تو بڑی رقت انگیز دعا مانگی جس کے چند فقرات یہ ہیں یااللہ اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں تو مجھے (اس تکلیف اور دکھ کی) کوئی پروا نہیں تیری عافیت ہی میرا سہارا ہے میں تیرے اس رخ انور کی پناہ چاہتا ہوں جس کے وسیلہ سے تاریکیاں روشن ہوتی ہیں اور دنیا و آخرت کے معاملات درست ہوتے ہیں کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل فرمائے یا تو مجھ سے ناراض ہو مجھے تو صرف تیری رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے۔ حزن و ملال کی شدید کیفیت میں بھی رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے نکلنے والے یہ الفاظ اللہ تعالی کے ساتھ بے پناہ والہانہ محبت کا مظہر ہیں جو صرف آپ ﷺ ہی کے شایان شان ہیں۔

رسول اکرم ﷺ کی یہ تمنا کہ میں چاہتا ہوں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں (بخاری:2797) اللہ تعالی کےساتھ اسی بے پناہ محبت ہی کا اظہار ہے۔

❀ اللہ تعالی کی زیارت اور ملاقات کے شوق کی یہ دعا جو آپ ﷺ نے خود مانگی اور امت کو بھی سکھلائی اللہ تعالی سے آپﷺ کی محبت ہی کا ثبوت ہے۔ [اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ] ترجمہ: یا اللہ میں آپ سے آپ کی زیارت کی لذت کا سوال کرتا ہوں اور آپ سے ملاقات کا شوق مانگتا ہوں کسی ایسی تکلیف کے بغیر جو نقصان پہنچائے اور کسی ایسے فتنے کے بغیر جو گمراہ کرے۔ [سنن نسائی:1306]
❀ اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے آپ ﷺ درج ذیل دعا مانگنے کا اہتمام فرماتے:
[اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ]
یااللہ! میرے دل میں اپنی محبت، میری جان، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ڈال دے۔ (ترمذی:3490)
❀ وفات مبارک سے چند یوم پہلے آپﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی لوگو تم میں سے مجھ پر سب سے زیادہ احسانات سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہیں اگر میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو اپنا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا (بخاری:466) اور پھر وفات مبارک سے قبل جب اللہ تعالی نے آپﷺ کو یہ اختیار دیا کہ چاہیں تو دنیا میں رہ لیں چاہیں تو اپنے اللہ کے پاس آجائیں تو آپﷺ نے دنیا کے بجائے اپنے دوست کے پاس جانے کو تر جیح دی۔ (بخاری:3654)

رسول اکرمﷺ نے اپنی تعلیم و تربیت اور اپنے طرز عمل سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت میں اللہ تعالیٰ کی محبت اس طرح کوٹ کوٹ کر بھر دی کہ کسی بڑے سے بڑے کافر کا ظلم، کوئی بڑی سے بڑی جلاء اور بڑی سے بڑی آزمائش اس محبت میں ذرہ برابر کمی نہ کر سکی۔

چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے مقابلہ کے لئے ایک لشکر بھیجا جس میں سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، اپنے چند ساتھیوں سمیت رومی لشکر کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے اور قیصر روم کے سامنے پیش کئے گئے قیصر نے عیسائیت قبول کرنے کی دعوت دی۔ سیدنا عبد الله رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں جس دین پر ہوں اسے چھوڑنے سے مرنا ہزار درجہ بہتر سمجھتا ہوں۔ قیصر نے حکومت کا لالچ دیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی جواب دیا۔ قیصر نے غضبناک ہو کر کہا میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مختصر سا جواب دیا جو چاہو کرلو۔ قیصر نے ایک بڑی دیگ منگوا کر اس میں تیل ڈالا نیچے آگ جلانے کا حکم دیا اور دو مسلمان قیدیوں کو باری باری اس میں ڈالنے کا حکم دیا، دونوں قیدی تیل میں گرتے ہی اپنے رب سے جاملے۔ قیصر نے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو عیسائیت قبول کرنے کی دعوت دی، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی جواب دیا۔ قیصر نے آپ کو بھی تیل میں ڈالنے کا حکم دیا۔ جلاد سیدنا عبداللہ رضي اللہ عنہ کو تیل میں ڈالنے لگا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے آنسو نکل آئے۔ قیصر سمجھا شاید موت کے سے رورہا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو قیصر نے اپنے پاس بلایا اور عیسائیت کی دعوت دی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم غلط سمجھے ہو میں تو اس لئے رورہا ہوں کہ میرے پاس صرف ایک ہی جان ہے، کاش میرے پاس ہزار جانیں ہوتیں تو ہر جان کو اسی طرح اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔ قیصر یہ جوار سن کر انگشت بدنداں رہ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی استقامت اور جرات سے اس قدر متاثر ہوا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو آپ کے ساتھیوں سمیت رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
[شعب الإيمان للبيهقي: 3/179؛ سير أعلام النبلاء للذهبي: 2/13-14]

سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے توان پرتعذیب کالا متنا ہی سلسلہ شروع ہوگیا ان کا مالک امیہ بن خلف شدید دھوپ میں لٹاکربھاری پتھر اوپر رکھ دیتاتاکہ جنبش نہ کرسکیں اور کہتا ’’جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا انکار کرکے لات اور عزیٰ کی عبادت نہ کروگے اسی طرح پڑے رہوگے۔‘‘ جواب میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ [احد احد] فرماتے۔ اسی جرم میں کفار انہیں رسیوں سے باندھ کر مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے، کبھی تپتی ریت پر اوندھے منہ لٹا کر اوپر پتھروں کا ڈھیر لگادیتے اور کہتے ’’کہو میرا رب لات اور عزیٰ ہے۔‘‘سیدنا بلال رضی اللہ عنہ جواب میں صرف ایک ہی بات فرماتے: [احد احد]
[السيرة النبوية لابن هشام: 1/317-318؛ سنن ابن ماجه، المقدمة، باب فضل سلمان وأبي ذر والمقداد، حديث: 150؛ مسند أحمد: 3822]

آل یاسر بنو مخزوم کے غلام تھے سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا کو ضعیف العمری کے باوجود کفار لوہے کی زرہ پہنا کر تپتی زمین پر لٹا دیتے اور پاس کھڑے ہوکر قہقہے لگاتے اور کہتے’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کامزا چکھو۔‘‘ ان کے شوہر سیدنا یاسر رضی اللہ عنہ اور بیٹے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کی پشت کو آگ سے داغا جاتا، پانی میں غوطے دئیے جاتے،لوہے کی زرہیں پہناکرجلتی ریت پر لٹا دیاجاتا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کا ظلم اور غریب الدیار آل یاسر کا صبروثبات دیکھا تو فرمایا: [فاصبرو یا آل یاسر ان موعدکم الجنۃ] (اے آل یاسر صبر کرنا تمہارے ساتھ جنت کا وعدہ ہے) ایک روز بوڑھی سمیہ رضی اللہ عنہا دن بھرکی سختیاں برداشت کرنے کے بعد شام کو گھر لوٹیں تو بدبخت ابوجہل نے انہیں گالیاں دینی شروع کردیں غصہ ٹھنڈانہ ہواتو اپنا برچھا حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کودے ماراوہ اسی وقت زمین پر گرپڑیں اور جان،جان آفریں کے سپرد کردی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
[الطبقات الكبرى لابن سعد: 3/230؛ المصنف لابن أبي شيبة: 7/270؛ الإصابة لابن حجر: 8/189]
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ مکہ میں ام انمار بنت سباع الخزاعیہ کے غلام تھے۔اسلام لانے کے جرم میں کفار ان کے کپڑے اتروا کر دہکتے انگاروں پر لٹا دیتے اور سینے پر بھاری پتھر کی سل رکھ دیتے اور کبھی کوئی آدمی سینے پر چڑھ کر بیٹھ جاتا تاکہ کروٹ نہ بدل سکیں۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کا جسم انگاروں پہ جلتا رہتا حتی کہ خون اور پیپ جسم سے رس رس کر انگاروں کو ٹھنڈا کرتی، کبھی اُمِّ انمار سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کو لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں لٹا دیتی اور کبھی گرم لوہے سے آپ رضی اللہ عنہ کا سر داغتی۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ مسلسل کفار کے اس بہیمانہ ظلم کا نشانہ بنے رہے حتی کہ آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے۔
[الطبقات الكبرى لابن سعد: 3/164؛ حلية الأولياء لأبي نعيم: 1/143؛ سير أعلام النبلاء للذهبي: 2/323]

عبدالعزیٰ بن نہم یتیم تھے چچانے بڑی محبت اور شفقت سے پرورش کی لیکن جب مسلمان ہوئے تو چچا غضبناک ہوگیا،کہنے لگا’’نیادین چھوڑدو ورنہ تمہاری ساری جائیداد اور مال و متاع چھین لوں گا‘‘ عبدالعزیٰ نے جواب دیا’’ چچا جان!میری جان بھی چلی جائے تواب یہ دین نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ چچانے وہیں کھڑے کھڑے بدن کے کپڑے اتروا لئے صرف ایک لنگوٹی رہنے دی۔ ماں کے پاس آئے تو وہ دیکھ کر بیتاب ہوگئی جسم ڈھانکنے کے لئے چادر دی۔ عبدالعزیٰ نے چادر کے دو ٹکڑے کئے ایک اوپر لیا اور ایک نیچے باندھا اور خالی ہاتھ پیدل مدینہ منورہ کا رُخ کر لیا طویل اور پُر صعوبت سفر طے کرنے کے بعد مدینہ منورہ پہنچے،نماز فجر کے بعد دربارِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا’’ کون ہو؟‘‘ عرض کیا’’ عبدالعزیٰ ہوں، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گھر بار چھوڑ کر آیا ہوں اسلام لانا چاہتاہوں۔‘‘ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ آج کے بعد تم عبدالعزیٰ نہیں عبداللہ ہو اور تمہارا لقب ذوالبجادین (دو چادروں والا) ہے آئندہ تم ہمارے قریب ہی رہو گے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اصحاب صفہ میں شامل ہو کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں دنیا کی ساری محبتوں سے بے نیاز ہوگئے۔

[السيرة النبوية لابن إسحاق: ص 293؛ أُسد الغابة لابن الأثير: 3/211؛ الإصابة في تمييز الصحابة لابن حجر: 4/140]

جنگ احد میں شریک ہونے سے پہلے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر اپنی اپنی دعا مانگی۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی ’’یااللہ! جب میرا دشمن سے مقابلہ ہو تو میرا سامنا کسی بہادر جنگجو کافر سے ہو ہم دونوں زور آزمائی کریں حتی کہ مجھے دشمن پر غلبہ حاصل ہو اور میں اسے قتل کردوں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی اس دعا پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آمین کہی۔ اس کے بعد سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ دعا مانگی یااللہ!میرا مقابلہ ایسے کافر سے ہو جو بہت بہادر تجربہ کار اور جنگجو ہو میں صرف آپ کو راضی کرنے کے لئے اس سے لڑوں بالآخر وہ مجھ پر قابو پالے اور میری ناک، کان وغیرہ کاٹ ڈالے قیامت کے دن جب میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو آپ پوچھیں ’’عبداللہ! تیرے ناک اور کان کیوں کاٹے گئے؟ میں عرض کروں ’’یا اللہ!تیری رضا کے لئے۔‘‘ آپ جواب دیں ’’ہاں! عبداللہ نے سچ کہا۔‘‘ دونوں حضرات کی دعا قبول ہوئی، سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شہید ہوئے، کفار نے ان کے کان، ناک کاٹ کر درخت سے لٹکا دئیے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جنگ کے اختتام پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نعش دیکھی تو کہنے لگے ’’واللہ! عبداللہ رضی اللہ عنہ کی دعا میری دعا سے اچھی تھی۔ [الاستيعاب لابن عبد البر: 3/879؛ أُسد الغابة لابن الأثير: 3/196]

❀ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کا مطالعہ کیاجائے تو یوں نظر آتاہے کہ ہر صحابی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت اوراللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ غزوہ احد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی زید بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زرہ کے بغیر لڑتے دیکھا تو انہیں زرہ پہنانا چاہی سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا’’ عمر! زرہ تو وہ پہنے جسے زندگی عزیز ہو میں تو اپنی زندگی اللہ کے ہاتھ بیچ چکا ہوں۔

[الاستيعاب في معرفة الأصحاب لابن عبد البر: 2/552؛ سير أعلام النبلاء للذهبي: 1/298]

❀ سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نابینا تھے اللہ کی راہ میں جان دینے کا شوق اس قدر تھا کہ فرماتے ’’میں معذور ہوں اگرمجھے لشکر اسلام کا جھنڈادے دیا جائے تو ایک ہی جگہ جم کر کھڑا رہوں گا اور جھنڈے کو سرنگوں نہیں ہونے دوں گا۔‘‘جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے۔وقتِ شہادت لشکر اسلام کا جھنڈا دونوں بازوؤں کی مضبوط گرفت میں تھا۔ [سیر أعلام النبلاء للذهبی: 364/1-365]

❀ سیدنا عمروبن جموح رضی اللہ عنہ لنگڑا کر چلتے تھے بیٹوں نے غزوہ احد میں شریک ہونے سے زبردستی روک دیاتو کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے عرض کیا’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!میرے لڑکے مجھے جہاد پر جانے سے منع کررہے ہیں لیکن اللہ کی قسم مجھے امید ہے میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں گا اور لنگڑاتے ہوئے جنت میں داخل ہوں گا، اللہ کے لئے مجھے اپنے ساتھ جہاد پر جانے کی اجازت مرحمت فرمادیں۔‘‘رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اجازت دے دی اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں دادشجاعت دیتے ہوئے شہید ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان جنگ میں ان کی لاش دیکھی تو فرمایا’’اللہ کے بعض بندے قسم کھاتے ہیں تو اللہ انہیں پورا فرمادیتاہے۔ [مسند أحمد: 22553؛ صحیح ابن حبان: 7024]

❀ قرآن مجید کی آیت: [مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقۡرِضُ اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَ لَہٗۤ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ] ترجمہ: کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے اچھا قرض تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس کرے اور اس کے لئے بہترین اجرہے۔ (سورۃ الحدید:11) نازل ہوئی تو سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عرض کیا’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اللہ ہم سے قرض مانگتے ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ’’ہاں!‘‘ سیدنا ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے عرض کیا’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنا باغ اللہ کو قرض دیتا ہوں۔ اس باغ میں ابو دحداح رضی اللہ عنہ کا رہائشی مکان بھی تھا، گھر سے باہر کھڑے ہو کر بیوی کو آواز دی، اُمِّ دحداح رضی اللہ عنہا گھر سے نکل آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔ بیوی بھی اللہ سے محبت کرنے والی تھی کہنے لگی’’ ابودحداح رضی اللہ عنہ! تم  نے نفع کا سودا کیا ہے۔ بال بچوں کو لے کر فوراً گھر سے باہر نکل آئیں۔ [مسند البزار: 2033؛ مسند أبي يعلى: 4986؛ شعب الإيمان للبيهقي: 3452]

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے دین کے لئے جان ومال کی قربانیاں دینا،گھربار اور وطن چھوڑنا، مصائب وآلام اور رنج والم برداشت کرنا،کفار کے ظلم وستم اور اذیتیں برداشت کرنا، اللہ کی محبت کے بغیر ممکن ہی نہیں اللہ تعالیٰ سے یہی محبت ’’عقیدہ الولاء‘‘ کی بنیاد ہے، جس پر ایمان لانا اور عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ آخر میں ہم اپنے قارئین کی توجہ اس بات کی طرف دلانا چاہیں گے کہ ہم سب اللہ تعالیٰ سے محبت کے دعویدار ہیں سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے اس دعوے کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم اپنے اس دعوے میں کہاں تک سچے ہیں اگر ہم اللہ کے دین کے لئے کوئی قربانی دے رہے ہیں یا مشقت اٹھا رہے ہیں تو پھر کسی نہ کسی درجہ میں ہم یقینا اپنے دعوے میں سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کی امید رکھ سکتے ہیں، لیکن اگر اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ محض زبانی زبانی ہے اور عملاً اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ہمیں اپنی جان، اپنا مال، اپنا منصب، اپنا وطن، اپنے آرام دہ گھر، اپنے ماں باپ، اور اپنے بیوی بچے پیارے ہیں تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون نہیں بھولنا چاہئے کہ جو لوگ اللہ سے محبت نہیں کرتے اللہ تعالیٰ انہیں مٹا کر ان کی جگہ ایسے لوگوں کو لے آتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے: [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ یَّرۡتَدَّ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَسَوۡفَ یَاۡتِی اللّٰہُ بِقَوۡمٍ یُّحِبُّہُمۡ وَ یُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ۫ یُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ] ترجمہ: اے لوگو!جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے ایمان سے پھر جاتاہے (تو پھر جائے) اللہ بہت سے لوگ ایسے پیدا فرمادے گا جن سے اللہ محبت فرمائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہوں گے جو اہل ایمان کے لئے نرم اور کفار کے لئے سخت ہوں گے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہوں گے اور کسی کی ملامت سے نہ ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتاہے وہ بڑی وسعت والا اور علم والا ہے۔ (سورۃ المائدۃ:54)