قربانی کے گوشت کی تقسیم کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کے گوشت کی تقسیم کا طریقہ کار

قربانی کے گوشت کی تقسیم کے طریقہ کار میں علماء کا اختلاف ہے۔

پہلا موقف:

امام شافعی اور شافعیہ کا مذہب ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جائے، قربانی کرنے والا ایک تہائی حصہ خود کھائے، ایک تہائی حصہ صدقہ کرے اور ایک تہائی حصہ کھلائے۔
فتح البارى: 34/10۔ شرح النووى: 131/3۔ نیل الأوطار: 130/5۔
ان کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:
①فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾
”پس تم قربانیوں سے کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور مانگنے والے کو کھلاؤ۔“
سورة الحج: 36
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس آیت سے مذکورہ تقسیم کا مفہوم کشید کیا ہے، لیکن یہ استدلال درست نہیں۔ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جس آیت سے امام شافعی نے قربانی کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرنے کی دلیل لی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں گوشت کو کھانے اور صدقہ کرنے کی مقدار متعین نہیں کی (بلکہ اس میں تو قربانی کا گوشت کھانے، کھلانے اور صدقہ کرنے کی ترغیب ہے)۔
المغنى مع الشرح الكبير: 110/11۔
② شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث:
كلوا وتصدقوا وأطعموا
”قربانی کا گوشت کھاؤ، صدقہ کرو اور کھلاؤ“ سے بھی مذکورہ تقسیم کے برحق ہونے کی دلیل اخذ کی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (قربانی کے گوشت سے کھلاؤ) اس اطلاق سے استدلال کیا گیا ہے کہ قربانی کے گوشت سے کھلانے کی کوئی معین مقدار کی قید نہیں بلکہ قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ قربانی کا کچھ گوشت خود کھائے اور باقی صدقہ و ہدیہ کر دے۔
فتح البارى: 34/10۔شرح النووى: 131/3۔

دوسرا موقف:

ابن عبد اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بعض علماء کا مذہب ہے کہ قربانی کا نصف گوشت کھانا اور نصف صدقہ کرنا مستحب ہے۔ اس موقف کے قائلین کی دلیل یہ آیت ہے: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾
”تم قربانیوں سے کھاؤ اور ضرورت مند فقیر کو بھی کھلاؤ۔“
سورة الحج: 28

راجح موقف:

اس مسئلے میں راجح موقف یہ ہے کہ قربانی کرنے والا قربانی کا گوشت بلا تعیینِ مقدار حسبِ منشا کھا سکتا ہے اور چاہے تو تمام گوشت صدقہ بھی کر سکتا ہے، دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نهيتكم عن زيارة القبور، فزوروها، ونهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث، فأمسكوا ما بدا لكم
”میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا سو (اب) تم ان کی زیارت کیا کرو اور میں نے تمھیں تین دن سے زائد قربانیوں کا گوشت (ذخیرہ) کرنے سے منع کیا تھا سو (اب) جتنا چاہو گوشت روک لیا کرو۔“
صحیح مسلم، کتاب الأضاحي، باب بيان ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث: 977۔ سنن نسائی، کتاب الأشربة، باب الإذن في شيء منها: 5655۔ صحیح ابن حبان: 5400۔

فوائد:

① قربانی کرنے والا جس قدر چاہے گوشت کھا سکتا اور ذخیرہ کر سکتا ہے، اور قربانی کا گوشت صدقہ کرنے اور فقراء و مساکین کے برابر کھانے کی کوئی قید نہیں ہے۔
② قاضی شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
فكلوا ما بدا لكم ”قربانی کا گوشت جتنا چاہو کھاؤ۔“ یہ الفاظ دلیل ہیں کہ قربانی کا گوشت کھانے کی کوئی خاص مقدار معین نہیں، بلکہ انسان اپنی قربانی سے جتنا جی چاہے کھا سکتا ہے، خواہ یہ مقدار زیادہ ہی ہو، بشرطیکہ ”أطعموا“ ”قربانی کا گوشت لوگوں کو بھی کھلاؤ“ اس حکم کی تعمیل ہو سکے۔
نیل الأوطار: 136/5۔
② سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني كنت حرمت لحوم الأضاحي فوق ثلاثة أيام، فكلوا، وتزودوا، وادخروا ما شئتم
”بلاشبہ میں نے تین دن سے اوپر قربانیوں کا گوشت حرام کیا تھا سو (اب) تم جتنا چاہو کھاؤ، جتنا چاہو زادِ راہ لو، جتنا چاہو ذخیرہ کرو۔“
صحیح: مسند أحمد: 57/3۔
اور ابن سیرین عن ابی سعید رضی اللہ عنہ کے طریق سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كلوا وأطعموا وادخروا ما شئتم
” (قربانیوں کا گوشت) جتنا چاہو کھاؤ، جتنا چاہو کھلاؤ اور حسبِ منشا ذخیرہ کرو۔“
صحیح : مسند احمد: 57/3۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی کے گوشت کا استعمال قربانی کرنے والے کی صوابدید پر ہے۔ اسے قربانی کا گوشت کھانے اور کھلانے کا اختیار حاصل ہے، چاہے تو زیادہ گوشت خود کھا لے اور چاہے تو گوشت کا زیادہ حصہ کھلا دے اور صدقہ کر دے، بشرطیکہ قربانی کے گوشت کے مصارف پر عمل ہو جائے۔