حلال و حرام کی پہچان اور اصل اباحت کا اسلامی اصول

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

حلال و حرام کی پہچان

تعریف حلال :

مباح یا غیر ممنوع وہ ہے جس کے کرنے کی شارع نے اجازت دی ہو۔

تعریف حرام :

وہ جس کی شارع نے قطعی طور پر ممانعت کی ہو اور جس کی خلاف ورزی کرنے والا آخرت میں سزا کا مستحق ہو اور بعض صورتوں میں دنیا میں بھی اس کے لیے سزا مقرر ہو۔

تعریف مکروہ :

وہ جس سے شارع نے روکا ہو لیکن سختی کے ساتھ اس کی ممانعت نہ کی ہو یہ درجہ میں حرام سے کم تر ہے۔ اور اس کا ارتکاب کرنے والا اس سزا کا مستحق نہیں ہوتا جس سزا کا مستحق حرام کا ارتکاب کرنے والا ہوتا ہے البتہ اس کی مسلسل خلاف ورزی اور بے وقعتی کرنے والا، حرام کی سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔
اہل جاہلیت جن بہت سی باتوں میں گمراہی کا شکار ہو گئے تھے ان میں سے ایک حلال و حرام کا معاملہ بھی تھا، جس میں وہ اس طرح الجھ گئے کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر بیٹھے۔ اور اس مسئلے میں مشرکین اور اہل کتاب دونوں کا طرز عمل یکساں تھا، مگر مختلف مذاہب کی گمراہی دو انتہاؤں پر تھی۔ ایک انتہاء وہ جس پر ہندوستانی برہمنیت، مسیحی رہبانیت اور وہ مذہبیت تھی جس کے نزدیک جسم کو اذیت دینا روا (درست و جائز) تھا اور جس نے اچھے رزق اور زینت کی چیزوں کو حرام کر دیا تھا اور بعض راہبوں کے نزدیک تو پاؤں دھونا اور حمام میں داخل ہونا بھی باعث گناہ تھا۔
دوسری انتہاء پر فارس کا مزدک مذہب تھا، جس نے مکمل اباحیت کا نعرہ بلند کیا۔ اس مذہب میں ہر چیز جائز تھی، یہاں تک کہ عزت و حرمت بھی جس کو انسان فطرتاً مقدس مانتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عربوں نے حلت و حرمت کا بالکل غلط معیار قائم کر رکھا تھا۔ چنانچہ ان کے نزدیک شراب نوشی، سود خواری، عورتوں سے بدسلوکی اور قتل اولاد جیسی غلط کاریاں کرنا بالکل جائز تھیں۔ انہوں نے قتل اولاد جیسے شنیع فعل کو خوشنما بنانے کے لیے کچھ باتیں اپنے پاس سے گھڑ لی تھیں، جن کو وجہ جواز بنا کر پیش کرتے تھے۔ مثلاً : فقر و فاقہ کا اندیشہ، لڑکی کی پیدائش کا باعث عار ہونا اور اپنے معبودوں کے تقرب کے لیے اولاد کو بھینٹ چڑھانا وغیرہ۔ عجیب حالت یہ تھی کہ ایک طرف انہوں نے اپنے جگر گوشوں کو قتل کرنا بالکل جائز کر لیا تھا اور دوسری طرف انہوں نے کھیت اور چوپائے جیسی بہت سی حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کر لی تھیں۔ اور طرفہ تماشا یہ کہ اس حلت و حرمت کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے دینی حیثیت دے ڈالی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی ان افتراء پردازیوں کو یکسر باطل قرار دیا :
وَقَالُوا هَٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَّا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَن نَّشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
وہ کہتے ہیں یہ چوپائے اور یہ کھیت ممنوع ہیں، ان کو صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں اپنے زعم کے مطابق اور کچھ چوپائے ایسے ہیں جس کی پشتیں (سواری کے لیے) حرام کر دی گئی ہیں اور کچھ چوپایوں پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے، اس پر افتراء کرتے ہوئے۔ اللہ عنقریب انہیں اس افتراء پردازی کا بدلہ دے گا۔
(سورۃ الانعام : 138)
اسلام آیا تو یہ گمراہی اور حلال و حرام کے معاملہ میں یہ بے راہ روی موجود تھی۔ اسلام نے اس کی اصلاح کی طرف توجہ کی اور پہلا قدم یہ اٹھایا کہ تشریع کے اصول مقرر کیے اور ان کو حلت و حرمت کی اساس بنایا۔ جس کے نتیجہ میں اعتدال و توازن پیدا ہوا اور عدل کا صحیح معیار قائم ہوا نیز اس کی بدولت امت مسلمہ گمراہی اور انحراف کی راہ اختیار کرنے والے دائیں اور بائیں گروہوں کے درمیان امت وسط (اعتدال پر قائم رہنے والی امت) قرار پائی جسے اللہ تعالیٰ نے خیر امت کے لقب سے نوازا۔
(سورۃ آل عمران : 110)

تمام اشیاء اصلاً مباح ہیں :

اسلام نے جو پہلا اصول مقرر کیا، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ تمام چیزیں اصلاً حلال اور مباح ہیں۔ حرام صرف وہ چیزیں ہیں جن کی حرمت کے بارے میں صحیح اور صریح نص شرعی وارد ہوئی ہے۔ لہذا اگر صحیح نص موجود نہ ہو، بلکہ ضعیف ہو یا حرمت پر صریح طور سے دلالت نہ کرتی ہو، تو اصل اباحت برقرار رہے گی۔
علمائے اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ تمام اشیاء اور نفع بخش چیزیں اصلاً مباح اور جائز ہیں۔ ان کا استدلال قرآن کی درج ذیل آیات سے ہے :
هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کر دیں۔
(سورۃ البقرہ : 29)
وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ
اس نے تمہارے لیے آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اپنی طرف سے مسخر کر دیں۔
(سورۃ الجاثیہ : 13)
أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً
تم نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کی ہیں اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں کا اتمام کیا ہے؟
(سورۃ لقمان : 20)
اللہ تعالیٰ نے ان سب نعمتوں کو انسان کے لیے مسخر کر کے اس پر احسان فرمایا ہے لہذا یہ کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ وہ ان نعمتوں میں سے اکثر کو حرام ٹھہرا کر ان کے استفادہ سے انہیں محروم کرے گا؟ امر واقع یہ ہے کہ اس نے چند چیزوں کو حرام کیا ہے اور وہ بھی کسی خاص سبب یا مصلحت کی بنا پر جس کا ذکر ہم بعد میں کریں گے۔ گویا اسلامی شریعت میں محرمات کا دائرہ بہت محدود ہے۔ اس کے برعکس حلال کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حرمت کے احکام پر مشتمل نصوص جو صحیح بھی ہوں اور صریح بھی بہت کم ہیں۔ اور باقی تمام چیزیں، جن کی حلت یا حرمت کے بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی ہے اصلاً مباح ہیں اور ان کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گرفت نہیں ہے۔ حدیث میں آیا ہے :
ما احل الله فى كتابه فهو حلال وما حرم فهو حرام وما سكت عنه فهو عفو، فاقبلوا من الله عافيته فإن الله لم يكن ينسى شيئا وتلا وما كان ربك نسيا
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس کو حلال ٹھہرایا ہے وہ حلال ہے اور جس کو حرام ٹھہرایا ہے وہ حرام ہے اور جن چیزوں کے بارے میں سکوت فرمایا ہے وہ معاف ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی اس فیاضی کو قبول کرو کیونکہ اللہ سے بھول چوک کا صدور نہیں ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ مریم کی آیت تلاوت فرمائی : اللہ سے کبھی بھول سرزد نہیں ہوتی۔
مستدرک حاکم : 375/2 – مسند البزار : 123117 – السنن الکبری للبیہقی : 10/12
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن السمن والجبن والفراء فقال: الحلال ما احل الله فى كتابه والحرام ما حرم الله فى كتابه وما سكت عنه فهو مما عفا لكم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی، پنیر اور گورخر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال ٹھہرایا ہے۔ اور حرام وہ ہے جسے اس نے اپنی کتاب میں حرام ٹھہرایا ہے۔ رہیں وہ چیزیں جن سے سکوت اختیار فرمایا ہے تو وہ معاف ہیں۔
ترمذی کتاب اللباس : باب ماجاء في لبس الفراء 1726 ، ابن ماجہ کتاب الاطعمہ باب اکل الجبن والسمن ح 3367 حسنہ الالبانی فی صحیح سنن الترمذی 1410 والحدیث السابق شاہد لہ
اس سے واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزئیات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا، بلکہ ایک ایسا قاعدہ بیان فرمایا کہ جس سے حلال و حرام میں بآسانی تمیز کی جاسکتی ہے۔ اس کے پیش نظر یہ جان لینا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے جو چیزیں ان کے ماسوا ہیں وہ آپ ہی حلال و طیب قرار پاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الله فرض فرائض فلا تضيعوها وحد حدودا فلا تعتدوها، وحرم أشياء فلا تنتهكوها وسكت عن أشياء رحمة بكم من غير نسيان فلا تبحثوا عنها
اللہ نے فرائض کو لازم کیا ہے لہذا انہیں ضائع نہ کرو اور حدود مقرر کر دیئے ہیں لہذا ان سے تجاوز نہ کرو۔ جن چیزوں کو اس نے حرام ٹھہرایا ہے ان کی بے حرمتی نہ کرو۔ اور جن چیزوں کے بارے میں اس نے دانستہ سکوت اختیار فرمایا ہے تو یہ سکوت تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔ لہذا ایسی چیزوں کے بارے میں بحث میں نہ پڑو۔
سنن الدارقطنی : 183/4-184 ، السنن الکبری للبیہقی : 10/12-13
یہاں یہ واضح کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مباح الاصل ہونے کا دائرہ اشیاء و اعیان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس میں واقعات و تصرفات بھی شامل ہیں، جو عبادات کے قبیل سے نہیں ہیں، اور جن کو اصطلاحاً عادات و معاملات کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد :
وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ
اس نے وہ چیزیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں جو تم پر حرام ٹھہرائی ہیں۔
(سورۃ الانعام : 119)
اشیاء اور افعال دونوں کو شامل ہے۔ البتہ عبادات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ان دینی امور کا علم جاننا، وحی کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور ان ہی امور کے متعلق حدیث میں آیا ہے :
من أحدث فى أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
جو شخص ہمارے (دین کے) معاملے میں کوئی نئی بات نکالے جو اس سے متعلق نہیں، وہ قابل رد ہے۔
بخاری کتاب الصلح باب اذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود ح : 2697 ، مسلم کتاب الاقضیہ باب نقض الاحکام الباطلہ ح : 1718
اس کی وجہ یہ ہے کہ دین دو حقیقتوں اور طریقوں پر مشتمل ہے :
◈ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
◈ اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اسی طریقہ پر کی جائے جو اُس نے مشروع فرمایا ہے۔ لہذا جو شخص بھی اپنی جانب سے عبادت کا نیا طریقہ نکالے خواہ وہ کوئی شخص ہو وہ لازماً گمراہی اور ضلالت ہے جسے رد کیا جانا چاہیے۔ حقیقتاً عبادت کے طور طریقے جو تقرب الہی کا ذریعہ ہیں، مقرر کرنے کا حق شارع اور صرف شارع کو حاصل ہے۔ البتہ عادات و معاملات کی نوعیت اس سے مختلف ہے۔ ان طور طریقوں کو شارع نے نہیں بلکہ لوگوں نے قائم کیا ہے جس کے مطابق وہ عمل درآمد کرتے رہتے ہیں۔ شریعت تو ان کی تصحیح و تہذیب اور ان میں اعتدال و توازن پیدا کرنے کا کام انجام دیتی رہی ہے اور جن باتوں (رسوم و رواج) میں کوئی خرابی اور ضرر (نقصان) نہیں تھا ان کو شریعت نے برقرار رکھا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اقوال و افعال میں بندوں کے تصرف کی دو قسمیں ہیں۔
(1) ایک قسم عبادات کی ہے جن سے دینی حالت درست ہوتی ہے۔
(2)اور دوسری قسم عادات کی ہے جن کی ضرورت دنیوی معاملات میں ہوتی ہے۔
شریعت کے اصول کا عمومی اور ایک نظر میں طائرانہ مطالعہ کرنے سے یہ قاعدہ کلیہ ابھر کر سامنے آتا ہے کہ عبادات جن کو اللہ تعالیٰ نے واجب یا مستحب ٹھہرایا ہے ان کی یہ حیثیت شریعت ہی سے ثابت ہو سکتی ہے۔ رہیں عادات تو دنیا کے معاملات میں لوگ ضرورتاً ان کے عادی ہوتے ہیں اور وہ اصلاً مباح ہیں۔ اس لیے جن چیزوں کو اللہ نے ممنوع قرار دیا ہے ان کے علاوہ کسی اور چیز کو ممنوع نہیں قرار دیا جا سکتا۔ امر و نہی کا معاملہ در حقیقت قانون الہی سے متعلق ہے۔ اور عبادت کا معاملہ بھی سراسر اسی کے حکم پر موقوف ہے لہذا جس بات کا حکم اس کی طرف سے نہیں ملا اس پر ممانعت کا حکم کیسے لگایا جاسکتا ہے؟
اسی لیے امام احمد رحمہ اللہ اور دیگر فقہائے اہل حدیث رحمہ اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ عبادات اصلاً توفیقی (جن کا علم وحی کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے) ہیں۔ لہذا مشروع وہ ہے جسے اللہ کریم نے مشروع کیا ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہم پر صادق آئے گا :
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ
کیا ان کے لیے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کے وہ طریقے گھڑ لیے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟
(سورۃ الشوری : 21)
البتہ عادات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ اصلا مباح ہیں، اس لیے اس قبیل کی محض ان چیزوں سے روکنا چاہیے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھهرایا ہے۔ بصورت دیگر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہم پر صادق آئے گا :
قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَّا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا
کہو! تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ نے جو رزق تمہارے لیے نازل فرمایا ہے اس میں سے کسی کو تم نے حرام اور کسی کو حلال ٹھہرایا؟
(يونس : 59)
یہ نہایت ہی اہم اور مفید اصول ہے اور اسی اصول کے پیش نظر ہم کہتے ہیں کہ بیع، ہبہ، اجارہ وغیرہ عادات کے قبیل سے ہیں، جن کی طرف لوگ روز مرہ کی زندگی میں ضرورت مند ہوتے ہیں، مثلاً : کھانا پینا اور لباس۔ شریعت نے ان عادات کو آداب حسنہ سے سنوارا ہے۔ اور جن عادات میں خرابی تھی ان کو حرام ٹھہرایا۔ اور جو ضرورت کے قبیل سے تھیں ان کو لازم کر دیا۔ اسی طرح جو عادات نا مناسب تھیں ان کو ناپسندیدہ ٹھہرایا۔ اور جن باتوں میں مصلحت کا پہلو غالب تھا ان کو مستحب قرار دیا۔
اس حقیقت کے پیش نظر لوگ اپنی مرضی کے مطابق لین دین اور اجرت پر معاملہ کرنے کے لیے آزاد ہیں، جب تک کہ شریعت سے کسی چیز کی حرمت ثابت نہ ہو جائے۔ اس کی مثال خورد و نوش ہے کہ لوگ محرمات کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق کھاپی سکتے ہیں۔ اگر چہ بعض چیزیں استحباب اور بعض چیزیں کراہت کے درجہ میں ہوتی ہیں۔ لیکن جب تک شریعت پابندی عائد نہ کرے وہ اپنی اصل اطلاقی (اباحت اصلیہ کی) حالت پر باقی رہتی ہیں۔
(تالیف ابن تیمیہ رحمہ اللہ ص : 112-113)
اس اصول کی تائید صحیح حدیث سے ہوتی ہے جو سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كنا نعزل والقرآن ينزل، فلو كان شيء ينهى عنه لنهى عنه القرآن
ہم عزل کیا کرتے تھے درآنحالیکہ قرآن نازل ہو رہا ہوتا۔ اگر کوئی بات ایسی ہوتی جس کی ممانعت کی جانی چاہیے تھی، تو قرآن اس سے منع کرتا۔
(بخارى كتاب النكاح، باب العزل، ح : 5207 ۔ 5208 ، مسلم، كتاب النكاح، باب حكم العزل، ح: 1440 واللفظ له)
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جس چیز کے بارے میں وحی نے سکوت اختیار کیا ہے وہ نہ تو حرام ہے اور نہ اس سے روکا گیا ہے۔ ایسی تمام چیزیں لوگوں کے لیے جائز ہیں جب تک کہ ممانعت پر دلالت کرنے والی کوئی نص سامنے نہ آجائے۔ اس معاملہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا فہم ان کے کمال تفقہ کی علامت ہے۔ الغرض اس سے اسلام کے مہتم بالشان اصول کا تعین ہو جاتا ہے کہ عبادت وہی مشروع ہے جسے اللہ کریم نے مشروع کیا ہے اور عادات سے متعلق کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حرام کرنے کے بغیر حرام نہیں ہوتی۔