امام طحاوی رحمہ اللہ کا دعویٰ تنسیخ
امام طحاوی رحمہ اللہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ روایات جن میں تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کا جواز ہے، یا تو منسوخ ہو چکی ہیں یا یہ مخصوص ہیں، لہذا ان پر عمل جائز نہیں۔ یہ دعویٰ بلا دلیل ہونے کی وجہ سے باطل و مردود ہے۔
① امام نووی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ:
وزعم الطحاوي، أن هذا الحديث منسوخ أو مخصوص، وغلطه العلماء فى ذلك، فإن النسخ والتخصيص لا يثبتان بمجرد الدعوى
”طحاوی کا زعم ہے کہ مذکورہ حدیث (جس میں تمام گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کرنے کا اور انہیں قربانی میں شامل کرنے کا جواز ہے) منسوخ یا مخصوص ہے، لیکن علماء نے امام طحاوی کے اس دعویٰ کو باطل قرار دیا ہے کیونکہ کسی حکم کی تنسیخ و تخصیص خالی دعوے سے نہیں ہوتی، بلکہ تنسیخ و تخصیص کے لیے ٹھوس دلیل کا ہونا لازم ہے۔“
شرح النووی: 122/13
② عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ شارحِ ترمذی کا بیان ہے:
تضحية رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أمته وإشراكهم فى أضحية مخصوص به صلى الله عليه وسلم، وأما تضحيته عن نفسه وآله فليس بمخصوص به صلى الله عليه وسلم ولا منسوخا، والدليل على ذلك أن الصحابة رضي الله عنهم كانوا يضحون الشاة الواحدة يذبحها الرجل عنه وعن أهل بيته كما عرفت، ولم يثبت عن أحد من الصحابة التضحية عن الأمة وإشراكهم فى أضحيته البتة، وأما ما ادعاه الطحاوي فليس عليه دليل.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امت کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی میں امت کو شامل کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کرنا نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے اور نہ یہ عمل منسوخ ہے۔ (اس عمل کے جواز و مسنون ہونے کی دلیل یہ ہے کہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتے تھے، جیسا کہ یہ معروف مسئلہ ہے۔ امت کی طرف سے قربانی کرنا اور امت کے افراد کو قربانی میں شریک کرنا کسی صحابی سے ثابت نہیں نیز امام طحاوی رحمہ اللہ کا دعویٰ تنسیخ و تخصیص بے دلیل ہے۔“
تحفة الأحوذي: 69/5