تمام اہل خانہ کی طرف سے ایک قربانی کا حکم احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

تمام اہل خانہ کی طرف سے ایک قربانی

ایک گھرانہ ایک قربانی:

قربانی تنہا فرد کی طرف سے کفایت کرے گی یا تمام اہل خانہ کی طرف سے ایک قربانی کافی ہے؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”شافعیہ اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ گھر کے سر پرست سمیت تمام اہل خانہ کا ایک قربانی کرنا اور تمام اہل خانہ کا ایک قربانی میں شریک ہونا جائز ہے۔“
شرح النووی: 122/13
② ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ولا بأس أن يذبح الرجل عن أهل بيته شاة واحدة أو بقرة أو بدنة، نص عليه أحمد وبه قال مالك والليث والأوزاعي وإسحاق، وروي ذلك عن ابن عمر وأبي هريرة
”آدمی اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری، گائے یا اونٹ ذبح کر سکتا ہے، (اس میں کچھ مضائقہ نہیں) امام احمد رحمہ اللہ نے اس جواز پر نص بیان کی ہے اور مالک، لیث، اوزاعی اور اسحاق رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، نیز ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے۔“
المغني لابن قدامة والشرح الكبير: 98/11
③ سفیان ثوری، ابوحنیفہ اور احناف رحمہ اللہ نے تمام اہل خانہ کی طرف سے ایک قربانی کو مکروہ قرار دیا ہے، ان کے مطابق ہر فرد کی طرف سے علیحدہ قربانی کی جائے گی اور ایک قربانی ایک فرد ہی کی طرف سے کافی ہوتی ہے، ایک قربانی میں ایک سے زائد افراد شامل نہیں ہو سکتے خواہ وہ گھر کے افراد ہوں یا اجنبی ہوں۔
شرح النووی: 122/13
④ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
وكره ذلك الثوري وأبو حنيفة لأن الشاة لا تجزئ عن أكثر من واحد، فإذا اشترك فيها اثنان لم تجزئ عنهما كالأجنبيين
”سفیان ثوری اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس عمل (تمام اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرنا) کو مکروہ خیال کیا ہے، اس لیے کہ (ان کے نزدیک) ایک بکری ایک سے زائد افراد کی طرف سے ناکافی ہے چنانچہ جب دو فرد ایک بکری کی قربانی میں شریک ہوں گے تو وہ ان دو افراد سے کفایت نہیں کرے گی، جیسے (اجنبی افراد کی طرف سے ایک بکری ناکافی ہے)“۔
المغني لابن قدامة والشرح الكبير: 98/11
وقال الهادي والقاسم، تجزي الشاة عن ثلاثة
”ہادی اور قاسم کہتے ہیں کہ بکری فقط تین افراد سے کفایت کرتی ہے۔“

راجح موقف:

جمہور علماء کا موقف رائج ہے کہ گھر کے سرپرست سمیت تمام اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری (یا مینڈھا، اونٹ اور گائے کا ایک حصہ) کافی ہے۔ خواہ اہل خانہ کی تعداد سو نفوس پر مشتمل ہو۔
دلائل حسبِ ذیل ہیں:
① سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضحي بالشاة الواحدة عن جميع أهله
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری قربانی کیا کرتے تھے۔
صحيح بخاري، كتاب الأحكام، باب بيعة الصغير: 7210. مستدرک حاکم: 229/4. سنن بیهقی: 79/6. مسند أحمد: 233/4
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن، يطأ فى سواد، ويبرك فى سواد وينظر فى سواد، فأتي به ليضحي به قال لعائشة: هلمي المدية، ثم قال: اشحذيها بحجر، ففعلت ثم أخذها، وأخذ الكبش فأضجعه، ثم ذبحه، ثم قال: باسم الله، اللهم تقبل من محمد وآل محمد، ومن أمة محمد، ثم ضحى به
بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا، سیاہی میں بیٹھتا اور سیاہی میں دیکھتا تھا، چنانچہ اس کو ذبح کرنے کے لیے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”چھری تیز کرو۔“ انہوں نے چھری تیز کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی اور مینڈھے کو پکڑ کر لٹایا اور اسے ذبح کرنے لگے۔ پھر یہ کلمات کہے: ”بسم اللہ، اے اللہ! محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذبح کیا۔
صحیح مسلم، كتاب الأضاحي، باب استحباب استحسان الضحية: 1967. سنن أبي داود، كتاب الضحايا، باب ما يستحب من الضحايا: 2792. مسند أحمد: 78/6م۔ سنن بیهقی: 267/9

فوائد:

① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
واستدل بهذا من جوز تضحية الرجل عنه وعن أهل بيته، واشتراكهم معه فى الثواب، وهو مذهبنا ومذهب الجمهور
”اس حدیث سے ان علماء نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ آدمی کا اپنی طرف سے، اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرنا اور انہیں ثوابِ قربانی میں شریک کرنا جائز ہے، ہمارا (شافعیہ) اور جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔“
نیل الأوطار: 122/13
② حافظ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
قوله من محمد وآل محمد ومن أمة محمد، فيه دليل على أن الشاة الواحدة تجزئ عن الرجل وعن أهله، وإن كثروا
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما، دلیل ہے کہ آدمی اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری کافی ہے، خواہ ان کی تعداد زیادہ ہی ہو۔“
عون المعبود: 23/8
③ عطا بن یسار ہلالی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سألت أبا أيوب الأنصاري كيف كانت الضحايا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: كان الرجل فى عهد النبى صلى الله عليه وسلم يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته، فيأكلون ويطعمون، ثم تباهى الناس، فصار كما ترى
میں نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قربانیوں کی کیا کیفیت تھی؟ (یعنی گھر کے لوگ کتنی قربانیاں کرتے تھے) اس پر انہوں نے بتایا کہ عہدِ نبوت میں آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتا تھا۔ وہ اس قربانی سے خود بھی کھاتے اور (دوسرے لوگوں کو بھی) کھلاتے تھے پھر لوگوں میں فخر و مباہات میں مقابلہ بازی شروع ہو گئی اور (زیادہ قربانیاں کرنے کی) جو روش چل پڑی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو۔
صحيح: جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب ما جاء أن الشاة الواحدة تجزئ عن أهل البيت: 1505، سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، باب من ضحى بشاة عن أهله: 3147۔ سنن بیهقی: 26/9۔ طبراني كبير: 3822

فوائد:

عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
وهو نص صريح فى أن الشاة الواحدة تجزئ عن الرجل وعن أهل بيته، وإن كانوا كثيرين، وهو الحق
”یہ حدیث صریح نص ہے کہ آدمی اور اس کے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کفایت کرتی ہے خواہ ان کی تعداد زیادہ ہی ہو اور یہی بات قرینِ صواب ہے۔“
تحفة الأحوذي: 68/5
④ سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
حملني أهلي على الجفاء بعد ما علمت من السنة، كان أهل البيت يضحون بالشاة والشاتين والآن يبخلنا جيراننا
”(قربانی کے بارے میں) سنت کا علم ہونے کے باوجود میرے گھر والوں نے مجھے سنت سے بے رغبتی پر لاچار کیا ہے، (عہدِ رسالت میں) تمام گھر والے ایک یا دو بکریاں ذبح کرتے تھے، لیکن اب (اس سنت پر عمل کرنے پر) ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل سمجھتے ہیں۔“
صحيح: سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحي، باب من ضحى بشاة: 3148۔ مستدرک حاکم: 228/4۔ سنن بیهقی: 269/9۔ طبراني كبير: 2987۔ ابن ماجہ، بیہقی اور طبرانی کبیر کی سند میں سفیان ثوری کی تدلیس ہے لیکن مستدرک حاکم کی سند میں زائدہ بن قدامہ ثقہ راوی ہیں اور یہ سند صحیح ہے۔

فوائد:

① شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
المذهب الحق هو أن الشاة الواحدة تجزئ عن أهل البيت لأن الصحابة كانوا يفعلون فى عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
”راجح مذہب یہ ہے کہ ایک بکری تمام گھر والوں کی طرف سے قربانی میں کفایت کرتی ہے کیونکہ عہدِ رسالت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہی عمل کیا کرتے تھے۔“
عون المعبود: 22/8
② شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
والحق أنها تجزئ عن أهل البيت وإن كانوا مائة نفس أو أكثر كما قضت بذلك السنة
”برحق مسئلہ یہ ہے کہ ایک بکری تمام اہل خانہ کی طرف سے کافی ہے خواہ گھر کے افراد سو نفوس پر مشتمل ہوں جیسا کہ سنت اس کے جواز کی متقاضی ہے۔“
نیل الأوطار: 128/5