مضمون کے اہم نکات
سیدنا حسن و حسین رضي اللہ عنہما
سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی پیاری دختر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جگر پارے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بازو ہیں۔ ان شہزادوں نے آقا کریم ﷺ کی محبتوں سے براہ راست حصّہ پایا ہے، پھر اصحابِ رسول ﷺ کے ہاں بھی معتبر ہوئے۔
رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے:
هما ريحانتاي من الدنيا.
(حسن اور حسین رضی اللہ عنہما) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔ (صحیح البخاری: 5994)
کبھی فرماتے:
اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔ (صحیح البخاری: 3747)
کبھی ان الفاظ میں محبت کے پھول بکھیرتے:
اے اللہ! میں ان پر رحم کرتا ہوں، تو بھی ان پر رحم فرما۔ (صحیح البخاری: 6003)
آپ ﷺ سجدے میں ہوتے، تو حسن و حسین رضی اللہ عنہما آپ کے کندھوں پر سوار ہو جاتے ہیں، کیا خوب سواری ہے اور کیا خوب سوار ہیں، نوابی اسی کا نام ہے، سردار ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔
سیدنا شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في إحدى صلاتي العشاء وهو حامل حسنا أو حسينا فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فوضعه ، ثم كبر للصلاة فصلى فسجد بين ظهراني صلاته سجدة أطالها قال: أبي فرفعت رأسي وإذا الصبي على ظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ساجد فرجعت إلى سجودي فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال الناس: يا رسول الله إنك سجدت بين ظهراني صلاتك سجدة أطلتها حتى ظننا أنه قد حدث أمر أو أنه يوحى إليك قال: كل ذلك لم يكن ولكن ابني ارتحلني فكرهت أن أعجله حتى يقضي حاجته.
رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ مغرب یا عشاء کی نماز کے لیے تشریف لائے تو آپ ﷺ نے سیدنا حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو اٹھا رکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ (نماز پڑھانے کے لیے) آگے بڑھے اور بچے کو نیچے بٹھا دیا۔ پھر نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی اور نماز شروع کر دی۔ نماز کے دوران میں آپ نے ایک سجدہ بہت لمبا کر دیا۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو بچہ رسول اللہ ﷺ کی پشت پر بیٹھا تھا اور آپ سجدے میں تھے۔ میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری فرمائی تو لوگوں نے گزارش کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے دوران میں ایک سجدہ اس قدر لمبا کیا کہ ہم نے سمجھا کوئی حادثہ ہوگیا ہے یا آپ کو وحی آنے لگی ہے۔ آپ نے فرمایا: ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ میرا بیٹا میری پشت پر سوار ہوگیا تو میں نے پسند نہ کیا کہ اسے جلدی میں ڈالوں (فوراً اتار دوں) حتی کہ وہ اپنا دل خوش کرلے۔
(سنن النسائی:1142، مسند الامام احمد: 16033، وسندہ حسن)
امام حاکم رحمہ اللہ (165/3) نے اسے امام بخاری اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے، نیز حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو "جید” قرار دیا ہے۔ (تلخیص المستدرک: 627/3)
اس طرح کا ایک منظر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی بیان کیا ہے، فرماتے ہیں:
كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء، فإذا سجد وثب الحسن, والحسين على ظهره، فإذا رفع رأسه، أخذهما بيده من خلفه أخذا رفيقا، ويضعهما على الأرض، فإذا عاد عادا, حتى إذا قضى صلاته، أقعدهما على فخذيه، قال: فقمت إليه، فقلت: يا رسول الله , أردهما, فبرقت برقة, فقال لهما: الحقا بأمكما، قال: فمكث ضوءها حتى دخلا.
ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز عشاء پڑھ رہے تھے نبی کریم ﷺ جب سجدے میں گئے تو حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ کود کر نبی ﷺ کی پشت مبارک پر چڑھ گئے جب نبی کریم ﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا تو انہیں اپنا ہاتھ پیچھے کرکے آہستہ سے پکڑ لیا اور انہیں زمین پر اتار دیا اور ساری نماز میں نبی کریم ﷺ جب بھی سجدے میں جاتے تو یہ دنوں ایساہی کرتے، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے اور انہیں اپنی ران پر بٹھالیا میں کھڑا ہوا اور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں ان دونوں کو چھوڑ آؤں ؟ اسی لمحے ایک روشنی کو ندی اور نبی کریم ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا اپنی امی کے پاس چلے جاؤ او وہ روشنی اس وقت تک رہی جب تک وہ اپنے گھر میں داخل نہ ہو گئے۔
(مسند احمد: 10659، دلائل النبوۃ للبیھقی: 6/76 وسندہ حسن)
ایک صحابی بیان کرتے ہیں:
أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يضم إليه حسنا وحسينا، يقول : اللهم إني أحبهما فأحبهما.
میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو گلے لگایا اور فرمایا: اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما۔
(احادیث اسماعیل بن جعفر: 314، مسند الامام احمد: 23133، وسندہ صحیح)