پردہ پوشی، بیوہ و مسکین کی مدد، سخاوت اور لوگوں کا شکریہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

مسلمان کی پردہ پوشی کرنا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يستر عبد عبدا فى الدنيا إلا ستره الله يوم القيامة
”جو بندہ کسی بندے کی دنیا میں ستر پوشی کرتا ہے تو قیامت کے دن اللہ اس کی پردہ پوشی کرے گا“۔
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 2590۔
② سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من رأى عورة فسترها كان كمن أحيا موءودة
”جس نے کوئی خامی دیکھی اور اس کی پردہ پوشی کی تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے زندہ درگور ہونے والی بچی کو زندگی بخش دی۔“
ابو داؤد، کتاب الأدب 4891، روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں ابوالہیثم کثیر مولی عقبہ مجہول ہے، دیکھئے التهذیب 12/ 270، المیزان 583/4۔

بیوہ اور مسکین کے لیے تگ و دو کرنے کی فضیلت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الساعي على الأرملة والمسكين كالمجاهد فى سبيل الله وأحسبه قال: وكالقائم لا يفتر، وكالصائم لا يفطر
”بیوہ اور مسکین کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے“۔
راوی بیان کرتے ہیں، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس قیام کرنے والے کی طرح ہے جو تھکتا نہ ہو اور وہ اس روزہ دار کی طرح جو افطار نہ کرتا ہو۔“
بخاری، کتاب الأدب 6007، مسلم، کتاب الزہد والرقائق 2982۔
② سیدنا صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع روایت بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الساعي على الأرملة والمسكين كالمجاهد فى سبيل الله، أو كالذي يصوم النهار ويقوم الليل
”بیوہ اور مسکین کے لیے تگ و دو کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا اس شخص کی مانند ہے جو دن کے وقت روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے۔“
بخاری، کتاب الأدب 6006، مسلم، کتاب الأدب 41/ 2982۔

سخاوت کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
السخي قريب من الله قريب من الناس قريب من الجنة بعيد من النار، والبخيل بعيد من الله بعيد من الناس بعيد من الجنة قريب من النار، وجاهل سخي أحب إلى الله من عابد بخيل
”سخی اللہ، لوگوں اور جنت کے قریب ہوتا ہے اور آگ (جہنم) سے دور ہوتا ہے۔ جبکہ بخیل شخص اللہ، لوگوں اور جنت سے بعید ہوتا ہے اور جہنم کے قریب ہوتا ہے۔ جاہل سخی عابد بخیل کی نسبت اللہ کا زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہوتا ہے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 1961، روایت نہایت ضعیف ہے، یہ روایت سعید بن محمد الوراق عمن یحیی بن سعید عن الاعرج عن ابی ہریرہ کی سند سے مروی ہے، وراق متروک الحدیث ہے اور وہ اس حدیث کی روایت میں اضطراب کا شکار ہے۔

لوگوں کا شکریہ ادا کرنا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من لم يشكر الناس لم يشكر الله
”جس نے لوگوں کا شکر ادا نہ کیا، اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1954.
اور ایک دوسری روایت میں ہے:
لا يشكر الله من لم يشكر الناس
”جس نے لوگوں کا شکر ادا نہ کیا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا“۔
ابو داؤد، کتاب الأدب 4811، روایت صحیح ہے۔