قبروں پر مسجد بنانے کی ممانعت صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

قبر پر مسجد بنانے والوں پر اللہ کی لعنت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبيائهم مساجد“
اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔
صحيح بخاري كتاب الجنائز : باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور (حديث 1330) صحيح مسلم كتاب المساجد : باب النهي عن بناء المسجد على القبور (حديث 529)
❀ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
”لولا خلك لابرز قبره ولكن خشي ان يتخذ مسجدا“
اگر عبادت گاہ بن جانے کا خدشہ نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مکرمہ کو ظاہر کر دیا جاتا۔
بخاری و مسلم (حوالہ سابق)
صحیح مسلم میں درج ذیل حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پانچ روز قبل فرمایا:
”ان من كان قبلكم كانوا يتخذون القبور مساجد الا فلا تتخذوا القبور مساجد فاني انهاكم عن ذلك“
تم سے پہلی قومیں قبور کو عبادت گاہ بنا لیا کرتی تھیں۔ خبردار! تم ایسا ہرگز نہ کرنا، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔
صحيح مسلم كتاب المساجد : باب النهي عن بناء المسجد على القبور (حديث 532)
صحیحین میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:
”لما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم طفق يطرح خميصة له على وجهه فاذا اغتم كشفها فقال وهو كذلك لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبيائهم مساجد يحذر مثل ما صنعوا“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آثار وفات ظاہر ہوئے تو آپ شدت تکلیف کی وجہ سے اپنی چادر کو بار بار اپنے چہرہ انور پر ڈال لیتے۔ جب ذرا افاقہ ہوتا تو فرماتے: یہود و نصاریٰ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔ آپ ان کے اس عمل بد سے ڈرا رہے تھے۔
صحيح بخاري كتاب الصلاة : باب (55) (حديث 434) صحيح مسلم كتاب المساجد : باب النهي عن بناء المسجد على القبور (حديث 529)
صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
قاتل الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد
”اللہ تعالیٰ یہود و نصاری کو تباہ کرے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔ “
صحيح بخاري كتاب الصلاة : باب (55) (حديث : 437) صحیح مسلم المساجد : باب النهي عن بناء المسجد على القبور (حديث : 530)
ایک روایت میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں:
لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد
”اللہ نے یہود و نصاری پر لعنت کی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔ “
صحیح مسلم (حواله سابق)

بزرگان دین کی تصویریں بنانے اور آویزاں کرنے والے لوگ

صحیحین میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام المومنین ام حبیبہ اور ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے حبشہ کے ایک کنیسہ کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کیا جس میں بہت سی تصاویر تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ان اولئك اذا كان فيهم الرجل الصالح فمات بنوا على قبره مسجدا وصوروا فيه تلك التصاوير واولئك شرار الخلق عند الله يوم القيامة“
یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان میں سے کوئی صالح شخص فوت ہو جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے پھر اس میں اس کی تصویر لٹکا دیتے۔ قیامت کے روز یہ لوگ اللہ کے ہاں شریر ترین شمار ہوں گے۔
صحیح بخارى كتاب الصلاة : باب الصلاة في البيعة (حديث : 434، 427) مسلم کتاب المساجد : باب النهي عن بناء المسجد على القبور (حدیث : 538)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں بہت سی احادیث مروی ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
”ان من شرار الناس من تدركهم الساعة وهم احياء والذين يتخذون القبور مساجد“
شریر ترین وہ لوگ ہوں گے جو زندہ ہوں گے اور قیامت برپا ہو جائے گی۔ اور وہ بھی جو قبروں کو عبادت گاہ بنا لیتے ہیں۔
مسند احمد (1/ 435، 405 )و صحیح ابن حبان (340) و علقه البخاري في كتاب الفتن باب ظهور الفتن (حديث : (7067) مختصراً