اسلام میں تعدد ازواج کا حکم، شرائط، حکمتیں اور اعتراضات کا جواب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

تعدد ازواج

اسلام ایک ایسا دین ہے جو فطرت سے ہم آہنگ اور تمام مصائب و مشکلات کا علاج ہے۔ وہ انسان کو مہذب بناتا اور افراط و تفریط سے باز رکھتا ہے۔ اُس کی اس خوبی کا مشاہدہ ہم اس کے اس موقف سے کرتے ہیں، جو اس نے تعدد ازواج کے سلسلہ میں اختیار کیا ہے۔ اسلام نے انسانیت، فرد اور اجتماعیت سب کا لحاظ کرتے ہوئے مسلمان کے لیے ایک سے زائد بیویاں رکھنا جائز کر دیا ہے۔
قبل از اسلام مختلف قوموں اور ملتوں میں بکثرت عورتوں سے شادی کرنے کا رواج تھا، کبھی تو ایک شخص دس دس بیویاں کر لیتا اور کبھی یہ تعداد بلا شرط و بلا قید سینکڑوں تک پہنچ جاتی۔ لیکن جب اسلام آیا تو اس نے تعدد ازواج کے لیے قید اور شرط عائد کر دی۔ جہاں تک قید کا تعلق ہے تو اسلام نے زیادہ سے زیادہ چار بیویوں کی حد مقرر کر دی۔ چنانچہ جب غیلان ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ان کی دس بیویاں تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :
اختر منهن أربعا وفارق سائرهن
”ان میں سے کوئی سی چار بیویاں رکھ لو اور بقیہ کو چھوڑ دو۔“
مسند احمد : 2 / 14 ۔ ترمذی کتاب النکاح باب ما جاء فی الرجل یسلم وعندہ عشرۃ نسوۃ ح : 1128 ۔ ابن ماجه کتاب النکاح باب الرجل یسلم وعندہ اکثر من اربع نسوۃ ح : 1953
اسی طرح جس شخص کے پاس قبول اسلام کے وقت آٹھ یا پانچ بیویاں تھیں ان کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سے زیادہ رکھنے سے منع فرمایا۔
ابو داؤد کتاب الطلاق باب فیمن اسلم وعندہ نساء اكثر من اربع ح : 2241 ۔ ابن ماجه حوالہ سابق ح : 1952
رہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج کا مسئلہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دعوتی ضرورت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کی ضرورت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصی اجازت دے دی تھی۔

تعدد ازواج کے جواز کے لیے عدل کی شرط

تعدد ازواج کے لیے اسلام نے جو شرط عائد کی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان کو اپنے نفس پر یہ اعتماد ہو کہ وہ اپنی بیویوں کے درمیان کھانے پینے، رہنے، سونے اور خرچ کرنے کے معاملہ میں عدل کرے گا، لیکن جس شخص کو اپنے نفس پر یہ اعتماد نہ ہو کہ وہ ان حقوق کو عدل اور مساوات کے ساتھ ادا کر سکے گا تو اس کے لیے ایک سے زائد بیوی کرنا جائز نہیں ہے۔
ارشاد الہی ہے :
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً
”لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک پر اکتفاء کرلو۔“
(النساء : 3)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من كانت له امرأتان يميل لإحداهما على الأخرى جاء يوم القيامة يجر أحد شقيه ساقطا أو مائلا
”جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ صرف ایک طرف مائل ہو کر رہ جائے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک بازو گر رہا ہوگا اور وہ اسے گھسیٹ رہا ہوگا۔“
مسند احمد : 247/2 ۔ ابو داود کتاب النکاح باب فی القسم بین النساء ح : 2133 ۔ ترمذی کتاب النکاح باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر ح : 1141 ۔ نسائی کتاب عشرۃ النساء باب میل الرجل الی بعض نسائہ ح : 3394 ۔ ابن ماجه کتاب النکاح باب القسمۃ بین النساء ح : 1969
جس میلان اور جھکاؤ کے متعلق اس حدیث میں متنبہ کیا گیا ہے اس کا مطلب حقوق کے معاملہ میں کمی بیشی کرنا ہے۔ قلبی میلان مراد نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ناقابل استطاعت عدل میں داخل ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے صرف نظر فرمایا ہے :
وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ
”اور بیویوں کے درمیان تم اگر چاہو بھی تو پورا پورا عدل نہیں کر سکتے لہذا کسی ایک کی طرف جھک نہ پڑو۔“
(النساء: 129)
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب باشی وغیرہ میں عدل کرنے کے باوجود فرماتے :
اللهم هذا قسمي فيما أملك فلا تؤاخذني فيما تملك ولا أملك
”اے اللہ! جہاں تک میرے بس میں ہے یہ میری تقسیم ہے تو جو تیرے بس میں ہے اور میرے بس میں نہیں ہے اس پر میری گرفت نہ فرما۔“
ابو داود کتاب النکاح باب فی القسم بین النساء ح : 2134 ۔ ترمذی کتاب النکاح باب ما جاء فی التسویۃ بین الضرائر ح : 1140 ۔ نسائی کتاب عشرۃ النساء باب میل الرجل الی بعض نسائہ، حدیث 3395 ۔ ابن ماجه کتاب النکاح باب القسمۃ بین النساء ح : 1971
یعنی کسی ایک بیوی کی طرف جو جذباتی اور قلبی میلان ہو جاتا ہے وہ انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا اسی سلسلہ میں تھی۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ ڈالتے جس کے حق میں قرعہ نکل آتا اس کو ہم سفر بنا لیتے۔
بخاری کتاب النکاح باب القرعة بین النساء اذا اراد سفراً ح : 5211 ۔ مسلم کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل ام المؤمنین عائشۃ رضي اللہ عنہا ح : 2445
یہ طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلوں کی خلش کو دور کرنے اور سب کو خوش رکھنے کے لیے اختیار فرمایا تھا۔

تعدد ازواج کے جواز کی مصلحت

اسلام اللہ کا آخری دین ہے جس پر سلسلہ رسالت ختم ہو جاتا ہے اس لیے اسلامی شریعت بھی دائمی اور ہمہ گیر ہے جو تمام زمانوں اور تمام انسانوں کے لیے ہے۔ اس میں افراد اور گروہوں کی مجبوریوں اور ضرورتوں نیز ان کی مصلحتوں کا پورا پورا لحاظ کیا گیا ہے۔
بعض مردوں کو اولاد سے زبردست رغبت ہوتی ہے لیکن وہ عورت کے بانجھ یا بیمار ہونے کی وجہ سے اولاد سے محروم رہتے ہیں۔ کیا ایسی صورت میں اس عورت کے لیے باعزت اور اس شخص کے لیے بہتر طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ پہلی بیوی کو اپنے پاس رکھتے ہوئے اور اس کے حقوق ادا کرتے ہوئے دوسری بیوی سے شادی کرلے تاکہ اس کی اولاد کی خواہش پوری ہو ؟
بعض مردوں کی قوت باہ شدید ہوتی ہے اور ان پر شہوت کا غلبہ ہوتا ہے، لیکن بیوی کو مرد سے رغبت نہیں ہوتی ، یا وہ بیمار ہوتی ہے یا اس کے حیض کی مدت طویل ہوتی ہے اور مرد عورت کے معاملہ میں زیادہ صبر نہیں کر سکتا۔ تو کیا ان صورتوں میں کسی گرل فرینڈ (Girl Friend) کو تلاش کرنے کی بجائے دوسری بیوی کر لینا بہتر نہ ہوگا؟
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلہ میں بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور سے جنگ کے ایام میں تو کتنے ہی ممتاز افراد اور نوجوانوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر سماج کی مصلحت اور خود عورتوں کی مصلحت کا یہی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ عمر بھر زوجیت کی زندگی سے محروم اور کنواری بڑھیا بن کر رہ جانے کے مقابلہ میں سوکن کی حیثیت سے رہنے کو ترجیح دیں کہ یہ سکون، مودت اور پاکدامنی کی زندگی ہے اور اس طرح اسے ماں بن جانے کا شرف بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ اور درحقیقت ایسی ہی زندگی ان کی فطرت کی آواز ہے۔
نکاح کی استطاعت رکھنے والے مردوں کی تعداد کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد جب بڑھ جائے تو وہ تین میں سے کوئی ایک صورت اختیار کر سکتی ہیں:
یا تو وہ پوری عمر محرومی کی تلخیوں میں گزار دیں۔
یا ان کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ مردوں کے لیے کھیل تماشا بن جائیں۔
یا یہ کہ ان کا نکاح ایسے شادی شدہ مردوں کے ساتھ جائز قرار دیا جائے جو نفقہ ادا کرنے پر قادر ہوں اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کر سکتے ہوں۔
بے شک یہی آخری راستہ ہی ایک عادلانہ حل اور نسخہ شفاء ہے۔ اور اسلام نے اس کا حکم دیا ہے :
وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۠
”جو لوگ اللہ پر یقین کرنے والے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہوسکتا ہے۔“
(المائدة: 50)
یہ ہے تعدد ازواج کی حقیقت و حکمت جس کے سلسلہ میں مسیحی مغرب مسلمانوں پر اعتراض کرتا ہے جبکہ ان لوگوں کا اپنا حال یہ ہے کہ انہوں نے مردوں کے لیے تعدد معشوقات اور تعدد محبوبات کو بلا تحدید اور کسی قسم کی قانونی یا اخلاقی پابندی کو تسلیم کیے بغیر جائز کر لیا ہے۔ اس لادینی اور فحاشی کا ثمر انہیں جس (حرام) اولاد کی شکل میں مل رہا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر غور فرمائیے کہ کسی گروہ کی بات وزنی ہے اور کون راہِ راست پر گامزن ہے؟