صاحب قبر سے استغاثہ شرک ہے اور مشرکانہ استدلال کی تردید

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

صاحب قبر سے استغاثہ شرک اور بین حرام ہے

اگر کوئی شخص میت کے قریب جا کر اسے پکارے یا استغاثہ فریاد کرے تو یہ فعل شرک ہوگا۔ ائمہ اسلام کا اس پر اتفاق ہے۔ نیز میت پر بین اور نوحہ بھی حرام ہے البتہ یہ استفادہ سے ہلکا جرم ہوگا۔

نادان دوستوں کے طفلانہ استدلال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنت البقیع اور شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لے جانے سے اگر کوئی شخص اپنے مشرکانہ اعمال کے لیے دلیل اخذ کرنے کی مذموم کوشش کرے تو اس کا یہ استدلال اس شخص سے بھی زیادہ گمراہ کن ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ سے دلیل لے کر کہتا ہے کہ میت کو پکارنا، اس پر بین اور توجہ کرنا اور اس کو اللہ کا شریک بنانا جائز ہے جیسا کہ اکثر جاہل کرتے ہیں اور بطور استدلال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پیش کرتے ہیں جو سراسر اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت پر مبنی تھا جو عمل کرنے والے کے لیے باعث اجر اور میت کے لیے فائدہ مند اور مزید برآں اللہ کی رضا پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ اس خالص عمل کو سامنے رکھ کر اللہ کے ساتھ شرک کر کے میت کے لیے ایذا رسانی کا سبب بنتے ہیں۔ اور اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں۔ جیسے آج کل مشرکین اور اہل بدعت کا شیوہ ہے جو نہ تو اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہی کو تسلیم کرتے ہیں۔